خبریں

وادی میں غذائی اجناس کا بحران

وادی میں غذائی اجناس کا بحران

شہرو گام میں غذائی بحرا ن اور دیگراشیاء ضر وریہ کی قلت نے ہا ہا کار مچا د ی ہے کیونکہ غیر منصفا نہ را شن کی تقسیم کاری سے مصنو عی قلت پیدا کر کے شہرو گام کے اکثر سرکاری راشن گھا ٹوں پر چاول ، آٹا اور کھا نڈ نا یا ب کیا گیا ہے اس دوران صارفین کو مقرر مقدار سے کم اور اضافی قیمتوں پر چاول کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ جبکہ مہنگائی ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے سامنے محکمہ امو رصا رفین نے گھٹنے ٹیک کرر بازاروں میں لوٹ کھسوٹ کی کھلی چھوٹ دی ہے ۔ محکمہ امو ر صا ر فین کے سابق و طبی تعلیم کے مو جو دہ وزیر تا ج محی ا ید ین نے مو جو دہ غذائی بحرا ن کو محکمہ کی نا اہلیت سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا نے غذائی اجناس کی تقسیم کاری کے معاملے میں کوتاہی اور غفلت شعاری سے کام نہیں لیاہے بلکہ مقا می پا لسی سا ز وں کی غیر منصفا نہ تقسیم کار ی مصنو عی قلت پیدا کرتی ہے۔
وادی بھر میں غذائی اجناس کی شدید قلت نے ہا ہا کا ر مچا دی ہے جبکہ عوامی سطح پر محکمہ امورصارفین کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ شہر کے اکثر اور دیہات کے تمام سرکاری راشن گھاٹوں پر چاول ، آٹا اور کھانڈ دستیاب نہیں ہیں جبکہ صارفین کو مقرر مقدار سے چاول کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔وادی کے شمال و جنوب میں عام آدمی چاول ،کھانڈ اور آٹے کو لیکر پریشان نظر آرہا ہے کیونکہ سرینگر شہر اور وادی کے دوسرے کئی علاقوں میں قائم سرکاری راشن گھاٹوں پر چاول ،آٹا اور کھانڈ نایاب ہے۔عو امی حلقو ں نے شد ید غم و غصے کا اظہا ر کر تے ہو ئے انکشا ف کیا کہ شہر خا ص کے کم و بیش تما م علا قوں کے را شن گھا ٹ خا لی ہے۔ درجنوں راشن گھاٹوں پر غریب اور متوسط گھرانوں کے لئے مخصوص چاول ، آٹا اور کھانڈ دستیاب نہیں ہے کیونکہ گذشتہ کافی وقت سے ان گھاٹوں کو ضرورت کے مطابق مذکورہ غذائی اجناس کی فراہمی نہیں ہورہی ہے۔متاثرہ علاقوں کے صارفین نے بتا یا شہر خا ص کے کم و بیش تما م علا قوں کے را شن گھا ٹ خا لی ہیں کہ سرکاری راشن گھاٹوں کے اکثر و بیشتر خالی رہنے کے نتیجے میں انہیں مجبورا بازار سے منہ مانگے داموں پر چاول ، آٹا اور کھانڈ خرید نا پڑرہا ہے ۔ انہوں نے بتا یا کہ کہ گھاٹوں کے خالی رہنے یا ضرورت کے مطابق وہاں غذائی اجناس کی دستیابی نہ ہونے کا معاملہ جب متعلقہ گھاٹ منشیوں کی نوٹس میں لایا جاتا ہے تو ان کا ایک ہی جواب ہوا کرتا ہے کہ شالی اسٹور چاول آٹا اور کھانڈ ضرورت کے مطابق فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔ ان کا کہناتھا شا لی اسٹو روں یا دیگر گوداموں سے چو نکہ کم مقدار سے سپلا ئی فراہم کی جا تی ہے اس لئے وہ عا م صا رفین کی ضروریات کو پو را نہیں کر پا تے ہیں لوگوں کا الزام ہے کہ سرکاری را شن گھا ٹ خا لی رہنے کا خمیا زہ عا م ار غریب صا رفین کو اٹھا نا پڑ تا ہے کیونکہ انھیں بازا روں سے مہنگے دا موں پر چاول، کھا نڈ خر یدنا پڑ رہا ہے۔ شہر خا ص میں راشن کی قلت کا معا ملہ جب سی این ایس نے موجو د کا بینہ وز یر علی محمد سا گر کی نو ٹس میں لایا تو انہو ں نے کہا کہ وہ اس با رے میں جا نکا ری لینے کے بعد ضر وری کاروائی کے اقدا ما ت اٹھائیں گے۔ ادھر ڈلگیٹ،بچھوارہ،سونہ وار، اورگگر ی بل میں کھانڈکی شدید قلت ‘پائی جاتی ہے۔ لو گو ں کا کہ کہنا تھا صارفین کو فی راشن ٹکٹ پرصرف ایک کلو کھانڈ فراہم کرنے سے انکی ضروریات پوری نہیں ہوتیں جسکے نتیجے میں غریب لوگ اونچے داموں بازاروں سے کھانڈخریدنے پر مجبور ہیں انہو ں نے کہا کہ جس گھر میں افراد خا نہ کی تعداد دس سے زیا دہ ہوگی وہ اس پر کیسے گذ ارہ کر سکتے ہیں۔ لو گو ں نے یہ بھی انکشا ف کیا کہ جس راشن گھا ٹ پر پندرہ سو را شن گھا ٹ درج ہے وہاں صر ف با رہ سو راشن ٹکٹو ں کو را شن فرا ہم کی جا تی ہے اوریوں تین سو راشن کار ڈوں کی سپلا ئی بچت کر کے بلیک میں فر و خت کی جا تی ہے جبکہ حیر ت انگیز طور پر عا رضی راشن کارڈو ں پر دی جانے والی راشن کی سپلائی روک کر ہزاروں صا رفین کوپریشا ن کر دیا گیا۔ دریں ا ثنا ہ وادی کے دیگر قصبو ں سے اطلاع ہے کہ سر کا ری راشن گھا ٹوں پر چاول،آٹااورکھانڈکی شدید قلت ‘پائی جاتی ہے اور لوگ محکمہ امور صارفین کے سا تھ ساتھ ریاستی سرکار کے خلاف بھی سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔ان علا قوں میں کئی ماہ قبل چاول کی سپلائی ڈالی گئی لیکن کھانڈ گذشتہ کئی مہینوں سے غائب ہے لیکن اسکے باوجود بھی سرکاری راشن گھاٹوں سے ان غذائی اجناس کی تقسیم کاری اورفراہمی کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ حکام ٹس سے مس تک نہ ہو رہے ہیں۔صارفین نے بتایا کہ راشن گھاٹوں کوخالی رکھ کر محکمہ امور صارفین نے سنگین جرم کا ارتکاب کرنے کے ساتھ ساتھ غذائی اجناس کے پرائیویٹ ڈیلروں کے ساتھ خفیہ ساز باز ہونے کا معاملہ خود ہی بے نقاب کر دیا کیونکہ مذکورہ افسران نے اپنی نا اہلیت اور عدم توجہی کی بنا پر غریب صارفین کو بازاروں کا رْخ کرنے پر مجبور کیا ۔ صا رفین کا الز ام ہے محکمہ امور صا رفین کے ڈائیر یکٹراور اسسٹنٹ ڈائیر یکٹر سٹی اس خفیہ ساز باز پر پردہ ڈا لنے کے لئے اعلیٰ سر کا ری بیروکریٹوں کے گھر سرکاری سپلا ئی پہنچا تے ہیں کیو نکہ چند دن قبل اسسٹنٹ ڈایر یکٹر سٹی کے کہنے پر ڈی سی آ فس سرینگر کھا نڈ پہنچا نے کا معاملہ سا منے آ نے کے بعدلو گوں کے شک وشبہا ت کو تقو یت ملی ہے۔ لو گو ں کا یہ بھی کہناہے کہ محکمہ کے علیٰ حکام اور پالیسی سازوں نے اس محکمہ کو تبا ہی کے دہلیز پر لا کھڑ ا کر دیا ہے۔ غریب لوگ اونچے داموں بازاروں سے غذائی اجناس خریدنے پر مجبور ہیں۔سرکاری راشن گھاٹوں کے خالی رہنے کیخلاف غریب عوام کاواویلاکسی صاحبِ اقتدار کے گوش گذارنہیں ہورہاہے محکمہ امو ر صا رفین کے ایک گھا ٹ منشی نے اپنا نام ظا ہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صا رفین کی شکا یت سو فی صددرست ہے اس دوران محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے ایک آفیسرنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ سرکاری راشن گھاٹوں پر کھانڈ کی خاطرخواہ مقدار ذخیرہ یا اسٹور کی جاتی تھی لیکن اس اسے بلیک میں فر وخت کیا جاتا ہے کئی گھاٹ منشیوں نے بتایا کہ وہ چاول ، آٹا اور کھانڈکی درکار مقدار سپلائی کرنے کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کرتے رہے لیکن وہاں سے نہ تو کوئی معقول جواب ہی دیا جا رہا ہے۔ اور نہ مذکورہ غذائی اجناس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے جسکی وجہ سے غذائی اجناس کی شدید قلت کے باعث غریب عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اس دوران نمائندے نے مختلف سبزی فروشوں کے نرخ معلوم کرتے ہوئے بتایا کہ بازاروں میں کدو فی کلو50 روپیہ ،ٹماٹر70، پالک 30، مٹر35،پیاز 25 روپیہ پر فروخت کی جاتی ہے جبکہ گو شت خرید نااب ایک عا م آدمی کے بس میں نہیں رہاہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صارفین کے حقوق کو تحفظ دینے والے محکمے خواب خرگوش میں ہیں اور انہیں راحت پہنچانے کے سلسلے میں کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے گوکہ ایسا لگتا ہے کہ ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے سامنے انتظامیہ گھٹنے ٹیکنے لگی ہے اور بازاروں میں لوٹ کھسوٹ کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے ۔ پائین شہر کے غلام رسول متو نے بتایا کہ انتہائی افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ تاجر، دکاندار ریڑھی والے اور چھاپڑی فروش لوکوں کا خون چوستے ہیں اور اس طرح مصنوعی مہنگائی پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی جاتی ہے۔اس دوران جب محکمہ امور صا رفین کے وزیر چو دھر ی رمضا ن سے رابطہ کرنے کی کو شش کی گئی تو مو صو ف نے فو ن نہیں اٹھا یا۔