نقطہ نظر

’’ وفود آتے جاتے رہتے ہیں ‘‘

رشید پروینؔ سوپور

ہم نے اس مضمون کا عنوان ہی محبوبہ جی۔ سابقہ چیف منسٹر کے بیان سے لیا ہے جو انہوں نے اس وفد کے بارے میںدیا۔ اور اسکی وجہ یہ ہے کہ کبھی کبھی سابقہ چیف منسٹر سے اچھے اور دلچسپ جملوں کا ورود ہوتا ہے جو پسند بھی کئے جاتے ہیں اس بات سے قطع نظر کہ سیاسی ترازو میں وہ کتنے وزن دار اور جاندار ہوتے ہیں ،اپنے دورِ حکمرانی میں سارے چیف منسٹر ایسے وفود کا پر تپاک استقبال کرتے رہے ہیں۔بلکہ ان کا حصہ بنتے رہے ہیں کیونکہ یہ ان کے فرائض میں ہی شامل تھا، اب حالات اور حادثات نئے ہیں، شب و روز نئے ہیں اپنی نوعیت کا یہ چوتھا وفد ہے جو وارد کشمیر ہو بھی گیا ،اور اپنے تمام مقاصد کی تکمیل کے بعد اتنی ہی تیز رفتاری سے واپس بھی روانہ ہوا ، اور اتنی ہی برق رفتاری سے یہاں کا جائزہ بھی لیا جیسا کہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں زور سے اس کا شور ہے ،، ۲۴ ممالک کے افراد پر یہ ایک بہت ہی بڑا وفد تھا ، اور سرینگر ائر پورٹ پر اس وفد کا استقبال بھی شاندار تھا اس لحاظ سے کہ کشمیری ’’روف ‘‘سے انہیں خوش آمدید کہا گیا ، اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ کشمیری عوام کو بس اسی ایک وفد کا انتظار تھا اور یہ کہ عوام کے ہر درد کا درماں جو پہلے ہی ہوچکا ہے اب اس سے ان ممالک پر منکشف کرنے کی اشد ضرورت ہے ، جہاں سے یہ مہماں لوگ آئے ہیں ۔ یوں بھی ۵ اگست تک دنیا کے سارے غم کشمیر میں پناہ لئے ہوئے تھے جنہیں ۵ اگست کے جادؤئی چراغ کے جِن نے بیک آن خوشی۔مسرتوں اور شادمانیوں میں بدل دیا ،یہی نظارہ کرنے کے لئے چار فود قافلوں کی صورت اب تک اس جنت بے نظیر کی سیر کرکے سیر ہوچکے ہیں وفد یہاں سے ماگام کی طرف روانہ ہوا جہاں ڈی ڈی سی اور پنچائتی اراکین سے باہم و شیر وشکر ہوئے ، اور یہ جان کر بہت خوش ہوئے کہ ’’ کشمیر امن و اماں ‘‘کا جس طرح سے گہوارہ رہا ہے اس میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ،نہ ۱۹۵۳ اور نہ ہی ۵ اگست کے بعد ، یہ شاید ان تمام اراکین کے لئے کوئی حیران کن بات نہیں رہی ہوگی کیونکہ ان سب کو پہلے ہی سے یہ انمول معلومات دی جاچکی ہوں گی جن کی تصدیق کے لئے سرکار نے انہیں بڑی دھوم دھام سے یہاں تک پھولوں کی پالکیوں میں لایا،اس طرح اس وفد پر بھی یہ عیاں کیا جاچکا ہوگا کہ یہاں سکھ شانتی کے سوا اور کچھ نہیں ۔بس یہ کشمیرمیں گنتی کے چند افراد تھے جو رنگ میں بھنگ ڈالنے کے ذمہ دار اور ایک دوسرے ملک کے ایجنٹ اور گماشتے رہے ہیں ، جنہیں ہم اب پوری لگام دے چکے ہیں وہ بھی ایسی کہ وہ لوگ گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہوچکے ہیں ، ، ماگام ڈگری کالج میں اس وفد کے منتظر ، ڈی ڈی سی اور پنچائتی اراکین بڑی بیتابی سے ان کے منتظر رہے ہوں گے جو حالیہ انتخابات میں عوامی وؤٹ سے ان اداروں کے لئے منتخب ہوچکے ہیں ، اور یہ ضروری اور ناگزیر تھا کہ ان انتخابات کے نتیجے میں چنے گئے لوگوں اور افراد کو وفد میں شامل افراد سے ملوایا جائے اور خود یہ بات ان کی زباں سے کہلوائی جائے کہ جمہوریت کے نازک شیش خانوں میں واقعی جمہوری دلہن محو رقص ہے اور ہم سب اس ماہ پیکر کے ساتھ ’’ رمبا ‘‘ناچ رہے ہیں جو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، ۔