اداریہ

وادی سردی کی چپیٹ میں

فی الوقت وادی سخت سردی کی چپیٹ میں ہے اور چلہ کلان کا آناا بھی باقی ہے، رواں موسم میں خوشک سالی کی وجہ سے عوام کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا ہے ، خشک سالی سے رواں موسم میں متعدد جگہوں پر آگ کی وارداتیں بھی رونما ہوئیں جس سے نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ دو ایک جگہ پر قیمتی انسانی جانوں کے ضیاں کی بھی خبر آئی، سردی کے ایام گزارنے کےلئے اگر چہ وادی میں باقی موسوں کے بجائے ضرورتیں اور بھی زیادہ ہیں جن میں خاص طور پرسردی کا مقابلہ کرنے کےلئے بھالن اور بجلی کا ہونا زیادہ اہم ہے، تاہم اب جبکہ ایک طرف وادی میں سردی کے ایام چل رہے ہیں تو دوسری طرف وادی کے عوام کو بجلی کی سپلائی متاثر ہے، اس لحاظ سے وادی میں خاصی پریشانی دیکھنے کو ملتی ہے۔ نومبر مہینے کے آغاز سے ہی وادی کے اکثر علاقوں میںبجلی نے اپنی آنکھ مچولی کرنی شروع کی ۔وادی کے کئی علاقوں میں صرف بجلی کی آنکھ مچھولی دیکھنے کو ملتی ہے اور اکثر علاقے مکمل طور پر گھپ اندھیرے کا نظارے کر رہے ہیں ان میں سے خاص طور پر وادی کے دور دراز علاقے ہیں جن میں اب بجلی کا نظر آنا محل ہی لگتا ہے ،شامل ہیں، اکثر اوقات میں ان علاقوں کے لوگ اس بات کے لئے پریشان نظر آتے ہیں کہ روزمرہ کے استعمال کے چیز خاص طور پر موبائیل چارج کرنے کے لئے بھی طرح طرح کے دقتوں کاسامنا ہے، اکثر بجلی غائب رہنے کی وجہ سے دیہاتی علاقوں کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں کے صارفین خاصے پریشان نظر آتے ہیں، کئی حلقوں میں یہ بات عام ہو گئی کہ دربارمو کے ساتھ ریاستی سرکار نے بجلی کو بھی اپنے ساتھ جموں منتقل کردیا ہے کیونکہ سرکاری دفاتر بند ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی میں بڑے پیمانے پر بجلی کی غیر متواتر کٹوتی شروع کردی گئی ہے۔ تاحال اکثر علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی سے نجات ملنے کا کہیں سے بھی ہوئی اشارہ نہیں ملتا ،حد تو یہ ہے کہ امسال بجلی محکمہ نے موسم سرما میں بجلی کٹوتی کا شیڈول تک اجراء نہیں کیا۔ اس طرح سے وادی میں رہنے والے لوگوں کو ایک طرف بجلی کی نا مناسب سپلائی کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف سردی کے چپیٹ میں مبتلا ہیں۔