خبریں

وادی میں ہڑتال سے عام زدنگی مفلوج

وادی میں ہڑتال سے عام زدنگی مفلوج

مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے دی گئی ہڑتالی کال سے وادی میں عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی جس دوران دکانیں ،کاروباری ادارے اورتجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پرمسافر ٹرانسپورٹ معطل رہا اور بانہال اور بارہمولہ ریل سروس بھی بند رہی ۔ اس دوران بیشتر مزاحمتی قائدین کو گھروں میں خانہ نظر بند رکھا گیا۔ سید علی گیلانی، محمد یاسین ملک نے دلی میں کشمیری طلاب کے خلاف پولیس کریک ڈائون ،پروفیسر ایس اے آر گیلانی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ دائر کرنے اور جواہر لال یونیورسٹی میں طالب علموں کی گرفتاری کے خلاف مکمل ہڑتال کال دی تھی۔مختلف سیاسی وسماجی تنظیموں نے بھی اس کال کی حمایت کی تھی جسکے پیش سنیچروارکو بازار اور دیگر تمام کاروباری مراکز بند رہنے کے علاوہ سڑکوں سے مسافر و نجی گاڑیاں غائب رہیں۔ ہڑتال کی وجہ سے سرینگر میں موجود سرکاری دفاتر میں معمول کا کاج متاثر رہا۔ادھرسرینگر میںممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر صبح سے ہی سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر مائسمہ اور پائین شہر کے چند حساس علاقوں میں صبح سے ہی سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کو تمام ضروری ساز و سامان سے لیس کرتے ہوئے تعینات کر دیا گیا تھا۔ شہر سرینگر میں تمام دکانیں ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز ،تعلیمی ادارے اورسرکاری وغیر سرکاری دفاتر مکمل طور بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت بھی معطل رہی۔ ٹرانسپورٹ کی معطلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کچھ حد تک بٹہ وارہ سے بٹہ مالو تک میٹا ڈار سروس بھی معطل رہی۔ادھرشما لی قصبہ سوپور میں فورسز اور پولیس کی اضافی کمک تعینات رہی جس کے دوران قصبہ میں عام لوگوں کی نقل و حرکت محدود ہو کر رہ گئی۔بارہمولہ میںبھی مکمل ہرتال رہی،قصبہ میں دکان اورکاروبارے ادارے بندتھے جبکہ سڑکوںپر ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔ وادی کے طویل و عرض میں ہڑتال کال کا اثر دیکھنے کو ملاجس کی وجہ سے تمام قسم کی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئیں۔ادھرجنوبی کشمیر کے بیشتر قصبہ جات اور اضلاع میں ہڑتال کا اثر دیکھنے کوملاتاہم کسی بھی جگہ سے کو ئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔بانڈ ی پور ہ ،سمبل پٹن ،ٹنگمر گ ، اور وسطی کشمیر کے بڈ گا م ، گا ندر بل ،کنگن اور دیگر مقا ما ت پر ہڑ تال کی وجہ سے عام زند گی متا ثر رہی جس کے دوران ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے ۔ اچھ بل ، ویری ناگ ، ککرناگ عشمقام ،آرونی اورڈورو میں مکمل بند رہا جس کے دوران ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب اور دکانیں و دیگر تجارتی ادارے بند رہے۔کولگام سے اطلاع ہے کہ کھڈونی ،کیموہ ،یاری پورہ ،دیوسر ،قاضی گنڈ اور دھمال ہانجی پورہ میں مکمل ہڑتال رہی اور فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔پانپور، کھریو، شوپیان، ترال، اونتی پورہ ، پلوامہ ،لاسی پورہ شاہورہ ا ور کاکہ پورہ وغیرہ کے مقامات پردکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد رفت بھی متاثر ہوکر رہ گئی تھی۔ ویلگام ،ترہیگام ،کرالہ پورہ ،سو گام اور دیگر مقا مات پر ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی۔ اس دوران حریت(گ)اورلبریشن فرنٹ کی جانب سے دی گئی ہڑتالی کال کے پیش نظرریلوے حکام نے ہفتے کے روز بارہمولہ اور بانہال کے درمیان ریل سروس معطل ر کھی۔ اس دوران شبیر احمد شاہ،نعیم احمد خان، محمد یاسین ملک ،غلام نبی سمجھی، ایاز اکبر ،پیر سیف اللہ اور دیگر قائدین کو بدستور پولیس تھانوں یا اپنے اپنے گھروں میں نظربند رکھا گیا ہے۔