خبریں

نیشنل کانفرنس کی توجہ عیش و آرام اور اقتدار پر مرکوز

نیشنل کانفرنس کی توجہ عیش و آرام اور اقتدار پر مرکوز

پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت نے ریاستی عوام کو مایوسی و ذلت کے سوا کچھ نہیں دیا ہی۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس 60 برسوں سے اقتدار سے چمٹی رہی مگر بدلے میںیہاں کے وسائل کا سودا کیااور ریاست کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ پی ڈی پی لوک سبھا میں مسئلہ کشمیر اور ریاستی عوام کو درپیش مسائل کو ابھارنے کے علاوہ ملک بھر کے مسلمانوں کی ترجمانی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔نور آباد اور کولگام اسمبلی سے تعلق رکھنے والے پارٹی کارکنوں کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں وکشمیر ریاست کی واحد مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ملک میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے لیکن نیشنل کانفرنس حقیر سیاسی مفادات اور اپنے لیڈروں کیلئے وزارتی عہدوں کی دوڑ تک محدود رہنے کی وجہ سے ہندوستانی مسلمان بھی قابل اعتماد قیادت سے محروم رہ گئے۔محبوبہ نے کہا کہ پی ڈی پی قومی سطح پر ایک قابل عمل کشمیرپالیسی مرتب کرنے پر زور دے گی، اس پس منظر میں حالیہ پارلیمانی انتخابات اپنے جمہوری حقوق کے حصول کی جد و جہد میں ایک سنگ میل ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرتے ہوئے ہم ملک کے 20کروڑ مسلمانوں کی قیادت میں پیدا شدہ خلا کو پْر کرنے کی بھی کوشش کریں گے جو بد قسمتی سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ پی ڈی پی صدر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی توجہ صرف اپنے عیش و آرام اور اقتدار پر مرکوز رہی اور انہوں نے نہ تو ریاستی عوام کے مسائل کے ازالہ کی کوئی کوشش کی اور ملک کے مسلمانوں کی ترجمانی کرنے میں بھی پوری طرح ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ جب گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے تو واجپائی سرکار میں عمر عبداللہ وزیر مملکت تھے لیکن اس قتل عام کے بعد بھی وہ این ڈی اے میں بنے رہے اور انہوں نے کرسی چھوڑنا گوارہ نہیں کی۔ محبوبہ نے کہاکہ اتنا ہی نہیں ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے عدالت سے بھی پہلے مودی کو کلین چٹ دے دی اور بعد میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے اللہ کو اپنی آنکھوں میں دیکھا ہے۔ملک کے مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے میں یو پی اے ناکام رہی ہے اور اس کے لئے نیشنل کانفرنس پوری طرح سے ذمہ وار ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف واحد مسلم ریاست کی سیاسی جماعت ہونے کے ناطے نیشنل کانفرنس نے کبھی صدائے احتجاج بلند نہیں کی بلکہ پارٹی نے ’فرقہ وارانہ فسادات بل‘ کو پاس کروانے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی۔ اسی طرح یو پی اے کا حصہ ہونے کے باوجود این سی نے سچر کمیٹی رپورٹ پر عملدرآمد کیلئے بھی زور نہیں ڈالا، اس رپورٹ میں ملک کے مسلمانوں کے مختلف مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے ان کے ازالہ کے لئے بعض تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ محبوبہ نے کہا کہ گھوٹالوں کے بوجھ تلے دبی نیشنل کانفرنس نے عوام کا استحصال کیا اور ریاست کے مفادات کو گروی رکھ دیا اب اس جماعت نے علاقائی پارٹی ہونے کا اعتماد کھو دیا ہے جوملک کی دیگر ریجنل پارٹیوں کو حاصل ہے ، کیوں کہ وہ جماعتیں اپنے عوام کی حق تلفی کے خلاف آواز بلند کرنے سے نہیں گھبراتیں اور مفادات کا سودا نہیں کرتیں۔ اس کے برعکس نیشنل کانفرنس نے اقتدار میں بنے رہنے کے لئے ریاست کے ساتھ ہونے والے امتیاز اور استحصال سے آنکھیں موند رکھیں۔ محبوبہ نے کہا کہ پی ڈی پی کی تشکیل سے جموں کشمیر کی سیاست کے حوالہ سے نہ صرف ریاست بلکہ قومی سطح پر بھی ایک قابل ذکر تبدیلی رونما ہوئی ہے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک مسئلہ کا دائمی حل تلاش نہیں کر لیا جاتا۔ انہوں نے کہا

کہ موجودہ حکومت نے پی ڈی پی کی طرف سے لوگوں کی حمایت سے شروع کئے گئے مفاہمت،امن اورتعمیر نو کے عمل کو الٹ کر رکھ دیا۔