اداریہ

نوجوانوں کی شادی میں تاخیر
کشمیر کا ایک تو جہ طلب سماجی مسئلہ

فطرت کے خلاف کو ئی بھی کا م کر نے سے جو تبا ہیاں وقوع پذیر ہو تی ہیں ان کے نتائج کسی فرد ہی نہیں بلکہ پو رے سماج کے لئے انتہا ئی مضر اثرات کی حامل ہو تی ہیں اور اس وجہ سے جو تبا ہی پھیلتی ہے اس کو ذائل کر نے میں سالہا سال کی محنت لگتی ہے۔اس دوران جو لوگ اس تباہی کے ہتھے چڑھ جا تے ہیں وہ اس کربناک تا ریخ کا حصہ بن جا تے ہیں جس کے پنے کھو لنے سے مستقبل کی کئی نسلیں انتہا ئی درد اور کرب میں مبتلا ء ہو جا تی ہیں ۔ہمارے سماج کے اندر جو پیچیدہ قسم کے مسائل اس وقت ہر گھر ،ہر گا ئوں اور شہر کی کہانی بنے ہو ئے ہیں ان میں نوجوان لڑ کو ں اور لڑ کیوں کی تا خیر سے شادی کامسئلہ ایک سنگین چیلنج بن کر ابھرا ہے اور اس مسئلہ نے وادی کے اطراف و اکناف میں سینکڑوں گھرانوں کو کچھ اس طرح سے اپنے پنجوں میں جکڑ لیا ہے کہ نکلنے کا کو ئی راستہ ہی دکھا ئی نہیں دیتا۔سال2017ء میں کرائے گئے ایک سر وے کے مطابق محض سرینگر شہر میں ایسی لڑ کیوں کی تعداد پچاس ہزار کے قریب تھی جو چالیس سال کی عمر پا ر کرچکی تھیں اور ابھی تک ان کی شادی نہیں ہو ئی تھی ۔اس دوران اس عمر کے لڑ کوں کی تعداد بھی کا فی ہے مگر اس حوالے سے چونکہ کو ئی سر وے نہیں کرائی گئی ہے لہٰذاء ان کی اصل تعداد معلوم نہیں ہے ۔ہم ہروقت یہی دہائی دیتے رہتے ہیں کہ نوجوان لڑ کے اور لڑکیاں شادی کی عمر کی حد پا ر کر رہے ہیں مگر کو ئی ان وجوہا ت کی طرف تو جہ نہیں دیتا کہ کن وجوہا ت کی بنا پر یہ چیزیں ہو رہی ہیں اور نہ ہی کسی کو اس با ت کی فکر ہے کہ اس کا کو ئی سدِ باب کیا جا ئے ۔ہما رے بدلتے سماجی اقدار نے جہاں ہماری اجتما عی زندگی کے کئی شعبوں کو متا ثر کر دیا ہے وہیں یہ بدلا ئو ادھیڑ عمر میں شادی یا پھر شادی کی عمر کی حد پا ر کرنے کے باوجود رشتہ ٔ ازدواج میں بندھنے کے امکانات کی مسودیت کیلئے بھی ذمہ دار ہے ۔آسودہ حال گھرانوں میں لڑ کے اور لڑ کیاں اس لئے بن بیا ہے رہ جا تے ہیں کہ انہیں اپنے ’کیرئر‘ کی فکر ہے ۔یہاں والدین اور بچے دونوں چاہتے ہیں کہ پہلے پڑھ لکھ کر انہیں سرکا ری نو کری یا روزگا ر کا کو ئی اور وسیلہ مل جا ئے تو تب شادی کر لیںیہاں تک کہ اسی تلا ش و جستجو میں ان کی شادی کی عمر نکل جا تی ہے ۔غریبوں کا ہاں شادی میں تا خیر کی سب سے بڑ ی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس اتنے مالی وسائل ہی نہیں ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی شادی دھوم دھا م سے کرا سکیں۔یہ لو گ ساری عمر محنت مزدوری کر کے بھی اتنا سر ما یہ اکٹھا نہیں کر سکتے کہ اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کی شادی کسی کھا تے پیتے گھرانے میں کرا سکیں ۔یہاں بھی تلاش و جستجو کی تگ و دو میں بچوں کی عمریں نکل جا تی ہیں مگر ان کے ہا تھ پیلے نہیں ہو تے۔یہ ایک ایسی کشمکش ہے کہ آپ کتنا بھی زور لگا ئیں آپ اس بھنور سے نکل نہیں پا تے ۔اس کا واحد اور آسان راستہ یہی ہے کہ ہم اپنے اجتما عی ضمیر کو بدلیں اور نکا ح کو آسان بنا ئیں۔اسلام نے نکا ح کو انتہا ئی سادہ اور آسان بنانے کی نہ صرف تلقین کی ہے بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا اور یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے رشتہ ٔ ازدواج کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاسکتا ہے ۔ہما رے سماج کے اندر جس تیز رفتا ر ی سے بے راہ روی اور بدکا ری پنپ رہی ہے اس کی سب سے بڑ ی وجہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی معقول عمر میں شادی نہ ہو نا ہے۔اگر ہم سماج کے اندر ایک مثبت بدلا ئو لا نے کے خواہشمند ہیں تو ہمیں بچوں کی شادی میں تاخیر کی بدعت کو ختم کر کے یہ بات اپنے ذہن میں اتارنا ہو گی کہ اگر نو جوان اپنی عزت و عصمت خود اپنے ہا تھوں نیلا م کریں تو اس سے بڑ ھ کر تباہی و بربا دی کیا ہو سکتی ہے ۔عفت و عصمت کی حفاظت ہزاروں نو کریوں اورلاکھوں روپے کے جہیز سے بھی بہتر اورافضل چیز ہے۔