سرورق مضمون

ولیج ڈیفنس کمیٹیوں کی تحلیل کا مسئلہ ۔۔۔ افسپا کے بعد حکومت کی ایک اور ناکامی

ڈیسک رپورٹ
ریاست میں ملی ٹنسی کے عروج کے زمانے میں حکومت نے جنگجووں کا اثر کم کرنے کے لئے جو بہت سے اقدامات اٹھائے ان میں ولیج ڈیفنس کمیٹیوں کا قیام ایک اہم قدم مانا جاتا ہے ۔ وی ڈی سی کے نام سے مشہور ان کمیٹیوں کوجموں کے پہاڑی علاقوں میں اس غرض سے وجود میں لایا گیا تاکہ مقامی آبادی کو ملی ٹنسی سے دور رکھا جائے اور ان کے اثر ورسو خ کو پھیلنے نہ دیا جائے ۔ دوردراز کے دیہاتوں سے مخصوص لوگوں کو چن کر انہیں ہتھیار فراہم کئے گئے ۔ یہ ہتھیار فراہم کرکے ایک بڑی غیر سرکاری فوج تشکیل دی گئی اور اس فوج کے ممبروں کوکام کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی۔ اس دوران انہوں نے جہاں فوج کی معاونت کی وہاں ذاتی اغراض کے لئے کئی ایسے کام انجام دئے جو بالکل ہی آئین وقانون کے خلاف تھے ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اپنے علاقوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا جس وجہ سے ان کے خلاف کسی کو زبان کھولنے کی جرات نہ ہوئی ۔ اب پچھلے ایک دو سالوں سے لوگوں نے ان کے کرتوت سامنے لانے شروع کئے اور ان کے خلاف ایک ماحول تیار ہونے لگا ۔ پچھلے کئی مہینوں سے علاحدگی پسند ان کے خلاف بیان دئے جانے اور ان کمیٹیوں کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کئے جانے لگے ۔اسی دوران کشتواڑ میں فرقہ وارانہ فسادات کا ایک سنگین واقعہ پیش آیا جس میں تین افراد کی ہلاکت ، کئی لوگوں کے زخمی ہونے اور لاکھوں روپے مالیت کا نقصان ہونے کی اطلاع ہے۔ اس واقعے کے حوالے سے ایک بار پھر لوگوں نے شکایت کی کہ وی ڈی سی ممبروں نے لوگوں پر بے تحاشافائرنگ کی اور علاقے میں سخت خوف ودہشت کا ماحول پھیلایا ۔ اس واقعے کے بعد ان کمیٹیوں کو تحلیل کرنے اور مختلف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ۔ اب بہت سے حلقوں کی طرف سے ان کمیٹیوں سے وہاں کے لوگوں کو نجات دلانے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔ ادھر حکومت نے اس پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنی بے بسی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ وہ ان کمیٹیوں کو ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ہے ۔
افسپا کے بعد وی ڈی سی کمیٹیوں کی تحلیل میں بے بسی کا اظہار حکومت کی ایک بڑی ناکامی مانی جاتی ہے ۔کچھ عرصہ پہلے حکومت خاص کر وزیر اعلیٰ نے افسپا کے خلاف شدید بیانات دئے تھے اور یقین دہانی کی تھی کہ وہ افسپا کو ختم کرکے ہی دم لیں گے ۔ لیکن بہت جلد وزیراعلیٰ کو معلوم ہوا کہ مسئلہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا وہ سمجھتے ہیں ۔ فوج کے علاوہ ملک کی ایک بڑی جماعت بی جے پی نے افسپا واپس لینے سے انکار کیا اور اس کو فوج کے تحفظ کے لئے بہت ضروری قرار دیا ۔ اس کے بعد مرکزی سرکار نے وزیراعلیٰ کو اس مطالبے سے پیچھے ہٹنے کے لئے کہا ۔ حکم ملتے ہی وزیراعلیٰ نے پسپائی اختیار کی اور اپنے حدود میں رہ کر نئے بیانات دینے شروع کئے ۔ پہلے کہا گیا کہ اسمبلی اجلاس کے دوران افسپا کو ختم کیا جائے گا ۔ پھر ایک سال کا عرصہ مقرر کیا گیا ۔ ناکامی کو یقینی دیکھ کر حکومت کا معیاد ختم ہونے سے پہلے پہل افسپا کی منسوخی کی باتیں کی جانے لگیں ۔لیکن یہ سب باتیں بے بنیاد ثابت ہوئیں اور وزیر اعلیٰ کو اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ اپنے مطالبے سے دستبردار ہوجائے ۔ اب وی ڈی سی کی تحلیل کا مطالبہ کیا جانے لگا تو وزیراعلیٰ اور ان کی حکومت نے پہلے ہی مرحلے پر اپنی لاچارگی دکھائی اور اس معاملے میں مداخلت کرنے سے معذرت ظاہر کی ۔
وی ڈی سی کے حوالے سے یہ بات بڑی اہم ہے کہ ان کمیٹیوں میں ایک مخصوص فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی شامل کئے گئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ظلم کا نشانہ دوسرے فرقے کے لوگ بنتے ہیں ۔ ان کاکام ملی ٹنسی سے ہٹ کر اب عام لوگوں پر ظلم کرنا ، ان سے مال حاصل کرنا اور ان کی اراضی پر قبضہ کرنا رہ گیا ہے ۔ ان کے ہاتھوں مبینہ طور کئی لوگوں کو قتل بھی کیا گیا ۔ لیکن آج تک ان کی کسی غیرقانونی حرکت پر ان کے خلاف کاروائی تو کیا ان کی سرزنش بھی نہ کی گئی ۔ ان کی طرف سے ہتھیاروں کا غلط استعمال کئے جانے کے باوجود ان سے ہتھیار نہیں چھینے گئے اور یہ برابر ان کا غلط استعمال کررہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ سخت خوف و دہشت کا شکار ہیں ۔ ان کی کوئی بھی چیز یہاں تک کہ لڑکیوں کی عزت بھی محفوظ نہیں ہے ۔ ان کے ہاتھوں کئی لڑکیوں کا اغوا کیا گیا اور بہت سی معصوم لڑکیوں کی عصمت بھی تار تار کرنے کا ان پر الزام لگایا گیا ۔ اس قسم کی صورتحال میں ان کمیٹیوں کی تحلیل بہت ہی اہم مانی جاتی ہے ۔لیکن کئی حلقوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کمیٹیوں کو ختم کرنا ناممکن بن رہا ہے۔ حالانکہ ان کمیٹیوں کا کوئی کام اب نظر نہیں آتا ہے ۔ ان علاقوں کے اندر ملی ٹنسی ختم ہونے کے بعد وہاں وی ڈی سی کی موجودگی اب بے مقصد ہوکر رہ گئی ہے ۔ایک زمانے میں ممکن ہے کہ ان کی وجہ سے لوگ ملی ٹنسی کا ساتھ دینے سے پیچھے رہ گئے ہوں لیکن اب ان سے فرقہ پرست قوتوں کو مدد ملنے کے بغیر کوئی خاص کام نہیں ہوتا ہے ۔ زمینی سطح پر ان کی اب سرے سے کوئی ضرورت نظر نہیں آتی ہے ۔ لوگ اس بات کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ ان کو کسی دوسرے مقصد کے لئے اب تک قائم رکھا گیا ہے ۔ بہت سے لوگ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی عسکریت پسندوں کے خلاف اپنے بندوق استعمال نہیں کئے ۔ ملی ٹنٹوں کو دیکھ کر یہ لوگ خوف سے کانپتے تھے بلکہ ان سے کئی دفعہ ہتھیار چھین لئے گئے ۔ البتہ سیول لوگوں پر بندوق استعمال کرنا ان کا مشغلہ بن گیا ہے ۔ اب یہ بات ضرروی نظر آتی ہے کہ ان سے بندوق چھین کر انہیں قانون کا تابع بنایا جائے۔