نقطہ نظر

نہرو اور پٹیل

نہرو اور پٹیل

کلدیپ نائر
گجرات کے وزیر اعلیٰ اور آیندہ پارلیمانی انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے کہا ہے کہ اگر برصغیر کی تقسیم کے بعد پنڈت نہرو کی جگہ سردار پٹیل کو ملک کا وزیر اعظم بنایا جاتا تو یہ کہیں زیادہ اچھا ہوتا۔
دیگر تمام لیڈروں میں مولانا ابوالکلام آزاد بھی، جو نہ صرف نہرو کے دوست تھے بلکہ ان کے گائیڈ اور پسندیدہ فلاسفر بھی تھے، وہ بھی نہرو کی انتظامی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اسی نتیجے پر پہنچے تھے۔ مولانا آزاد کی نہرو کی کابینہ کا رکن ہونے کی حیثیت سے انھیں نہرو کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ انھوں نے اپنے سیکریٹری ہمایوں کبیر سے کہا کہ نہرو کو ملک کا صدر اور پٹیل کو وزیراعظم ہونا چاہیے تھا۔ میرے کبیر سے گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ جب کبیر نہرو کی کابینہ میں بطور وزیر تعلیم کام کر رہا تھا تو اسے مولانا آزاد کی کہی ہوئی باتیں یاد آئیں۔ تخیل کی کیسی بھی اڑان کیوں نہ بھری جائے، آزاد کو پٹیل یا اس کے نظریات سے مماثلت نہیں دی جاسکتی۔ قومی آزادی کی جدوجہد کے دوران دونوں سرگرم کارکنوں میں شدید باہمی اختلافات تھے اور وہ دونوں اپنے موقف کا کھلم کھلا اظہار کرتے تھے۔ پٹیل ہندوؤں کے اجتماعی سیاسی نظام کے حامی تھے جس میں دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں شریک کیا جا سکے۔ مولانا آزاد سیدھے سیدھے سیکولر جانے جاتے تھے اور مسلم لیگ کے الزام کا کہ وہ ’’ہندو شو بوائے‘‘ ہیں، بڑی دلیری سے سامنا کرتے تھے۔ وہ عوامی اجتماعات میں ایک لحضے کے لیے بھی یہ کہنے سے گریز نہ کرتے کہ تشکیل پاکستان مسلمانوں کے لیے انتہائی خطر ناک ہوگی۔
تقسیم سے پہلے وہ کہا کرتے تھے کہ مسلمان اپنے ملک (انڈیا) میں بڑے فخر سے سر بلند کیے چلیں گے کہ وہ مساوی بنیادوں پر اس ملک کے حصہ دار ہیں خواہ ان کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اگر مذہب کی بنیاد پر انڈیا ایک بار تقسیم ہو گیا تو ہندو مسلمانوں کو ہمیشہ یہی کہیں گے کہ تم نے اپنا حصہ وصول کر لیا اب پاکستان ہی میں چلے جاؤ۔
یہ الگ بات ہے کہ پٹیل نے کبھی بھی کثیر الجماعتی اقتدار کے بارے میں واضح طور پر مولانا آزاد کی طرح صاف گوئی سے کبھی کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ لیکن مجھے یاد پڑتا ہے کہ تقسیم کے بعد جب میں اپنے آبائی گھر سیالکوٹ (پاکستان) سے رخت سفر باندھے پناہ کی تلاش میں دہلی پہنچا تو میں نے پٹیل کو پاکستان سے ہندوؤں کے انخلاء پر متنبہ کرتے ہوئے سنا۔ اس نے کہا کہ انڈیا بھی اسی تناسب سے مسلمانوں کو انڈیا سے نکال دے گا جس طرح ہندوؤں کو پاکستان سے نکالا جائے گا۔
یہ ایک عجیب منطق تھی کہ انڈیا میں رہنے والے معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کو پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کے گناہوں کی پاداش میں دیس نکالا دیا جائے۔ تقسیم کے 67 برسوں کے بعد انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں میں یہی طرز عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان نے تو عملی طور پر تمام ہندوؤں کو نکال باہر کیا ہے لیکن انڈیا میں مسلمانوں کی تعداد اب بھی 18 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ جب کبھی دونوں ملکوں کے درمیان کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے تو ہندو مسلمانوں کو ’پاکستانی‘ ہی کہتے ہیں۔ تقسیم کے زخم ابھی تک نہیں بھرے جا سکے اور آج بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کا مذہب کے نام پر استحصال کیا جاتا ہے لہٰذا دوبارہ سیاست میں اسی موضوع پر بات کرنے سے کوئی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
اور اگر پٹیل کے بارے میں بات کریں تو وہ یقیناًتقسیم سے پہلے آبادی کا تبادلہ کرتا۔ اس نے کبھی بھی مذہب کو ریاست یا سیاست کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ نہرو پٹیل دونوں شخصیتوں کے نظریات میں بْعدالمشرقین کی وجہ سے مہاتما گاندھی نے، جنہوں نے کہ جدوجہد آزادی کی قیادت کی تھی، نہرو کو اپنا جانشین نامزد کیا‘ ہندو مسلم اتحاد گاندھی جی کے نزدیک ایمان کا معاملہ تھا کسی سیاسی پالیسی کا حصہ نہیں۔
