خبریں

نیشنل کانفرنس کو کمزور نہ کیا گیا ہوتا تو 5اگست2019ممکن نہیں ہوپاتا

نیشنل کانفرنس کو کمزور نہ کیا گیا ہوتا تو 5اگست2019ممکن نہیں ہوپاتا

جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مضبوط نیشنل کانفرنس کے سائے تلے 5اگست2019کے فیصلے ممکن نہیں ہوپاتے،نیشنل کانفرنس کی کمزوری یہاں کے عوام کی کمزوری بن جاتی ہے ،یہ حقیقت ہے اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ اگر گذشتہ30سال کے دوران نیشنل کانفرنس کو کمزور نہ کیا گیا ہوتا تو 5اگست2019ممکن نہیں ہوپاتا۔ نیشنل کانفرنس کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کمزور کیا گیا۔عمر عبد اللہ نے بتایاہماری جماعت کے لیڈران عوام کو بتاتے رہے کہ نیشنل کانفرنس کی کمزوری آپ کیلئے خطرناک ثابت ہوگی اور بالکل وہی ہوا، نیشنل کانفرنس کمزور ہوئی اور 5اگست2019ممکن ہوپایا۔آج نہ ہمارا آئین ، نہ ہماراجھنڈا، نہ ہماری زمین ، نہ ہماری نوکریاںاور نہ ہمارے افسررہے۔لیکن اس کا علاج آج بھی ممکن ہے اور اس کا علاج نیشنل کانفرنس کو طاقتور اور مضبوط بنانا ہے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے دمحال ہانجی پورہ نورآباد کولگام میں پارٹی کےرہنما حاجی ولی محمد ایتو کی 27ویںبرسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈر و سابق وزیر سکینہ ایتو، ضلع صدر کولگام ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، ضلع صدر پلوامہ حاجی غلام محی الدین میر اور ترجمان عمران نبی ڈار کے علاوہ کئی لیڈران اور عہدیداران موجود تھے۔عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام 5اگست2019کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ جو ہم سے چھینا گیا وہ ہمیں واپس دیا جائے اور ہم اس بات پر قائم و دائم ہیں اور رہیں گے ۔یہ پیغام میں آپ کے پاس اپنی جماعت اور بالخصوص اپنی جماعت کے قائد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے لیکر آیا ہوں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ گذشتہ سال ان دنوں ہم جیلوں، سب جیلوں اور گھروں میں نظر بند تھے،ہمیں عوام سے دور رکھا جارہا تھا اور مقصد یہ تھا کہ ہماری جماعت ٹوٹ جائے اور بکھر جائے لیکن ہمارے ورکروں نے ثابت کردیا کہ وہ دائیں بائیں جانے والے نہیں۔ نیشنل کانفرنس کی یہی طاقت ان کے گلے سے نہیں اُترتی ہے۔ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ جموں وکشمیر کے عوام کا بھلا چاہا ہے اور اس کیلئے بیش بہا قربانیاں پیش کیں ہیں۔ہم ہمیشہ وکالت کرتے آئے ہیں اور آج بھی یہی کہتے ہیںجموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مشروط الحاق کے وقت جو وعدے کئے گئے اور جن وعدوں کو آئینی میں درج کرکے عملی جامہ پہنایا گیا اُن کوپورا کیا جانا چاہئے۔جموں و کشمیر کے مسئلے کی بات آتی ہے تو اس کا حل بھی ہم بات چیت کے ذریعے نکالنے کی وکالت کرتے ہیں۔ لیکن ہماری یہ باتیں کچھ لوگوںکو پسند نہیں آتی اور ہمیں طعنے دیئے جاتے ہیں، ہمیں بکائو اور ملک دشمن کہا جاتا ہے لیکن آخر پر ان لوگوں کو ہماری باتوں پر ہی عمل کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک بار پھر خفیہ طور نے ہندوستان اور پاکستان نے بات چیت کے دروازے دوبارہ کھولے اور جنگ بند کے معاہدے پر من و عن عمل کرنے کا عہد کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہماری سیاست بدترین سیاست نہیں ہے،ہم وہ جماعت نہیں جو صبح ایک ، دوپہر دوسری اور شام کو تیسری بات کرے۔ نیشنل کانفرنس یہاں کے عوام کی بنائی ہوئی ہردلعزیز جماعت ہے اور یہ وقت وقت پر ثابت ہوتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ڈی ڈی سی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے کسی بھی لیڈر نے انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی بڑی بڑی ریلیاں اور جلسوں کا انعقاد کیا۔ ہم نے اُمیدوار کھڑے کئے اور فیصلہ لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا اور عوام نے ہمیں جو تعاون اور اشتراک دیا اُس سے ہمارے حوصلے بلند ہوئے۔