مضامین

وزیراعظم انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت پر کاربند رہیں

وزیراعظم انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت پر کاربند رہیں

پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو اجاگرکرتے ہوئے ممبر پارلیمنٹ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے وعدے پرکار بند رہنے کی اپیل کی۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی وہ بات تازہ کی گئی جس میں انہوں نے کہا ’ہم دوست بدل سکتے ہیں ہمسایہ نہیں‘ کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کشمیر سے متعلق مسائل کو حل کرنے کیلئے قومی اتفاق رائے پر زور دیا۔ نئی لوک سبھا کیلئے اسپیکر کا انتخاب عمل میں لانے کیلئے خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اسپیکر کے انتخاب سے متعلق لوک سبھا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر سے جڑے مسائل اور مشکلات کا تفصیلی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ نمائندوں کی تعداد کے اعتبار سے جموں و کشمیر ایک چھوٹی ریاست ہو سکتی ہے لیکن اس چھوٹی ریاست کے عوام کو سب سے زیادہ مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے صرف6ممبران اس بڑے ایوان میں عوام کی نمائندگی کیلئے منتخب ہوئے ہیں لیکن ریاستی عوام کو جتنے مصائب اور مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اس اعتبار سے ہم6ممبران کو اس ایوان میں اپنے خیالات کے اظہار اور اپنے عوام کی نمائندگی کا پورا پورا موقعہ دیاجانا چاہئے۔انہوں نے پھر ایک مرتبہ کہا کہ ہماری ریاست چھوٹی ہے لیکن ہماری ریاست کو ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مشکلات درپیش ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاستی عوام نے بڑی امیدوں اور توقعات کے ساتھ ہمیں منتخب کر کے ہم سب پربھاری ذمہ داریاں ڈالی ہیں اور ان ذمہ داریوں میں سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ملک کے اس سب سے بڑے ایوان میں اپنے عوام کے احساسات ، جذبات ، مطالبات اور مشکلات کی صحیح صحیح انداز میں ترجمانی کریں۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد جموں و کشمیر کے عوام میں ایک نئی امید پیدا ہو چکی ہے اور اب یہ اس ایوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کی امیدوں کو کس قدر پورا کرتا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ فی الوقت مرکز اور کشمیری عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان پایا جاتا ہے اور پہلے اقدام کے طور اس اعتماد کے فقدان میں کمی لانا ضروری ہے۔انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود نئی مرکزی حکومت کے ذمہ داروں ، اپوزیشن لیڈران اور جملہ نو منتخب ممبران لوک سبھا کی توجہ کشمیر کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ مثبت تبدیلی کیلئے کشمیریوں کے اعتماد کو بحال اور ان کے مشکلات کا سدباب کرنا ہوگا۔محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیرکی صورتحال کو پورے ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے اس بات پرزور دیا کہ جموں و کشمیر سے جڑے تمام مسائل کو حل کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی جانی چاہئے۔انہوں نے وزیر اعظم نریندرا مودی سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہم امید کرتے ہیں آپ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے مشن کشمیر کو آگے بڑھاتے ہوئے انسانیت ، جمہوریت اور کشمیریت کے وعدے کو پورا کریں گے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیری عوام کو صرف مختلف طرز کی زیادتیوں اور نا انصافیوں کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑ رہا ہے بلکہ اہل وادی ترقی اور روزگار کے حوالے سے بھی نالاں و پریشاں ہے۔دریں اثناء محبوبہ مفتی اور سینئر لیڈر مظفر حسین بیگ ریلوے وزیر سدھانند گوڑا سے ملاقی ہوئے اور ان پر زور دیا کہ بانہال ادھمپور ریلوے لائن پر کام سرعت سے کیا جائے۔ ریلوے وزیر کو دونوں ممبرانِ نے کہا کہ اس علاقے میں موسمی حالات کے پیش نظر لوگوں کو گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا ریلوے لائن کی فوری طور پر تعمیر مکمل کی جانی چاہئے۔ انہوں نے ریلوے وزیر سے یہ بھی کہا کہ نئے ریلوے سٹیشن قائم کئے جائیں تاکہ لوگوں کے رش کو قابو میں کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ ریلوے وزیر کو یادہانی بھی کرائی گئی کہ ریلوے لائن کو کپوارہ تک لیا جائے۔ اس موقعے پر ریلوے وزیر نے اپنے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مظفر حسین بیگ کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت کیا کریں۔ ریلوے وزیر نے پی ڈی پی ممبران کی جانب سے ریلوے ٹریک پیرپنچال تک لیجانے کی درخواست پربھی ہمدردانہ غور کرانے کی یقین دہانی کرائی اس کے علاوہ چناب ویلی کے دیگر علاقوں تک بھی ریل سروس مہیا کرنے کیلئے تجاویز سے اتفاق کیا۔