گاندھی جی اور پٹیل دونوں ایک ہی ریاست‘ گجرات سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ہی طرح کا کھانا کھاتے اور کئی ایک طریقوں سے گجرات ہی کی نمایندگی کرتے تھے۔ پھر بھی گاندھی نے نہرو کو پٹیل پر ترجیح دی۔ گاندھی جی جانتے تھے کہ نہرو خواب بھی انگریزی میں دیکھتے تھے اور دنیاوی امور میں بری طرح رجھے ہوئے تھے لیکن گاندھی کو یقین تھا کہ نہرو ان کے ہندو مسلم کے بارے میں نظریات کی زیادہ دیانتداری سے تشریح کرسکیں گے اور ان پر عمل درآمد کے لیے معقول‘ غیر متشدد اور مناسب طریق کار وضح کریں گے۔ پٹیل کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے 540 راجواڑوں کا انڈیا سے الحاق کرایا۔ اس کے لیے انھیں یقیناًبھرپور خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ وہ ذرایع پر نہیں، نتائج پر یقین رکھتے تھے۔ کچھ ریاستوں نے تو رضاکارانہ طور پر انڈیا میں شمولیت اختیار کر لی لیکن کچھ ریاستوں نے تامل سے بھی کام لیا۔ پٹیل کے سیکریٹری وی پی مینن اپنی خود نوشت سوانح میں یہ اعتراف کرنے میں کوئی تردد محسوس نہیں کرتے کہ کچھ برگشتہ اور باغی عناصر کو طاقت کے زور پر بھی زیر کرنا پڑا تھا۔ ریاست ٹریوینکور اس ضمن میں ایک معروف مثال ہے۔
اس نے اپنی آزادی کا اعلان کیا اور باضابطہ علیحدگی کا عمل بھی شروع کر دیا۔ لیکن بعد میں اس نے الحاق کے کاغذات پر دستخط کر دیے۔ بعد ازاں اس نے بتایا کہ اسے یہ گوارا نہیں تھا کہ وہ سالہا سال جیل میں سڑتا رہے اور اس کی فیملی پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں۔گاندھی جی کو یقین تھا کہ ان کے سیکولر نظریات نہرو کے ہاتھوں زیادہ محفوظ رہیں گے۔ اس بات کی تصدیق اس وقت ہو گئی جب پٹیل نے اثاثوں کی تقسیم کے موقع پر پاکستان کو 64 کروڑ روپوں کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ حالانکہ یہ رقم ان اثاثوں کا حصہ تھی جس پر انڈیا نے تقسیم کی تفصیلات طے کرتے وقت رضا مندی کا اظہار کیا تھا۔ پٹیل نے یہ دلیل دی کہ وہ یہ رقم کیونکر واگزار کرسکتے تھے کہ انڈیا اور پاکستان کشمیر کے مسئلے پر جنگ میں مصروف تھے۔ اور گاندھی جی کو پٹیل سے اپنی بات منوانے کی غرض سے مرن بھرت رکھنا پڑا۔ انتہا پسند ہندوؤں نے 64 کروڑ کے تنازع پر دوستی کی فضا کو بگاڑ دیا اور معاشرہ کو تقسیم در تقسیم کر دیا تھا۔ انھوں نے گاندھی جی کو قوم دشمن اور ملک دشمنی کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ آر ایس ایس نے جو کہ ہندو مہاسبھا کے ہندوتوا نظریہ کی پیداوار تھی ایک سازش کے ذریعے گاندھی جی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
پٹیل کا آر ایس ایس پر سیکولر ازم کی فضا کو مسموم کرنے کی بنا پر پابندی لگانے کا فیصلہ بالکل درست اور حق بجانب تھا۔ لیکن ایک بار پھر پٹیل آر ایس ایس کی جانب جھکتے دکھائی دیے اور اس تنظیم کو ثقافتی رنگ دیکر دوبارہ فعال کر دیا۔ گویا یہ دھوکا دہی کے لیے مصنوعی دھوئیں کا بادل تھا جس کی آڑ میں آر ایس ایس بی جے پی کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے لگی۔ نریندر مودی بی جے پی کا امیدوار ہے۔ درحقیقت اب تو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت نے کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے کہ ان کی تنظیم آر ایس ایس سیاست میں حصہ لے گی۔ حالانکہ نہرو نے آر ایس ایس کے دوغلے پن کی کئی بار پہلے ہی نشاندہی کر دی تھی۔
جب مولانا آزاد نے نہرو کو صدارت کے لیے موزوں قرار دیا تھا تو اسے یقین تھا کہ فرقہ واریت کو کچل دیا گیا ہے۔ اس نے پٹیل کی امور سلطنت کے بارے میں عملیت پسندی کو سراہا تھا۔ مولانا آزاد دراصل پٹیل کے سیکولر نظریات و رجحانات پر پوری طرح یقین کر بیٹھے تھے۔ اب پٹیل کے نقش پا کو مثال بنا کر مودی کا معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنے کا عمل انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔ پٹیل ایک عملی انسان تھا۔ وہ جانتا تھا کہ انڈیا کی تقدیر ایک اچھی سیکولر جمہوریت کے قیام اور استحکام پر مبنی ہے۔ اور اگر پٹیل کو وزیر اعظم بنا دیا جاتا تو وہ زیادہ ٹھوس اور زیادہ مضبوط بنیادوں پر جمہوری ملک کی بنیادیں استوار کرتا۔
(ترجمہ مظہر منہاس)