مضامین

نواز شریف کادورہ چین تر جیحات کیا ؟

نواز شریف کادورہ چین تر جیحات کیا ؟

سلمان عابد
پاکستان میں حکمران طبقات کا ہمیشہ سے یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے غیر ملکی دوروں کی کامیابی کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، بلکہ بعض حکمران تو اپنے غیر ملکی دوروں کو اپنے ملک کی کامیابی سے زیادہ اپنی ذات کی کامیابی کے طور پر پیش کرکے لوگوں سے داد حاصل کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ دراصل حکمران طبقات کے سامنے غیر ملکی دوروں کے پس پشت تین مقاصد کارفرما ہوتے ہیں۔ (1) غیر ملکی دورے معمول کا حصہ ہوتے ہیں، جن میں حکمران ایک دوسرے کے ملکوں کا دورہ کرکے باہمی ہم آہنگی کے عمل کو آگے بڑھاتے ہیں۔ (2) جو لوگ حکمران بنتے ہیں ان کا اصل ہدف بڑے طاقت ور ملکوں کے سامنے اپنی سیاسی ساکھ کو بحال کرنا یا قائم کرنا ہوتا ہے۔ (3) حکمران طبقہ چاہتا ہے کہ وہ غیر ملکی دوروں کی مدد سے اپنے ملک کے لیے مالی امداد یا معاشی منصوبوں کو سامنے لاکر ترقی کے عمل کو آگے بڑھائے۔ انہی مفادات کے تناظر میں پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کا دورہ چین بھی دیکھنا چاہیے۔
پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کا دورہ چین ایسے موقع پر ہوا ہے جب پاکستان اندرونی محاذ پر شدید بحران کا شکار ہے۔بحران کی اس کیفیت میں نوازشریف کی کوشش ہے کہ وہ ایسے منصوبوں کو چین کی حکومت کے ساتھ سامنے لائیں جو ان کی حکومت کی ساکھ کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں۔ اسی طرح نوازشریف کی کوشش تھی کہ وہ چین کی حکومت میں پاکستان کے بارے میں اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھائیں اور ثابت کریں کہ پاکستان چین سے مضبوط دوستی کا خواہاں ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں صاف

کہا جاسکتا ہے کہ اس کا زیادہ تر انحصار امریکہ پر ہے۔ چین سمیت دیگر بڑی طاقتوں کو بھی اندازہ ہے کہ اگرچہ پاکستان ہم سے دوستی کا بہت زیادہ بھرم رکھتا ہے، لیکن امریکی پالیسیوں کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بہت زیادہ فوقیت دی جاتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں چین کے بار ے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہی ہمارا سب سے بڑا دوست ہے۔ اس کے برعکس امریکہ جس پر ہماری حکومت کا بہت زیادہ انحصار ہوتا ہے، اس کے بارے میں بہت زیادہ لوگوں میں بداعتمادی اور نفرت نظر آتی ہے۔ پاکستان نے ماضی میں چین کے ساتھ کئی طرز کے سیاسی، سماجی، معاشی اور تجارتی معاہدے کیے، لیکن ان تمام معاہدوں میں اعتماد کا فقدان غالب رہا۔ چین کو دہشت گردی کے تناظر میں بھی پاکستان کے اندر بہت زیادہ مسائل درپیش رہے اور کئی چینی انجینئر بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے جس سے تعلقات میں خرابیاں بھی پیدا ہوئیں۔ لیکن اب پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کے بقول انھوں نے چین کا دورہ کرکے ایک نئے سیاسی سفر کا آغاز کیا ہے۔ ان کے بقول چین اور پاکستان کے تعلقات میں لوگوں کو اب ایک نمایاں فرق نظر آئے گا۔
نوازشریف نے اپنے دورہ چین میں اقتصادی تعاون کے تناظر میں آٹھ معاہدے کیے ہیں جن میں دو ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے، میٹرولائٹ ٹرین، بلٹ ٹرین، دہشت گردی اور علیحدگی پسندوں کے خلاف تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔18ارب ڈالر سے راہداری کی 200کلومیٹر سرنگیں تعمیر ہوں گی اور راولپنڈی سے خنجراب تک آپٹک فائبرسمیت کراچی سے لاہور تک موٹر وے بنے گی۔اسی طرح نندی پور پاور پراجیکٹ کی بحالی کی بھی حتمی طور پر منظوری دی گئی ہے۔ نوازشریف جب ماضی میں وزیراعظم تھے تو وہ پاکستان کو معاشی ترقی میں بہت آگے لے جانے کے خواہش مند تھے اوران کے سامنے ہانگ کانگ کا ماڈل تھا۔ اس دورہ چین میں بھی انھوں نے ہانگ کانگ ماڈل کی دوبارہ بات کی ہے اوران کے بقول بہت جلد پاکستان معاشی ترقی کے اہم زینے عبور کرے گا۔