سرورق مضمون

وزیراعظم کا کشمیردورہ ریل چلانے کے علاوہ کچھ اہم اعلانات!

وزیراعظم کا کشمیردورہ ریل چلانے کے علاوہ کچھ اہم اعلانات!

ڈیسک رپورٹ

وزیر اعظم جون کے آخری ہفتے میں کشمیرآرہے ہیں ۔ان کا استقبال کرنے کے لئے آج سے ہی سرکاری سطح پر تیاریاں کی جارہی ہیں۔ وزیراعظم بانہال اور قاضی گنڈ کے درمیان ریل چلانے کی ایک افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے کی غرض سے کشمیر آرہے ہیں۔ کشمیر میں بہت پہلے سے یہ کوششیں کی جارہی ہیں کہ وادی کا باقی دنیا کے ساتھ ریل رابطہ قائم ہوجائے۔ اب جبکہ یہ رابطہ قریب نظر آرہاہے ، وزیر اعظم ریل گاڑی کا افتتاح کرنے کے لئے بذات خود یہاں تشریف لارہے ہیں ۔ ان کے ساتھ اعلیٰ حکومتی اور سیاسی اہلکار ہونے کاامکان ہے جس وجہ سے کئی لوگ دوسرے چند معاملات زیر بحث آنے کی امید کررہے ہیں۔پردیش کانگریس کے کئی لیڈر اس حوالے سے بڑے سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ اپنی سطح پر وزیر اعظم سے ملنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ وزیر اعظم کا کشمیر دورہ بہت ہی مختصر ہونے کی امید ہے ۔ البتہ اس دوران کئی سیاسی معاملات زیر بحث آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے ۔
وزیر اعظم کے کشمیر دورہ کے دوران جو بڑی سیاسی مسائل سامنے لائے جارہے ہیں ان میں فوج کو حاصل خصوصی اختیارات والا قانون افسپا سر فہرست بتا یا جارہا ہے ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ افسپا کے حوالے سے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے لیڈر کچھ دنوں سے جو شور کررہے ہیں اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ وزیراعظم اپنے کشمیر دورہ پر اس موضوع پر کوئی اہم اعلان کرنے والے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر وزیر اعظم کے دفتر میں صلاح مشورہ ہورہاہے ۔ اس غرض سے سیاسی سطح کے علاوہ فوجی سطح پر بھی غور خوض کیا جارہاہے ۔ فوج چونکہ اس معاملے پر سیاسی حلقوں سے متفق نہیں ہے اور افسپاہٹانے کی مخالفت کررہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک افسپا ہٹانا ممکن نہیں ہوسکاہے۔ چند روز پہل تک کانگریسی لیڈر بھی فوج کے خیال کی حمایت کررہے تھے ۔ لیکن اچانک ان میں تبدیلی کے آثار نظر آنے لگے ہیں ۔ کانگریس کے ریاستی صدر سیف الدین سوز نے اپنے ایک تازہ بیان میں افسپا ہٹانے کی حمایت کی ہے ۔ ان کے اس بیان کو وزیر اعظم نے کافی سراہااور امید ظاہر کی کہ ان کے اس بیان سے افسپا ہٹانے میں بہت مدد ملے گی۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ریاست میں بہت سے علاقے بالکل پر امن ہیں جہاں ملی ٹنسی کا وجود نہیں ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں سے افسپا ہٹایا جانا چاہئے ۔ فوج کا خیال ہے کہ افسپا ہٹانے سے ملی ٹنسی دوبارہ شروع ہونے کا کافی امکان ہے۔ افسپا کے حوالے سے یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ حقوق انسانی کی وکالت کرنے والی کئی عالمی تنظیمیں اس کے نافذ کرنے پر ہندوستان کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں ۔ اس وجہ سے ملک کے سربراہوں کو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ یہ بھی ایک اہم وجہ ہے کہ افسپا ہٹانے پر زور دیا جارہاہے۔
افسپا کے ہٹانے کے علاوہ کئی لوگ کہہ رہے ہیں کہ حریت کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے ۔ اس پر بھی وزیر اعظم کشمیر میں دہلی کا موقف بیان کرنے والے ہیں ۔ حریت (م) کے اندر ایک بڑا گروہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ دہلی کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے دہلی حریت مذاکرات پھر سے شروع ہونے چاہئے ۔ اس حلقے نے میر واعظ پر زور ڈالنا شروع کیا ہے کہ موجودہ جوں کی توں پوزیشن کو قائم رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس گروہ میں پروفیسر غنی ، عباس انصاری اور بلال غنی لون شامل بتائے جارہے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کا کوئی سیاسی رول نہیں پایا جاتا ہے۔ ان کو نظر انداز کئے جانے کی سبب عوام میں بھی ان کی کوئی پوزیشن نہیں رہی ہے۔ ان کی ساخت کافی متا ثر ہوگئی ہے ۔ میر واعظ خود عالمی سطح پر کچھ سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے تمام دوسرے ساتھی نظر انداز کئے جارہے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ دہلی ان کو ایک بار پھر مذاکرات کے لئے دعوت دے ۔ وہ خود کئی بار اس کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ وزیراعظم کے کشمیر دورہ پر اس حوالے سے کوئی اہم اعلان ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے ۔یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کے کشمیر دورہ کو کافی اہمیت دی جارہی ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا دورہ محض ریل گاڑی کا افتتاح کرنے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس موقعہ پر کئی اہم سیاسی اعلانات ہونے والے ہیں ۔ ہمیں بھی انتظار رہے گا کہ کیا کچھ ہونے جارہاہے ۔