اداریہ

وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی خاموش کیوں؟

کشمیر میں ڈیڑھ مہینے سے جاری تشدد اور شہری ہلاکتوں کی وجہ سے وادی میں معمولات زندگی پوری طرح مفلوج ہے اور کہیں سے بھی حالات معمول پر آنے کا نام نہیں لیتا۔8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کم عمر کمانڈر برہان وانی دو ساتھیوں کے ساتھ کوکرناک کے بمڈورو علاقے میں جان بحق کئے جانے کے بعد کشمیر میں ایک زبردست عوامی ایجوٹیشن پیدا ہو گئی ہے ، اس عوامی ایجوٹیشن میں اب تک تقریباً65 لوگ جان بحق ہوئے جن میں کئی ایک خواتین بھی شامل ہیں۔8 جولائی کے بعد انتظامیہ نے کشمیر کے سبھی ضلعوں میں کرفیو نافذ کیا اور تقریباً سبھی علاقوں سے احتجاج کے طور پر لگاتار جلوس برآمد ہوتے رہیں، کئی ایک علاقوں میں پتھراؤ کے واقعات بھی لگاتار رونما ہوتے رہیں۔ آئے روز پیلٹ فائرنگ سے درجنوں افراد زخمی ہوتے رہیں اور ایسے خبروں کی اشاعت ہو رہی ہیں جن سے انسانی جانیں کانپ رہی ہیں۔محبوبہ مفتی والی سرکار نے گلہ کرفیو کا ریکارڈ توڑ کر وادی میں لگاتار کرفیو اور بندشیں عائد کی ہیں اوربغیر بی ایس این ایل پوسٹ پیڈ کے تمام موبائیل اور انٹرنیٹ خدمات کو معطل کیا، اتنا ہی نہیں کئی روز تک وادی میں اخبارات کی اشاعت پر بھی پابندی عائد کی گئی جس کو بعد میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے معذرت ظاہر کر کے اخبار مالکان کو دوبارہ اخبارات کی اشاعت شروع کرنے کے لئے کہا ،لیکن تب سے بھی بہت دن گذر گئے ہر طرف احتجاج ہی احتجاج ہیں اور کہیں نہ کہیں پر وادی میں شہری تشدد کے نشانے بن رہے ہیں مگر وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی تب سے لگاتار خاموش ہے اور اپنی نوکری کو دو دو ہاتھوں سے پکڑ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد پہلے ایک بیان دیا جس میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُنہیں لوگوں کی عزت ووقار سے وزیراعلیٰ کا منصب زیادہ پیارا نہیں ا ور خدانخواستہ اگر کبھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہو گئی تو وہ فوراً وزیراعلیٰ کا عہدہ چھوڑنے کے تیار ہو گی۔ مگر آج زمینی صورتحال اس کے برعکس ہیں، آج قریباً وادی میں65 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور سات ہزار سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں جن میں سے سینکڑوں افراد بینائی سے بھی محروم ہوئے اور ایسے شہریوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو مکمل طور معذور ہوئے ہیں اور کئی ایک سننے سننانے کے بھی قابل نہیں رہے۔ تاہم ایک سوالیہ ہے کہ محبوبہ مفتی اس ساری صورتحال کو لے کر خاموش کیوں ہے؟ عوامی ایجوٹیشن ڈیڑھ مہینے سے جاری ہے اور محبوبہ مفتی ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے۔جانکار حلقے اس بات سے کافی خفا ہے کہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اگر چہ پہلے بہت کچھ کہہ رہی تھی مگر حقیقی معنوں میں اس پر آج کار بند نہیں ہے۔ محبوبہ مفتی والی سرکار کی انتظامیہ پوری طرح مفلوج نظر آرہی ہے،برعکس اس کے کہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ریاست کی سربراہ ہے اور وہ یہاں انتظامی افسروں کو ہدایت جاری کرتیں مگر الٹا حکومت میں شامل ساجھے دار پارٹی اپنا کافی اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنے من پسند فیصلے لینے میں کوئی بھی عار محسوس نہیں کرتی۔ جس سے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی ساکھ اور زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