اس دورے میں پاکستانی حکومت کا زیادہ انحصار معاشی منصوبوں پر تھا، جبکہ چینی حکومت ان معاشی منصوبوں کی تکمیل کے لیے سیکورٹی خدشات کی وجہ سے پریشان نظر آتی تھی۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب دونوں نے چینی حکومت کو سیکورٹی کی مکمل ضمانت دینے کی بات کی، اوران کے بقول ماضی کی غلطیوں کا اعادہ کرنے کے بجائے چینی حکام کو مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دورہ چین میں وزیراعظم نوازشریف کے مقابلے میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کافی متحرک نظر آئے اور ان کی کوشش تھی کہ وہ صوبہ پنجاب میں چین کی مدد سے نئے سے نئے منصوبوں کو حتمی شکل دیں۔ شہبازشریف کے بقول انھوں نے چین سے کئی معاہدے کیے ہیں جن میں بجلی کے بحران کو حل کرنے کے لیے بجلی کی پیداوار میں اضافے، بجلی چوری کی روک تھام اور پنجاب کے پانچ بڑے شہروں میں میٹرو اور انڈر گراؤنڈ بس چلانے کے معاہدے شامل ہیں۔ جبکہ ان کے مقابلے میں وزیراعظم نوازشریف کی خواہش تھی کہ چین بجلی پیدا کرنے بالخصوص فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھروں کو کوئلہ پر منتقل کرنے اور شمسی توانائی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں میں ہماری مدد کرے۔ وزیراعظم نوازشریف کے بارے میں پہلے ہی یہ بات مشہور ہے کہ وہ تجارت اور صنعت کے بارے میں کافی پْرجوش ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دورے میں چینی سرمایہ کار ان کی توجہ کا اہم مرکز تھے،لیکن انھیں اْس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان کی بیوروکریسی کے خلاف شکایات کے انبار لگادیے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بیوروکریسی کا عدم تعاون دونوں ملکوں کی باہمی تجارت میں اہم رکاوٹ ہے۔وزیراعظم کو اس موقع پر چینی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی کرانی پڑی کہ ان کی حکومت سرخ فیتے کا خاتمہ کردے گی۔یہ بات کافی حد تک ٹھیک ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بیوروکریسی کی جانب سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے ملک میں سرمایہ لگانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ لیکن کیا وزیراعظم نوازشریف اس سرخ فیتے کا خاتمہ کرسکیں گے؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔
اس دورے میں چین اور پاکستان کے درمیان جن اہم منصوبوں کی بات کی گئی ان میں گوادر کی بندرگاہ کا انتظام چین کے حوالے کرنے اور گوادر سے چین کے صوبے سنکیانگ کے شہر کاشغر تک سڑک کی تعمیر شامل ہے۔اس منصوبے کی تکمیل سے چین کا زمینی رابطہ بحیرہ عرب اورمشرقِ وسطیٰ سے قائم ہوجائے گا۔یہ محض تجارتی اور اقتصادی ہی نہیں بلکہ ایک اسٹرے ٹیجک معاملہ بھی ہے جو اس خطے کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔لیکن وزیراعظم نوازشریف کے دورہ چین اور وہاں کیے گئے معاہدوں کا تجزیہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ دیکھنا ہوگا کہ وہ ان کیے گئے معاہدوں کی تکمیل میں کس حد تک کامیابی حاصل کرسکیں گے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم کے دورہ چین کو تین مختلف زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اوّل معاملہ داخلی دہشت گردی کا ہے،ان منصوبوں کی کامیابی میں یہ ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہے۔ موجودہ حکومت کو اپنے ابتدائی تیس دنوں میں ملک کے چاروں صوبوں میں دہشت گردی کا سامنا ہے۔ پنجاب میں بھی دہشت گردی کے حالیہ واقعہ نے حکومت کی پریشانی میں اضافہ کیاہے۔حکومت کی اعلیٰ ایجنسیاں مسلسل خبردار کررہی ہیں کہ آنے والے دنوں میں پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اوران کے بھائی چینی حکومت کو سیکورٹی کی ضمانت دینے کے لیے کئی نئی یقین دہانیاں کرارہے ہیں، جبکہ ان کا اپنا ملک اور یہاں کے لوگ دہشت گردی سے محفوظ نہیں۔ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی اسی لہر کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری کے رجحان میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔ ایک طرف حکومت غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف ملک کا سرمایہ دار طبقہ حکومت پر عدم اعتماد کرکے ملک چھوڑنے پر مجبور ہے۔چینی حکومت بھی جب پاکستان میں نئے منصوبوں کا آغاز کرے گی تو اس کے اہلکاروں کی سیکورٹی کا معاملہ بھی پاکستانی حکومت کے لیے دردِ سر بن جائے گا،اور اس میں ناکامی کی صورت میں چینی حکومت اپنے منصوبوں پر نظرثانی کرکے منصوبے ختم کرسکتی ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ چین ہمارا دوست ہے، لیکن اسے اپنے مفادات بھی عزیز ہوں گے، اور جہاں اس کو لگے گا کہ ہمارے مفادات پر ضرب لگ رہی ہے وہ اپنی حکمت عملی تبدیل کرسکتا ہے۔