۳۷۰ وغیرہ سے کشمیری کوئی دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ ناراض ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کم سے کم سرکار سے روٹھنے کا ڈھونگ ہی کرتے ، لیکن یہاں ایسی ویسی بات نہیں ، ان نئے کشمیری نما یندوں نے یقینی طور پر اس وفد سے وہی کہا ہوگا جو ان کے ذہنی ٹیپ ریکارڈر میں موجود رہا ہوگا ،اور وہی مانگا ہوگا جو ان کے دماغ میں ڈالا گیاہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے کچھ پنچائتی اراکین اور ڈی ڈی سی نمائندوں نے گلی کوچوں اور سٹریٹ لائٹوں کی بھی بات کی ہوگی ،،، جس کے جواب میں ان سفرا نے بھی مزے مزے سے انہیں الہ دین کا جادوئی چراغ دکھا کر اس کے تابع جِن سے ان کی مانگیں پوری کرنے کا وعدہ ضرور کیا ہوگا ، ماگام کے ڈگری کالج میں اسی جمہوری دلہن کی جھلکیاں وفد نے دیکھی ہوں گی لیکن شاید ہی ان کی توجہ اس ہڑتال اور بازاروں کے ویرانے پن پر گئی ہوگی جو وہاں اس دوران موجود تھی ۔ا ن نمائیندوں سے ملانے کا واحد مقصد یہی رہا ہوگا کہ اس وفد کو اور پھر ان کے ذریعے سے اس بات پر یقین دلایا جائے کہ واقعی یہ جمہوریت کسی طرح پابہ زنجیر نہیں بلکہ آزاد اور پورے حسن کے ساتھ زندہ ہے،اس کے فوراً بعد آثار شریف حضرتبل برق رفتاری سے پہنچنا اس بات کی یقین دہانی رہی ہوگی کہ یہاں کشمیر میں ۵ اگست کے بعد اصل مذہبی آزادی بھی نہ صرف برقرار ہے بلکہ کچھ اور ہی آگے بڑھی ہے، ،اور اس کا مشاہدہ وفد نے نمازیوں کی ایک بڑی تعداد دیکھ کرکیا ہوگا ، اگر یہ وفد وارد کشمیر نہیں ہوتا تب بھی یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے میزبان کی ہر بات بغیر کسی شک و شبہے کے اپنی آنکھوں کے سامنے چلتی پھرتی حقیقت نظر آتی ہے ،اس کے بعد للت ہوٹل میں ان لوگوں نے سینکڑوں وفود سے ملاقات کی ہے جنہیں ریاست کادر جہ چھن جانے ، ۳۷۰ اور ۳۵اے کے ہندسوں کا عدد ’’ حرف غلط ‘‘کی طرح مٹنے اور خاتمے سے کوئی دلچسپی نہیں ۔اور نہ ان جیسے دوسرے معاملات سے اپنا تعلق جوڑتے ہیں ۔ بہرحال اب ذارا مقاصد پر بھی بات کریں تو شاید آپ کو یاد ہوگا کہ ۵اگست سے اب تک یہ غیر ملکی وفد تعداد کے لحاظ سے چوتھا تھایعنی اس سے پہلے تین وفود آچکے ہیں ، جن میں پہلا ۲۹اکتوبر ۲۰۱۹کو یہاں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے وارد کشمیر ہوا تھا ، وہ وفد بھی یک طرفہ ہی تھا مطلب یہ کہ بڑے محتاط انداز میں منتخب کیا گیا تھا ، اس کے بعد ۱۵ اراکین پر محیط دوسرا وفد ۹ جنوری ۲۰۲۰ کو یہاں آیا تھا اور اس وفد نے بھی سرکار ی نمائندوں سے بات کرکے تھوڈا سا سیرسپاٹا کر کے اپنی راہ لی تھی ، اس کے ایک ماہ بعد ۱۲ فروری کو ۲۰۲۰ کو ایک اور ۲۵ اراکین پر مشتمل وفد یہاں آیا تھا اور اس طرح سے غیر ممالک وفد کا یہ چوتھا دورہ ہے، دیکھا جائے تو یہ سب دورے ماہوار ہی کیوں نہ ہوں ان کی افادیت اور اہمیت پر جو سوالات کھڑے ہوتے ہیں وہ اپنی جگہ پر جوں کے توں ہیں، ایک بار کچھ اراکین دلی سے ہی صرف اس لئے واپس لوٹے تھے کہ ان لوگوں نے کھلے طور پر مقامی لوگوں سے ملنے کی خواہش کی تھی ، اس طرح کے وفودسے عوام اسی طرح لاتعلق اور بیزار ہیں جس