نقطہ نظر

نکسل باڑی تحریک بمقابلہ کرپشن

میرے آزاد خیال دوست کہتے ہیں، نکسل باڑیوں کی مذمت کرنے کے بجائے انھیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔کاش میں ان کی اس نصیحت پر عمل کرسکوں۔ لیکن میں ان میں بھلا کس طرح تفریق کر سکتا ہوں جنہوں نے چھتیس گڑھ میں کانگریس کے 25 فعال کارکنوں کو ہلاک کر دیا۔ جب کہ لندن میں نائجیریا کے جن دو باشندوں نے چند روز قبل ایک برطانوی فوجی کا سر قلم کر دیا تھا لہٰذا ان میں اور نکسل باڑیوں میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ میرے لیے دونوں دہشت گرد اور بنیاد پرست ہیں۔ پہلے والوں کا تعلق بائیں بازو سے ہے جب کہ دوسرے والے دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں اور کیا اس وقت نظریے کی کوئی طرف سے کیا جانے والا ظلم و ستم ایک جیسا ہی ہو؟

شاید یہ اس وقت ہوتا ہے جب نظریات اپنا اصل مقصد اور جواز ترک کر دیتے ہیں۔ چھتیس گڑھ نکسل باڑیوں کا گڑھ ہے مگر اس نظریے کو ماننے والوں نے جو ظلم کیا ہے کیا انھیں اس کا احساس ہے؟ اور اس کے باوجود بھی وہ خود کو عوام کا ہمدرد اور بے کس و بے بس لوگوں کا محافظ کہتے ہیں۔ لیکن بیگناہ لوگوں کو اسی وحشیانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتارتے ہیں جس طرح کوئی سنگدل مجرم کرتا ہے۔
میں نکسل باڑیوں کی سرگرمیوں کا کئی دہائیوں سے بغور جائزہ لے رہا ہوں لیکن ابھی تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ آخر وہ چاہتے کیا ہیں؟ درست کہ ان کا جمہوریت پر یقین نہیں ہے حالانکہ وہ جمہوریت کے نام پر ہی اس قدر چیخ و پکار کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ جان بوجھ کر کسی کو ہلاک کرتے ہیں تو اس وقت وہ آمریت والی ذہنیت کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں اور اس سے ان کے اس نظریے کو کوئی مدد نہیں ملتی جس کے وہ دعویدار ہیں۔ ان کی طرف سے قتل عام اور دوسروں کو بزور قوت دبانے کے مظاہرے ویسے ہی ہیں جیسے دہشت گرد کرتے ہیں۔
پر عزم لوگوں کا ایک گروہ قوم کو اپنے عقیدے کے مطابق چلانا چاہتا ہے۔ انھیں عوام کی خواہشات اور تمناؤں کا کوئی لحاظ نہیں ہے بلکہ وہ بندوق کے ذریعے قوم کی قیادت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ’’بیلٹ بکس‘‘ کی کوئی حیثیت نہیں۔ کیا چھتیس گڑھ کے بعض خاندان اپنے طرز عمل میں آمریت پسند تھے یا قبائلیوں کی ہلاکتیں غیر قبائلیوں کے ہاتھوں ہوئیں، اس کی تحقیقات بہت ضروری ہے۔ کیونکہ ان ہلاکتوں کی وجہ سے پوری فضا خراب ہو چکی ہے۔
لیکن اصل نکتہ یہ ہے کہ ان غلط اقدامات کا آخر مداوا کیسے تلاش کیا جائے۔ تشدد کا خاتمہ تشدد کے ذریعے نہیں ہوتا بلکہ اس کا حل جمہوری طریق کار میں ہی مضمر ہے جو زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ بعض لوگ اب بھی تشدد کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ دنیا افہام و تفہیم کی جانب رواں دواں ہے اور ہتھیاروں کا استعمال یکسر ترک کرنے پر غور کر رہی ہے۔ نکسل باڑی بے شک ایک فلاحی ریاست کی تشکیل کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے انھیں اپنے عوام کو اپنے نقطہ نظر کا قائل کرنا چاہیے۔
وہ مخالفت کو نظر انداز کر کے اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتے۔ انھوں نے قتل عام کا جو جواز پیش کیا ہے اس سے اس بھیانک جرم کی شدت قطعاً کم نہیں ہوسکتی۔ نکسل باڑی بدستور بھڑکتے رہیں گے کیونکہ ان کے ساتھ سدا رکھی جانے والی عدم مساوات بہت تلخ اور نمایاں ہے جب کہ ان پر ہونے والے ریاستی ظلم میں بھی کوئی کمی نہیں آئی لیکن تشدد جادو کی چھڑی کا کام نہیں کر سکتا۔ اس سے تو مسئلہ اور زیادہ گمبھیر ہو جاتا ہے جیسا کہ گزرتے برسوں میں ہم دیکھتے رہے ہیں۔
