خبریں

نوجوانوں کو ہُنر سے با اختیار بنانا روز گار کے مواقع پیدا کرنے کی کلید

نوجوانوں کو ہُنر سے با اختیار بنانا روز گار کے مواقع پیدا کرنے کی کلید

گزشتہ روز تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے روز گار کے مواقع پیدا کرنے کی خاطر انہیں ہُنر سے با اختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مختلف محکموں کے ذریعے عملائے جارہے سکل ڈیولپمنٹ منصوبوں کو مربوط کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل مرتب کرنے کی اہمیت کو اُجاگر کیا ہے۔اس مقصد کے لئے وزیر اعلیٰ نے فائنانشل کمشنر پی اینڈ ایم بی بی ویاس کو سکل ڈیولپمنٹ پہل کا نوڈل افسر نامزد کیا تا کہ وہ مختلف محکموں کی سکیموںکی بہتر طور نگرانی کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف سیکرٹری بھی سکل ڈیولپمنٹ مشن سوسائٹی کے لئے ڈھانچہ معرض وجود میں لائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ ہدایات گزشتہ دنوں سکل ڈیولپمنٹ کے سلسلے میں طلب کی گئی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں دی۔ میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ بھی موجود تھے۔میٹنگ میں وزیر زراعت غلام نبی لون، صنعت و حرفت کے وزیر چندر پرکاش، خزانہ ، محنت و روز گار کے وزیر ڈاکٹر حسیب اے درابو، امور نوجوان و کھیل کود اور تکنیکی تعلیم کے وزیر عمران رضا انصاری، تعلیم، ثقافت اور سیاحت کی وزیر مملکت پریا سیٹھی، چیف سیکرٹری بی آر شرما، فائنانشل کمشنر پی اینڈ ایم بی بی ویاس اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نوین کے چودھری بھی موجود تھے۔
نوجوانوں کومختلف ہُنروں کی تربیت دینے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی جو کہ سکل ڈیولپمنٹ مشن کی سربراہ بھی ہیں، نے کہا کہ مختلف محکموں کو اس مقصد کے لئے اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے تا کہ نوجوانوں کو بنیادی سطح کی تربیت فراہم کی جاسکے جس سے جاب مارکیٹ کے عین مطابق اُن کے روز گار کے مواقعے پیدا کئے جاسکیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب مالی وسائل کے معقول استعمال سے اس محاذ پر مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ کو کپسٹی بلڈنگ کے معاملے کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے وزیر خزانہ ڈاکٹر درابو نے کہا کہ دستیاب وسائل کی بنیادپر تب تک اہداف کو حاصل کرنا مشکل ہوگا جب تک نہ آئی ٹی آئیز اور پالی ٹیکنیک کالجوں میں داخلہ کی گنجائش میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے این اے ایس ایس سی او ایم( نیسکام) میپنگ کے بارے میں بھی جانکاری دی جس کے تحت ریاست کے ہر ضلع کو مخصوص ہُنر کے تعلق سے ترقی دی گئی ہے۔ ڈاکٹر درابو نے مزید کہا کہ ریاست حکومت نے نوجوانوں کو تربیت دینے کے سلسلے میں نجی اداروں بشمول ایچ اے ایل، بی ایچ ای ایل، بھارتی انفراٹیل، این ٹی پی سی اور او این جی کے ساتھ مل کر ایک مکینیزم ترتیب دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے آئی ٹی آئیز کو ملٹی سکل مراکز میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرنے کے علاوہ موجودہ سکولوں اور کالجوں کے ڈھانچے کو زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو شام کے اوقات کے دوران تربیت دینے کی خاطر استعمال کرنے کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا۔ہُنر کو روز گار کا جزو لاینفک قرار دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ مختلف مالی شعبوں خصوصاً سیاحت اور زراعت وغیرہ میں روز گار کے مواقعے پیدا کئے جانے چاہئیں۔
وزیر اعلیٰ کو جموں و کشمیر سکل ڈیولپمنٹ مشن سوسائٹی کے قیام کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ کابینہ کو یہ منصوبہ منظوری کیلئے بھیجے جانے کے خدو خال کو طے کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مرکزی سکل ڈیولپمنٹ وزارت سے رقومات حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو گی ۔گرمائی راجدھانی میں خواتین کیلئے انٹر پرنیور شپ سنٹر کے قیام کے بارے میں پوچھ جانے پر صنعت و حرفت کے کمشنر سیکرٹری شلیندر کمار نے کہا کہ صنعت و حرفت کے ڈائریکٹوریٹ دفتر کو بمنہ میں تعمیر شدہ صنعت گھر منتقل کئے جانے کے بعد رذیڈنسی روڈ میں خالی ہونے والی جگہ کواس سنٹر کے قیام کیلئے استعمال میں لایا جائے گا جس سے خواتین کو ہُنر مندی کورسوں میں تربیت فراہم کرنے میں مدد ملے گی ۔ اپنےخطاب میں ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہُنر مندی پروگرام کو تب تک کامیاب نہیں بنایا جا سکتا جب تک کہ نہ ریاست کے نوجوانوں کو مختلف ہنروں میں تربیت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ روز گار کے مزید مواقعے پیدا کرنے کیلئے نوجوانوں کو مختلف ہنروں میں تربیت دینے کیلئے ایک جامع لایحہ عمل ترتیب دیا جانا چاہئے ۔مذکورہ شعبے میں سرکار کی طرف سے کئے گئے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں ڈویژن کے دور دراز علاقوں خاص کر سانبہ ، کٹھوعہ اور اودھمپور سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو مختلف ہنروں میں تربیت دی جانی چاہئیے۔
جموں و کشمیر میں فی الوقت33 پالی ٹیکنک کالج اور 88 آئی ٹی آئیز سمیت سیاحت ، صنعت و حرفت اور دیگر محکموں میں تربیتی ادارے موجود ہیں ۔ ریاست میں ہُنر مندی شعبے کو 4 زمروں بشمول ثقافتی ہُنر مندی ، روائتی ، جدید ٹریڈ اور زراعت پر مبنی زمرے میں رکھا گیا ہے ۔میٹنگ میں زراعت کے پرنسپل سیکرٹری ، پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پرنسپل سیکرٹری، کمشنر سیکرٹری سماجی بہبود ، سیکرٹری محنت و روز گار ، سیکرٹری تکنیکی تعلیم ، سیکرٹری سیاحت ، سیکرٹری باغبانی اور ڈائریکٹر تکنیکی تعلیم بھی موجود تھے۔