طرح سے رہا کرتے تھے کیونکہ در اصل ان وفود کو زمینی سطح پر عوام سے ملنے یا انہیں سننے کا منڈیٹ نہیں ہوتا اس لئے یقینی طور پر یہ وہی کچھ دیکھتے ہیں جو انہیں دکھایا جانا مطلوب ہوتا ہے یا وہی کچھ سنتے ہیں جو انہیں سنانا مقصد ہوتا ہے ،ان حالات میں جب مرکزی سرکار اپنی اپوزیشن پارٹیوں کو بھی کشمیر آنے کی اجازت نہیں دیتی ، جب بھارت میں کام کرنے والی آزاد این جی اوز کی رسائی بھی عوامی نمائندوں اور عوام تک نا ممکن بنائی گئی ہے۔ ایسے میں ان وفود کے مقاصد اور منزلیں کیا ہوتی ہیں؟ ،،، اس سے پہلے جو وفود آئے ہیں وہ کیا لے کر آئے ہیں اور یہاں سے کیا لے کر جاچکے ہیں؟ ،یعنی کس طرح کی سوچ اور کشمیر کے بارے میں کیا انداز فکر ساتھ لے گئے ہیں ، کبھی پتہ نہیں چلتا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ایک چھو ٹے سے بیان کے بغیر کہ ’’ماشاللہ کشمیر میں سب لوگ خیریت سے ہیں اور کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ‘‘اگر اتنا ہی کہلانے اور بیان دلوانے کے لئے یہ سارا کھڑاگ پھیلانا مطلوب ہوتا ہے تو پھر ۲۴ کیا ۲۴ہزار لوگ باہر کے ۔کیا اندر کے ۔یعنی کشمیر کے یہ منتخب نمائندے بھی ان سے زیادہ کی خیروعافیت والے بیانات اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک دے سکتے ہیں گر اسی بیان کی فکر مرکز کو کھائے جارہی ہے تو حیرت ہے کہ اس سے یہاں کے نجی تعلیمی ادارے یاد نہیں آتے جن کی ایک دو دھمکیوں سے سارے کشمیری لوگ خالی الذہن ہو کر ، اٹھک بیٹھک اور مرغا بننے کے لئے تیار ہوجائیں گے اور یوم والدین کے نام پر زیر تعلیم طلبا کے تمام ہزار ہا گھرانوں کو ان وفود کے سامنے بھگی بلی بناکر حاضر رکھ سکتے ہیں جو یقینی طور پر عوامی جلسے ہی کہلائیں گے ۔ ان کی ایک دھمکی عام و خاص سب لوگوں کا دماغ ٹھکانے لگانے کے لئے کافی ہے ،کیونکہ لاکھوں گھرانے تعلیم کے نام پر ان کے یرغمال ہیں ،بس استعمال کرنے کی ضرورت ہے،ظاہر ہے کہ اس با ر اس وفد کو ڈی ڈی سی انتخابات اور انٹرنیٹ پر لاگو پابندی اٹھانے کے پس منظر میں دیکھنا ہی درست ہوگا کیونکہ انٹرنیٹ پر پابندی سے بھارت پر غیر ممالک میں تنقیدیں ہوتی رہی ہیں اور ڈی ڈی سی اراکین سے وفود کا ملنا اس بات کے شواہد ہیں کہ موجودہ سرکار ہر محاظ پر دوسرے ممالک کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ہم نے یا اس سرکار نے جمہوری سرود کو ہر گھر اور قریہ قریہ پہنچا دیا اور اب ٹھیک ہر کشمیری اپنے گلی کوچوں ، محلوں ، قصبوں شہروں پر اختیار حاصل کر چکا ہے جو جمہوری طرز نظام کا نیو کلیس بھی اور اس سے پہلے کبھی یہ کارنامہ کسی سرکار سے سرزد بھی نہیں ہواتھا جس طرح بابری مسجد وغیرہ کے نمایاں کارنامے موجودہ سرکار کی جھولی میں ہیں ،،، پچھلے ستر برسوں سے وفود اور مذاکرات کا ر ، ہر دور میں آتے اور جاتے رہے ہیں رہے ،، عوام ان وفود سے نہ تو تعلق رکھتے ہیں اور نہ انہیں کوئی اہمیت دیتے ہیں سوائے اس کے کہ ان کے آنے پر غیر اعلانیہ پروٹسٹ کے طور پر خود ہڑتال پر چلے جاتے ہیں ، ،میں نہیں جانتا کہ ان وفود کے کارواں جب سنسان اور ویرا سڑکوں سے گذرتے ہوں گے تو سر کا ری مشینری انہیں اس بارے میں کیا تشریح دیتی ہوگی ،،، شاید سیکورٹی ریزن،،، ۔۔۔۔۔۔۔