اداریہ

ووٹروں کو لبھانے کیلئے نئے وعدے

ریاست میں اسمبلی انتخابات کا اب باضابطہ آغاز ہورہاہے اور اس سلسلے میں اگر چہ ابھی تک الیکشن کمیشن کی طرف سے تین نوٹیفکیشن جاری بھی کی گئیں تاہم سیاسی پارٹیاں جلسے جلسوں، ریلیوں اور روڑ شوز میں ووٹروں کو لبھانے میں خوب سیاست کر رہی ہیں۔ عوام کو لبھانے کیلئے طرح طرح کے استحصالی وعدے کرتے ہیں۔ ہرکوئی سیاسی پارٹی ووٹروں کے سامنے نئے نئے استحصال وعدے کر کے عوام سے ووٹ بٹورنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام بھی استحصالی پارٹیوں کے وعدے دلچسپی کے ساتھ سن رہے ہیں اور ان پارٹیوںکے جلسوںجلوسوں اور ریلیوں کی رونق بن جاتے ہیں۔ ہر اُس پارٹی کے جلسے جلوس اور روڑ شوز و ریلے کی رونق بنتے ہیں جو ان ووٹروں کے پاس ووٹ مانگنے جاتے ہیں۔ یہی  ووٹر صبح نیشنل کانفرنس کی ریلی کو رونق بخشتی ہے اور دوپہر کو کانگریس کے جلسے کو کامیاب بناتی ہے بعد میں پی ڈی پی کے روڑ شو کو اور زیادہ کامیاب بناتے ہیں اور تو اور شام کو اب بی جے پی کے انتخابی جلسے کو بھی رونق بخشتے ہیں۔ ووٹر اب بھول جاتے ہیں کہ ان سیاسی پارٹیوں کی طرف سے آج تک گذشتہ الیکشنوں کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں میں سے کون سے وعدے پورے کئے گئے۔ یہی لیڈر اور سیاسی پارٹیوں کے رہنما جو آج  ووٹروں کے پاس ووٹ مانگنے کیلئے  جاتے ہیں اور کل کامیاب ہونے کی صورت میں ان کے دروازے انہی ووٹروں کیلئے بند ہو جاتے ہیں اور تو اور جب اقتدار حاصل کرتے ہیں تو عوام پر ظالم اور جابر بن کر سامنے آتے ہیں۔ اُنہیں طرح طرح کے مشکلات میں جکڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ۔ حق کی بات کرنے والوں کو جیلوں اور تھانوں میں سڑاتے ہیں۔ اب مین سٹریم پارٹیوں کے لیڈران یہ کہنے میں نہ کوئی شرم کرتے ہیں اور نہ ہی اس بارے میں اُنہیں کہنے میں کوئی دقعت پیش آتی ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار میں بہت کچھ کرتے مگر حکومت میں شامل دوسری پارٹی نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا۔ اب اگر وہ اقتدار میں آتی تو ضرور عوام کی بہبود کیلئے ان تمام کاموں کو اولین فرصت میں کرے گی جو ان کی ترجیح میں شامل ہے۔ اس طرح سے اور وعدوں پے وعدے کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ مگر حد تو یہ ہے کہ عوام نے آج تک لگاتار ان لیڈروں اور پارٹیوں کے جھانسے میں آکر اُنہیں کامیاب بنانے میں اپنا رول ادا کیا۔ ووٹر محمد افضل گورو کی شہادت کو بھول جاتے ہیں اور تو اور اُنہیں اس بات کا احساس نہیں رہتا کہ 2010 میں ان ہی ووٹروں کے نونہالوں اور  نوجوان بچوں کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا ۔ ووٹروں کو شوپیان کی آسیہ اور نیلو فر بھی اس وقت کہاں یاد رہتی ہے۔  ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو اپنے تئیں بیداری پیدا کرنی چاہیے اور حق کا ساتھ دینا چاہیے۔