اداریہ

نیا سال نئی اُمیدیں

سال۲۰۲۰اپنی تمام تر تلخیوں کے ساتھ گذر چکا ہے، زندگی سال بہ سال اختتام پذیر ہوتی جارہی ہے اور ہر نیا سال میں ماحول، معاشرے اور لوگوں کے رہن سہن میں تبدیلیاں ہوتا جا رہا ہے۔ ہر نیا سال کچھ نہ کچھ میٹھی اور کچھ نہ کچھ تلخ یادیں ضرور چھوڑ جاتا ہے مگر ۲۰۲۰ کی یادیں محض تلخ ہی تلخ ہیں اور یہ یادیں کچھ زیادہ ہی یادگار رہیں گی۔ شاید ہی دنیا میں کوئی۲۰۲۰کی یادوں کو بھول پائیں گے۔
سال ۲۰۲۰ ہم سے جدا ہوا ہے اس سال کی بات کریں تو ہر کسی کے دل و دماغ میں یہی ہے کہ پھر کبھی ایسا سال نہ آئے ، ہر غم اور خوشی سے انسان ہر دور میں ہر وقت میں ہر سال میں سامنا کرتا ہے لیکن کورونا جیسے وائرس سے نہیں۔سال ۲۰۲۰ عالمگیر سطح پر کوروناوائرس کی وجہ سے لوگوں کیلئے کسی عذاب سے کم ثابت نہیں ہوا۔کیونکہ اس سال میں اس وبائی بیماری سےلاکھوںلوگوں کی جانیں تلف ہوئیں ہیں جبکہ کروڑوں لوگ اس کی لپیٹ میں آئے اور بڑی مشکل سے صحت یاب ہو رہے ہیں ۔اس وائرس کے پھیلنے سے جہاں دنیاکے بیشتر ممالک میںادہم مچ گئی وہیں جموں وکشمیر کا ایک مخصوص خطہ بھی اس کی زد میں آگیا اور اب تک سینکڑوں افراد اس مرض کی زد میں آکر از جان ہوئے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں اس چھوٹی سی وادی میں لوگ اس مرض میں مبتلا ہوئے۔اسے نہ صرف کاروباری زندگی متاثر ہوئی ہے بلکہ معاشی اور تعلیمی گراوٹ آئی ہے۔ لاکھوں کیا کروڑوں لوگ بے روزگار ہوئے، تقریباً پورے سال یعنی ۲۰۲۰ میں تعلیمی ادارے مکمل طور بند رہے، بچوں کے گھروں میں رہنے سے ان کا تعلیم سے رشتہ بھی بہت زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔ بچوں کا تعلیم سے رشتہ ٹوٹنا اتنا بڑا نقصان ہے جس کی بھرپائی نہ صرف مشکل ہے بلکہ نا ممکن سا لگتا ہے۔ غرض ۲۰۲۰ میں پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ملک اور جموں وکشمیر میں لاک ڈائون ہونے کی وجہ سے ہر قسم کا شہری متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکا۔ وائرس نے صرف لوگوں کی جان ہی نہیں لی بلکہ نہ جانے کتنے لوگوں سے ان کا روزگار چھین لیا اور کافی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو گئے، اسی سال لاکھوں مزدوروں کو ہم نے تمام پریشانیوں سے روبرو ہوتے دیکھا ان کو سڑکوں پر اپنے گھروں کو جاتے پریشانیوں کا سامنا کرتے دیکھا، اسی سال لاک ڈائون کی وجہ سے ملک کی ایک بڑی آبادی کو کافی دقتوں اور پریشانیون کا سامنا کرنے کو مجبور ہوناپڑا اورآج بھی کافی لوگ کورونا کی مار کسی نہ کسی شکل میں جھیل رہے ہیں۔ کاروباری کاروبار کے لحاظ سے اور دوسرے سیکٹروں میں کام کرنے والے گامگار اپنے اپنے لحاظ سے متاثر ہیں۔ اس طرح سے اگر ہم ۲۰۲۰ کی بات کریں تو ۲۰۲۰ ہم سے جدا تو ہوا ہے مگر ہر کسی کے دل و دماغ میں ایسے چھاپ چھوڑ کر گیاجوشاید کبھی نہ مٹنے والے ہیں۔ ۲۰۲۰ ایسا گزرا کہ جس کا تصور کبھی کسی نے خواب میں بھی نہیں کیا ہوگا ۔
نئے سال کے آنے میں تو ہر بار کی طرح اس بار بھی ہم کو نئے سال سے نئی امیدیں وابستہ ہیں اور ہونی بھی چاہئے کیونکہ مرض کے بعد صحت ، برائی کے ساتھ اچھائی، ستم کے ساتھ کرم، زخم کے ساتھ مرہم ، بدی کے ساتھ نیکی اور خزاں کے ساتھ بہار کی روایت ابھی ختم نہیں ہوئی، اس لیے مایوسی کفر ہے۔ امید پر دنیا قائم ہےلیکن ہم کو اس پر ضرور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہم پر ایک کے بعد ایک بربادی اور پریشانی کیوں آرہی ہے کیا ہم راہ سے بھٹک چکے ہیں اور ہم سے ہمارا رب ناراض ہے اور کیا ہم اپنی ہی ذمہ داری کو پوری ایمانداری سے انجام دے رہے ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سے ناانصافی ہو رہی ہے؟ کسی کا حق ہم مار رہے ہیں؟ ہم سب کو بدلنا ہوگا۔اس لئےہم اپنی آنکھوں میں بہتری کے خواب سجائےسال۲۰۲۱ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔نیا سال مستقبل کی خوش آئند امیدوں کے ساتھ ہماری زندگیوں میں قدم رکھ رہا ہے۔ہمیں نہ صرف آنے والے سال کے لیے اچھی اچھی سوچیں سامنے رکھنی چاہیے بلکہ گزرے ایام کا ایک تنقیدی جائزہ بھی لینا چاہیے کہ کن جگہوں پر ہم سے غلطیاں سرزد ہوئیں اور کہاں ہم نے کوئی غفلت کی۔ اگر اپنی اس کارگزاری کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنی آئندہ حکمت عملی بنائیں گے تو یہ یقیناہمارے لیے نیا سال مفید ثابت ہوگا۔