دوسرا یہ دیکھنا ہوگا کہ نوازشریف کی حکومت چین کے ساتھ دوستی یا آگے بڑھنے کے عمل میں کس حد تک امریکہ کے دباؤ سے باہر نکلتی ہے۔ کیونکہ ماضی میں بھی ہم نے چین کی طرف اپنا جھکاؤ کرنے کی کوشش کی لیکن امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے ہم نے اس معاملے میں کمزوری دکھائی۔ بالخصوص گوادر کے معاملے پر امریکہ چین کے بڑھتے ہوئے کردار کو پسند نہیں کرے گا۔یہ کہنا کہ نوازشریف کی حکومت فوری طور پر امریکی دباؤ سے باہر نکل سکے گی ایک مشکل بات نظر آتی ہے۔
وزیراعظم نوازشریف اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے چینی کمپنیوں سے جو نئے معاہدے کیے ہیں ا ن کا نتیجہ فوری طور پر نہیں نکلے گا، کیونکہ یہ لمبی مدت کے منصوبے ہیں جن کی مدت پانچ سے دس برس تک بھی ہوسکتی ہے۔دراصل ہمارے حکمران طبقات بالخصوص نوازشریف کی جماعت مہنگے اور طویل منصوبوں پر ہمیشہ سے انحصار کرتے ہیں۔ ہمیں یقیناًلمبی مدت کے منصوبے بنانے چاہئیں۔ میٹرو بس، بلٹ ٹرین، انڈرپاس، پل اور لمبی لمبی سڑکیں یقیناًپاکستان کی ضر ورت ہیں، لیکن حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اس کے پاس وسائل کیا ہیں اور اس کی اہم ترجیحات میں یہ منصوبے کہاں آتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت ملک میں جو داخلی بحران ہے وہ فوری طور پر حکومت سے کئی معاملات پر ریلیف چاہتا ہے۔ لیکن ہم چین سے کیے گئے معاہدوں پر فوری ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ پہلے سے جاری منصوبوں پر ہماری کوئی توجہ نہیں، اس کے برعکس ہم نئے منصوبوں پر بے پناہ اخراجات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اچھی حکمرانی کا اصول یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے اپنی موجودہ صورت حال کو ٹھیک کرکے آگے بڑھتی ہے، جبکہ یہاں حکومت کی سمت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ جس ملک میں عام ٹرین اور ٹرانسپورٹ کا پہیہ خراب ہے وہاں بلٹ ٹرین اورانڈر گراؤنڈ بس سروس کا خواب کچھ مصنوعی سالگتا ہے۔یقیناًاگر ان معاہدوں پر عملدآمد ہوتا ہے تو اس سے پاکستان کو معاشی حوالے سے کافی فائدہ پہنچنے کے امکانات بھی ہیں۔ میں سینئر صحافی اور تجزیہ نگار کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ حکومت کو ان پانچ برسوں میں کوئی نیا منصوبہ نہیں شروع کرنا چاہیے، بلکہ اس کی اوّلین توجہ پہلے سے جاری خراب حالت کے منصوبوں پر ہونی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے گا؟ کیونکہ جو روش شریف برادران نے اپنائی ہے اس کی جھلک اب ہمیں دیگر صوبوں کے ترقیاتی کاموں میں بھی نظر آتی ہے۔ اس طرز کے بڑے منصوبوں کی ایک وجہ کمیشن اور کرپشن ہے، یعنی جتنا بڑا منصوبہ ہوتا ہے اتنے ہی کرپشن اور بدعنوانی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔پاکستان اْن ملکوں میں شامل ہے جہا ں حکمران طبقات کا چھوٹے اور سستے منصوبوں پر کوئی دھیان نہیں اور سب سمجھتے ہیں کہ منصوبوں کی رقم اربوں میں ہونی چاہیے۔جبکہ ہمارے مقابلے میں بیشتر ملکوں نے معاشی طور پر چھوٹے چھوٹے منصوبوں کو بنیاد بناکر ترقی کی ہے، جبکہ ہم مصنوعی انداز میں ترقی کے خواہاں ہیں اور حکومتی ترجیحات میں عوام کو ریلیف دینے کا ایجنڈا کافی پیچھے نظر آتا ہے۔ اب جو حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات طے ہوئے ہیں ان میں عام لوگوں کو کافی کڑوی گولیاں ہضم کرنی ہوں گی کیونکہ جو شرائط ہم پر لاگو کی گئی ہیں ان پر عملدرآمد کے بعد ہی ہم آئی ایم ایف کے معیار پر پورا اترسکیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کو سمجھنا ہوگا کہ وہ جو ترقیاتی منصوبے سیاسی بنیادوں پر بناتے ہیں ان کا بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں اکنامک ریٹ آف ریٹرن بہت کم ہوتا ہے، اوراس کا نقصان حکومتوں کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب حکومتیں مہنگے قرضے لے کر انھیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر غریب لوگوں پر بوجھ کی صورت میں پڑتا ہے۔