اداریہ

ووٹ بنک پالیسی

ریاستی کابینہ نے گذشتہ روز ملازمین کی ریٹائرمنٹ عمر کی حد میں دو سال کا اضافہ کر کے اب 58 کے بجائے 60 کر دی ہے اور اسی طرح نواجوں کیلئے سرکاری سیکٹر میں ملازمتیں حاصل کرنے کیلئے 37 کے بجائے 40 سال مقرر کی ہے ۔اس طرح سرکاری سیکٹر میں ملازمت حاصل کرنے کیلئے ابتدائی عمر کی حد میں تین سال کا اضافہ بھی کیا گیا۔برسراقتدارجماعتیں نیشنل کانفرنس اور کانگریس دونوں پارٹیاں اس کابینی فیصلے کو اپنے اپنے کھاتے میں جوڑنے کی بھر پور کوششیں کر رہی ہیں۔ کئی ایک لیڈر اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ کابینہ کا یہ فیصلہ تاریخ ساز ہے اور اسے نوجوانوں کی اُمیدیں جاگ گئی ہے۔ تاہم کئی ایک عوامی حلقے اس فیصلے کو سراسر غلط اور نا انصافی سے تعبیر کرتے ہیں اور کئی حلقے اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ملازمین کے ریٹائرمنٹ عمر کی بالائی حد میں دو سال کا اضافہ پڑھے لکھے نوجوانوں کیلئے قتل سے کم نہیں ہے اور حکومت کو چاہیے تھا کہ ملازمین کے ریٹائرمنٹ عمر میں دو سال کے بجائے ایک سال کم کرنا چاہیے ۔ ہاں اس سے بہتر ہے کہ بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے وسائیل تلاش کرنا ہے۔ کئی ایک حلقے اس بات کا بھی برملا اظہار کرتے ہیں کہ اگر چہ کئی لیڈروں نے اس فیصلے سے نوجوانوں کے اُمیدیں جاگنے کی بات کی ہیں تاہم یہ سچ ہے کہ اس فیصلے میں نوجوانوں کے اُمیدیں جاگنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کئی ایک حلقے اس بات کو بھی دہراتے ہیں کہ ملازمین کے ریٹائرمنٹ عمرکی بالائی حد میں اضافے کرنے سے عام آدمی کو کون سا فائدہ پہنچ سکتا ہے اور یہ بھی رائے ہے کہ ریاست میں ہر کوئی سرکاری ملازم نہیں ہے۔ ملازمین کی تعداد محدود ہے اور اس سے دوسرے طبقوں کا کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ ہاں عام آدمی کے روزمرہ استعمال کے اشیاء کے قیمتوں اور بجلی فیس میں کمی نیز راشن کے کوٹے میں اضافہ کرنے سے کچھ حد تک عام آدمی کو راحت پہنچ سکتا ہے۔عام رائے یہی ہے کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی سربراہی والی حکومت نے ریاست میں لوک سبھا کی سبھی نشستوں پر الیکشن میں راست شکست کھانے سے یہ اقدام اٹھائیں ہیں تاکہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں ان دونوں پارٹیوں کے لئے یہ ووٹ بنک ثابت ہو سکے۔