بلاگ

ٹرانسپورٹ سیکٹر کو 700کروڑ رو پے کا خسارہ
حکو مت فوری راحتی اقداما ت کر نے میں دیر نہ کر ے

جموں وکشمیر کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو پچھلے دو سال کے دوران 7سو کرو ڑ رو پے کا خسارہ بھگتنا پڑ اہے اور اگر لا ک ڈائون کی صورتحال جا ری رہی تو اس صنعت کے ساتھ وابستہ ہزاروں افراد ما لی خسارے کی انتہا کو پہنچ جا ئیں گے۔ٹرانسپورٹ کشمیر نا می انجمن کے جنرل سیکرٹری محمد یو سف نے حال ہی میں ایک مقامی خبر رساں ادارے کے ساتھ با ت کر تے ہو ئے کہا کہ سال2019ء میں بھا رت کی مر کزی حکومت کی جانب سے دفعہ370اور35Aکو منسوخ کر نے اور جموںو کشمیر کی ریا ستی حیثیت ختم کر کے اسے دو مر کزی زیر انتظام علا قوں میں تقسیم کر نے کے فیصلے سے قبل عائد کئے گئے لاک ڈائون اور اس کے بعد کو رونا وائرس کے پھیلا ئو کے نتیجہ میں عائد کی بندشوں کا سلسلہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ کے لئے سم ِ قاتل ثابت ہوا ہے ۔ محمد یو سف کا کہنا تھا کہ ہما رے ٹرانسپورٹ سیکٹر کی ایک بد قسمتی یہ بھی ہے کہ اس کا دارومدار بینکوں پر سب سے زیا دہ ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہ سیکٹر جموں وکشمیر کے اندر با لعموم اور وادی کی ا ندر با لخصوص ابھر نہیں پا یا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ رواں بر س اب تک اس شعبے کو 200کروڑ رو پے کے نقصانا ت سے دو چار ہو نا پڑا ہے اور اگر حالا ت یو ں ہی ابتر رہے تو ما لی خساروں کا یہ سلسلہ طو یل تر ہو تا جا ئے گا ۔اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجا ئش نہیں ہے کہ گزشتہ تیس سال کے دوران جموں وکشمیر میں نجی ٹرانسپو رٹ کے حجم میں تشویشنا ک اضافہ ہوا ہے جس کا سب سے پہلا اور مضر اثر پبلک ٹرانسپورٹ پر پڑا ہے ۔نو ے کی دہا ئی میں آئے رو ز ہو نے والے ہڑ تا ل ،کر فیو اور پھر دیگر قسم کے نا مساعد حالات نے بھی اگر کسی شعبے کو کمر توڑ حد تک متا ثر کر دیا ہے تو وہ یہاں کا ٹرانسپو رٹ سیکٹر ہے اور اس سیکٹر سے وابستہ اکثر لو گ اب تک کی سبھی حکو متوں سے یہ گلا کر تے آئے ہیں کہ انہوں نے اس سیکٹر کو استحکا م بخشنے اور اس شعبے کے ساتھ وابستہ لو گوں کی فلا ح و بہبو د کے لئے کبھی بھی کو ئی پا لیسی نہیں بنا ئی جس کی وجہ سے اس شعبے کو یہاں ہر آن اور ہر وقت مسائل کا سامنا رہا ہے ۔محمد یو سف کا کہنا تھا کہ پچھلے دس سال کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم وبیش پچاس فیصد بڑ ھ گئی ہے جبکہ کرا ئے میں محض 17فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ ٹرانسپو رٹروں کے لئے کمر تو ڑ مسئلہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کی ٹرانسپو رٹ انجمنوں نے وقتاً فوقتاً ہر حکومت کے سامنے اپنے مطالبا ت کی فہرست رکھی تھی تاہم کسی نے بھی اس جا نب کو ئی ہمدردانہ تو جہ نہیں دی اور اب صورتحال سب کے سامنے ہے ۔محمد یو سف کہتے ہیں کہ نئی دہلی میں اروند کیجروال حکو مت نے لا ک ڈائون شروع ہو تے ہی ٹرانسپو رٹروں اور یو میہ اجرت پر کا م کر نے والے کا مگا روں کے لئے ایک راحتی سکیم کا اعلا ن کیا جس کے تحت ان لو گوں کو ما ہا نہ پا نچ ہزار روپے کی امداد دینے کا اعلا ن کیا گیا اور یہ سکیم تب تک جا ری رہے گی جب تک کووڈ لا ک ڈائون کو مکمل طور ہٹا یا نہیں جا تا تا ہم ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کی حکو مت نے اس طرح کی کو ئی راحتی سکیم نہیں اپنا ئی اور اکثر و بیشتر ڈرائیور اور ان کے افراد خانہ دووقت کی روٹی کو ترسنے لگے ہیں ۔جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے کچھ عر صہ قبل ایک راحتی سکیم کا اعلان کیا تھا جس کے تحت منی بسوں کے لئے 5000،سومو اور تویرا گا ڑیو ں کے لئے 3000جبکہ آٹو رکشوں کے لئے اور اس طرح کے دیگر ذرائع رسل و رسائل کیلئے دو ہزار روپے کی ایمنسٹی سکیم کا اعلا ن کیا گیا تھا تاہم محمد یو سف کے بقول یہ سکیم ایک تو انشورنس کے زمر ے میں تھی اور دوسرا یہ یک وقتی سکیم تھی جس سے ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو کو ئی فا ئدہ نہیں ہوا اور اگر کچھ فائدہ ہوا بھی تو وہ ان گا ڑیو ں کے مالکان کو ہوا ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق جموں وکشمیر میں اس وقت 50ہزار کے برابر چھوٹی بڑ ی گا ڑیا ں بے کا ر پڑ ی ہو ئی ہیں اور دوسری جا نب تشویشنا ک مسئلہ یہ ہے کہ ان گا ڑیوں کے ما لکان میں سے اکثر ایسے ہیں جنہو ں نے بینکو ں سے بھا ری قرضے لئے ہیں اور اس طرح سے ان پر لا ک ڈائون کے دوران بھی سودلگا تار چڑ ھ رہی ہے ۔ایک ایسے وقت میں جبکہ یہ سیکٹر پہلے ہی 700کروڑ رو پے کے نقصانات سے جھو جھ رہا ہے ،بینکوں کی جانب سے سود کی شرح میں کسی قسم کی رعایت نہ کر نے اور حکو مت کی جانب سے ٹرانسپو رٹ سیکٹر کے احیاء کے لئے کو ئی اقداما ت نہ کر نے کے نتیجہ میں اس سیکٹر کے ساتھ وابستہ ٹرانسپو رٹروں کے دیوالیہ ہو جا نے کا خطرہ ہے اور اس سے ہزاروں کنبو ں کے روزگا ر پر اثر پڑ ے گا ۔جموں وکشمیر جیسی غیر صنعتی ریا ست جہاں پہلے سے ہی نجی سیکٹر میں روز گا ر کے وسائل اور ذرائع کا فی کم ہیں،ہزاروں ڈرائیوروں اور کلینروں کا بے کا ر و بے روز گا ر ہو جا نا ایک سنگین مسئلہ کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ ان میں سے اکثر جرائم کا پیشہ اختیا ر کرسکتے ہیں جو کہ حکو مت کے لئے بھی اور سماج کے لئے بھی ایک خطر نا ک با ت ہو سکتی ہے ۔اس دوران حکو مت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس سیکٹر کے احیا ء کے لئے فو ری اور مو ثر اقداما ت کئے جانے چاہئیں ۔