اداریہ

وادی میں سیاحت اور روزگار

خدا کی قدرت کے حسین نظاروں کو تحریر کرنا ہمارے بَس میں نہیں۔ ان خوبصورت نظاروں کو صرف محسوس ہی کیا جاسکتا ہے اور محسوس کرکے دل سے بےاختیار اللہ کے حمد و ثنا ہی کیا جاسکتا ہے۔ایشیاء کا سب سے بڑا اور دل کو معطر کرنے والا باغ ’باغ گل لالہ‘آج کل سیاحوں کےلئے کھلا ہے اور ملک کے ساتھ ساتھ مقامی سیاحوں کا باغ کی طرف خاصا رش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یقینی طور پر اس باغ کے کھل جانے سے وادی میں سیاحت کو تقویت مل رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ سیاحت وادی کے لئے خوش شگون مانا جاتا ہےکیونکہ باغ میں سیاحوں کےسیرپر آنے سے کافی حد تک یہاں روزگار مہیا ہو سکتا ہے۔
وادی میں روزگار کے وسائل نہ ہونے کے باعث تعلیم یافتہ بے روزگاروں کے ساتھ ساتھ نوجوانوںکی بڑی تعداد ذہنی پریشانیوںمیں مبتلا ہو گئی ہے جبکہ کئی تعلیم یافتہ روزگار مہیا نہ ہونے کے باعث نفسیاتی بیماریوں کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ حالانکہ سرکاری کی جانب سے تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنے کے بارے میں صرف دعوے کئے جاتے ہیں جبکہ عملی اقدامات اٹھانے کے سلسلے میں سرکار غیر سنجیدہ ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ بے روزگاری نے نوجوان طبقے کو نفسیاتی بیماریوںمیں مبتلا کر دیا ہے۔ یہاں اب تعلیم یافتہ بے روزگار اپنی زندگیوں کے خاتمے کےلئے آمادہ ہو رہے ہیں۔ حالانکہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا سراسر غلط اور بے قوفی مانی جاتی ہے ۔ اس لئے سرکار کو چاہئے کہ جس طرح سےٹولپ گارڈن کو دیدزیب بنایا گیا اُسی مانند دوسری جگہیں تلاش کریں جس سے یہاں بے روزگاری پر قابو پایا جا سکے۔ سیاحت کےفروغ سے بھی یہاں کافی حد تک بے روزگاری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ یہ بھی حقیقت ہےکہ وادی میں واحد ٹولپ گارڈن ہی سیاحت کو فروغ دینے کےلئے کافی نہیں بلکہ بہت سارے ایسے دوسرے سیاحتی مقامات ہیں جن کو اگر دید زیب بنایا جائے تو یہاں کی سیاحت چار چاند لگ جائے گی ۔ اس طرح سے سیاحتی مقامات کو دیدزیب بنانے سے سیاحت میں اضافہ ہو جائے گا اور کافی حد تک بے روزگاری کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتاہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پوری وادی بذات خود ایک ٹورسٹ سپارٹ ہے مگر یہاں کچھ ایسے مقامات ہیں جن کو اگرٹولپ گارڈ کی طرح دید زیب بنایا جائے تو یہ وادی اور بھی چار چاند لگ جائے گئی۔ آج کل سیاح زبرون کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع لاکھوں درآمدی پھولوں کے انتہائی دلکش و خوبرؤ مسکن، باغِ گل لالہ فی الوقت سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کیوں کہ اس شہرہ آفاق باغ کو عام سیاحوں کے لئے کھول دینے کے ساتھ ہی یہاں سیاحوں کا رش بڑھ رہا ہے۔لگ بھگ600کنال اراضی پرپھیلے براعظم ایشیاءکے اس سب سے بڑے اوروسیع باغ یعنی ٹولپ گارڈن کو باغ گل لالہ کے نام سے شہرت ملی ہے۔ سال2006میں اُسوقت کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کی ذاتی خواہش وکاوشوں کے نتیجے میں کشمیر کاپہلا ٹولپ گارڈن ایک سال کے مختصرعرصہ میں تیارہوگیا ،اورسال2007میں باغ گل لالہ کوسیاحوں ومقامی سیلانیوں کیلئے کھول دیاگیا۔ٹولپ گارڈ ن یاباغ گل لالہ سری نگرکی دیکھ ریکھ اوراسکو سجانے وسنوارنے کی ذمہ داری محکمہ پھولبانی کشمیر کوسونپی گئی اورگزشتہ لگ بھگ 15برسوں سے یہی سرکاری محکمہ باغ گل لالہ کی نگرانی کررہاہے۔پہلے پہل ٹولپ گارڈن سری نگرمیں کچھ اقسام کے درآمدی پھولوںکی شجرکاری عمل میں لائی گئی لیکن اب ان درآمدی ٹولپ کیاریوں کی تعداد64تک پہنچ چکی ہے۔جہاں تک ٹولپ پھول کاتعلق ہے تواس کے کئی رنگ ہوتے ہیں لیکن سرخ رنگ والے ٹولپ پھول زیادہ پائے جاتے ہیں اوراس رنگ کے ٹولپ پھول دیکھنے والوں کوکچھ زیادہ ہی پسند آتے ہیں لیکن سرخ کے علاوہ گلابی ،پیلے اورسفید رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔ٹولپ کوللی پھولوںکے کنبے کاایک فردماناجاتاہے۔ ابتدائی طور پر ٹولپ پھول جنوبی یورپ سے وسطی ایشیاءتک پایاجاتاتھا ، لیکن سترہویں صدی سے وسیع پیمانے پراسکی قدرتی نوعیت اور کاشت شروع ہوگئی ۔بہرحال کشمیرکے ٹولپ گارڈن کوسجانے وسنوارنے اوریہاں اُگائے گئے ٹولپ کے مختلف اقسام کی دیکھ بال کی ذمہ داری محکمہ پھولبانی کے وہ ملازمین انجام دیتے ہیں،جن کومالی یاباغوان کہاجاتاہے ۔یہ اسی محنت کش طبقہ کی لگن اورمشقت کانتیجہ ہے کہ باغ گل لالہ میں ہرسال مختلف اقسام کے لاکھوں ٹولپ پھول کھلتے ہیں اورلاکھوں مقامی لوگوںاورسیاحوں کواپنی جانب راغب کرتے ہیں ۔