مضامین

ٹنل کے آر پار متواتر بارشوں کا سلسلہ

موسلا دھار بارشوں کے بیچ سانبہ میں ہند پاک سرحد پر بجلی گرنے سے ایک فوجی اہلکار ہلاک اور دو دیگر بری طرح سے زخمی ہوئے ، ڈوڈہ اور ادھم پورمیں زمین کھسکنے کے واقعات کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے ہنگامی بنیادوں پر بند کردئے گئے جبکہ وادی کے مختلف علاقوں سے بھی زمین دھنس جانے کے بعد کئی کنبے محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔ادھر فوج نے ٹنگڈار کپوارہ میں برفانی تودہ گرآنے کے بعدخواتین اور بچوں سمیت73افراد کو بچانے کا دعویٰ کیا ہے۔تازہ موسمی حالات کے باعث ٹنل کے دونوں طرف متعدد رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں تاہم پسیاں گرآنے کی وجہ سے رات بھربند رہنے والی سرینگر جموں شاہراہ کوگاڑیوں کی آمدورفت کیلئے کھول دیا گیا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اتوار دوپہر سے موسم میں بہتری واقع ہوگی اور بارشوں کا سلسلہ تھم جائے گا۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق وادی کے طول و عرض اور جموں خطے میں بارشوں کا سلسلہ سنیچر کو مسلسل دوسرے روز بھی وقفے وقفے سے جاری رہا تاہم جمعہ کے مقابلے میں کم بارشیں ہوئیں اور سرینگر میں دوپہر کے بعد کچھ دیر کیلئے سورج کی آنکھ مچولی بھی دیکھنے کو ملی۔گزشتہ دو روز کے دوران نہ صرف جواہر ٹنل کے آر پار موسلا دھار بارشیں ہوئیں بلکہ بالائی علاقوں میں تازہ برفباری بھی ہوئی اور کچھ ایک جگہوں سے بھاری برفباری کی اطلاعات ملی ہیں۔بارہمولہ، کپوارہ، بانڈی پورہ اور گاندربل کے پہاڑی علاقوں کے ساتھ ساتھ شوپیان، اننت ناگ اور کولگام کے بالائی مقامات پر بھی تازہ برفباری ہوئی ہے۔اس دوران سرینگر سمیت میدانی علاقوں میں جم کر بارشیں ہوئیں جس کے نتیجے میں معمول کی زندگی بر طرح سے متاثر رہی۔اُدھر کے ایم این نمائندے کے مطابق پیر پنچال پہاڑی سلسلے کے ساتھ ساتھ سرینگر جموں شاہراہ پر واقع متعدد مقامات پر موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں شیر بی بی، رامسو، گانگرو، پنتھہال، کرول اور کالاموڑ سمیت کئی جگہوں پر پسیاں اور چٹانیں کھسکنے کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے باعث شاہراہ کوجمعہ کی شب ٹریفک کی آمدورفت کیلئے بند کردیا گیا تھا۔اس صورتحال کی وجہ سے 400 چھوٹی بڑی مسافر اور مال بردار گاڑیاں رات بھر درماندہ شاہراہ پر رہیں ۔تاہم بیکن اہلکاروں نے بھاری مشینری کی مدد سے بارشوں کے باوجودشاہراہ سے پسیاں ہٹانے کی کارروائی رات بھر جاری رکھی۔سنیچر کی صبح موسم میں قدرے بہتری کے ساتھ ہی بیکن اہلکار شاہراہ کو ٹریفک کی آواجاہی کے قابل بنانے میں کامیاب ہوگئی جس کے بعد پہلے درماندہ گاڑیوں کو اپنی منزلوں کی طرف چھوڑ دیا گیا۔بعد میں جموں سے بھی گاڑیوں کا سرینگر کی طرف آنے کی اجازت دی گئی، البتہ قاضی گنڈ سے صرف چھوٹی گاڑیوں کو شاہراہ کی طرف جانے دیا گیا۔مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ شاہراہ کا رخ کرنے سے قبل ٹریفک کنٹرول یونٹ سے شاہراہ کی تازہ ترین صورتحال کی جانکاری حاصل کریں۔اس دوران پسیاں گرآنے کے سبب بٹوت کشتواڑ سڑک کو گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے مکمل طور بند کردیا گیا ہے۔سڑک پر اسر، کورا پانی، دنسل گتسو، پریم نگر اور کندنی سمیت نصف درج مقامات پر بھاری پسیاں اور چٹانیں گرآئی ہیں۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق ڈوڈہ اور ادھم پور ضلع کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے بعد زمین کھسکنے کے واقعات پیش آئے جس کے پیش نظر انتظامیہ نے ضلع کے تمام تعلیمی اداروں کو اتوار تک بند کرنے کا ہنگامی فیصلہ کیا۔حکام کے مطابق یہ اقدام بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔دونوں اضلاع میں12اور13مارچ کو منعقد ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کئے گئے ہیں۔بالائی علاقوں کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ برفانی تودے گرآنے کے خدشات کی وجہ سے وہ نقل و حرکت میں احتیاط برتیں۔ادھر مہور سے ریاسی اور راجوری کی طرف جانے والی دو سڑکیں بھی مٹی کے تودے اور پتھر کھسکنے کی وجہ سے بند کردی گئی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ راجوری، پونچھ ،ریاسی، ڈوڈہ اور جموں خطے کے دیگر علاقوں میں سنیچر کو بھی تیز بارشوں کا سلسلہ جاری رہا۔