اس عفریت کو بالکل ہی نیست و نابود کر دیا جانا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں اور صحیح سوچ رکھنے والے لوگوں کو باہم اکٹھا ہو کر تشدد ختم کرانا چاہیے تا کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو درست کیا جا سکے۔ وزیراعظم منموھن سنگھ نے بجا کہا ہے کہ متشدد نکسل باڑی تحریک جمہوری طریق کار کے لیے ایک چیلنج ہے جس پر بھارت کا اعتقاد ہے۔ تشدد جمہوریت پر اعتماد اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتا ہے۔
چھتیس گڑھ کے واقعہ نے تشدد کے بے اثر ہونے کی بحث دوبارہ شروع کرا دی ہے۔ یہ موضوع اس قدر اہم ہے کہ وہ قوم جو طرح طرح کے شرمناک سیکنڈلوں میں گھری ہوئی ہے، اس کے باوجود اس نے کرپشن کو چھوڑ کر اب نکسل باڑیوں کے تشدد کے بارے میں بات شروع کر دی ہے۔
دو وزرائے اعلیٰ کی برطرفی نے، جن میں پون کمار بنسل (ریلویز) اور اشوانی کمار (قانون) شامل ہیں،دوسری چیزوں سے نظر ہٹا دی ہے اور کرپشن کے خلاف عزم کو مستحکم کر دیا ہے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی ایک ٹھوس کارروائی چاہتی تھیں جو عوام کو قائل کرسکے کرناٹک میں انتخابات جیتنے کے بعد، جہاں پر بیلارے کی کانوں کا سکینڈل ایک مسئلہ بن گیا تھا، سونیا نے کہا کانگریس کے مستقبل کا انحصار دیانتداری پر ہے اور وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتیں جس سے ان کی پارٹی کی دیانتداری پر حرف آنے کا احتمال ہو۔ راہول گاندھی نے بھی اعلان کیا ہے کہ کانگریس ایسے کسی امیدوار کو کھڑا نہیں کرے گی جس کے کردار پر کوئی داغ ہو۔
یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ دو مرکزی وزراء نے جب اپنی برطرفی کے بارے میں سنا تو انھوں نے مستعفی ہونے کی پیشکش کر دی لیکن سونیا گاندھی یہ پیغام پھیلانا چاہتی تھیں کہ پارٹی کرپشن پر سمجھوتہ نہیں کرے گی، حتیٰ کہ اگر اس ضمن میں اپنے کسی وزیر کو بھی نکالنا پڑا تو نکال دے گی اور واقعی ایسا کر دیا گیا۔
دونوں وزراء کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے بہت قریب ہیں جنہوں نے انھیں یقین دلایا ہے کہ اگر انھیں برطرف کیا گیا تو وہ انھیں جانے دیں گے۔ وزیر اعظم جو اپنی شخصی صبروتحمل کے حوالے سے جانے جاتے ہیں سونیا کو اپنی بات منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ سونیا کی یہ سوچ درست تھی کہ وزیروں کی برطرفی سے ایک سخت پیغام جائے گا جو ان کے استعفٰی دینے سے نہیں جا سکے گا۔
اس بات میں البتہ کوئی شک نہیں کہ ان برطرفیوں کا پارٹی پر بہت گہرا اثر ہوا ہے کہ یہ احساس جاگا ہے کہ ماضی میں جو بھی کوتاہیاں ہوتی رہی ہیں لیکن اب پارٹی نے نیا باب شروع کیا ہے اور اب کسی سیکنڈل کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو گزشتہ عرصے میں باقاعدہ تسلسل کے ساتھ رونما ہوتے رہے ہیں۔
درحقیقت بہت سے کانگریسی ارکان جو عہدوں سے باہر ہیں، اب سونیا گاندھی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ریاستوں میں بھی کرپشن اور بدعنوانیوں کی گندگی صاف کی جائے۔ اس قسم کے منظر نامے میں بعض الزامات یقیناًمبالغہ آمیز ہو جاتے ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ پیشرفت خوش آیند ہے۔ اب سونیا گاندھی کو جس مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا وہ پنڈورا بکس کھول دیں یا معاملات کو اپنے قابو میں رکھیں تا کہ کانگریس کا چہرہ مزید داغدار نہ ہو۔
بہر حال مسئلے کا فیصلہ کانگریس کی ہائی کمان نے کرنا ہے (اور دیگر سیاسی پارٹیاں بھی ایسا ہی کرتی ہیں) جس سے کہ اعتماد پیدا ہوا ہے۔ ذاتی دشمنی کا ا س حوالے سے کوئی دخل نہیں جب کہ یہ حقیقت واضح ہے کہ حتمی فیصلہ سونیا گاندھی ہی نے کرنا ہے جو سب سے زیادہ طاقتور ہیں۔ ممکن ہے ایسا کرنا کچھ غیر مناسب بھی نہ ہو۔ سونیا نے خود کو حکومتی سیکنڈلوں سے پرے رکھا ہے۔ البتہ کانگریس کے رہنماؤں کا مورال یقیناگر جائے گا۔ ممکن ہے، ان میں ویسی خود اعتمادی باقی نہ رہے جو پون اور اشوانی کمار کی برطرفیوں سے قبل ان میں تھی۔
ایک تجویز بہت پھیلی ہوئی ہے کہ کسی قسم کی ایک قائمہ کمیٹی بنا دی جائے جو سونیا کو تمام مطلوبہ معلومات بہم پہنچائے تا کہ سونیا کمر ٹھونک کر کرپشن سے لڑائی کرسکیں۔