خبریں

پابندیاں بلا جواز اور افسوسناک

حریت (ع) چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے 13 جولائی کو کشمیر کی تحریک آزادی کا ایک تاریخ ساز دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن کشمیری عوام نے شخصی راج کیخلاف اور اپنے سیاسی و اقتصادی حقوق کی خاطر ظلم و جبر کی قوتوں کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا اور شہادت کے منصب کو گلے لگا کر جدوجہد آزادی کی داغ بیل ڈال دی۔انہوں نے 13 جولائی کو ’’یوم تجدید عہد‘‘کے طور منا نے کی اپیل کرتے ہوئے اس بلند نصب العین کو منطقی انجام تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں نماز جمعہ جیسے اہم دینی فریضے کی ادائیگی پر ریاستی انتظامیہ کی طرف سے طاقت کے بل پر عائدکی گئی پابندی کو بلا جواز اور حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سیاسی، مذہبی اور اقتصادی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں اور طاقت اور تشددکے بل پر ہماری آواز کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں۔اپنی نظربندی کے دوران نماز جمعہ سے قبل جامع مسجد سرینگر میں موجود اجتماع سے اپنے ٹیلیفونک خطاب میں حریت چیئرمین نے کہاکہ رمضان المبارک کی عظمتوں اور برکتوں والے مہینے میں عبادات کی ادائیگی پر پابندیوں کا نفاذ تاناشاہی سیاست کاری کا حامل مذموم عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ نظر بندی اور قدغنیں ہم کو اپنی مبنی برحق جدوجہدسے دستبردار نہیں کر سکتیں اور نہ ہماری آواز کو دبایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح 1931میں اس قوم کے اقتصادی حقوق سلب کرلئے گئے تھے ،اسی طرح آج بھی اس قوم کے آبی اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرکے اس قوم کو اقتصادی طور محتاج بنانے کی پالیسی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت جہاں کشمیر کی سیاسی آزادی کیلئے مصروف جدوجہد ہے وہیں اس قوم کی اقتصادی آزادی کے حصول کیلئے بھی ہر سطح پر کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے 13جولائی کے حوالے سے حریت کی طرف سے دیئے گئے احتجاجی پروگرام کو عوام سے کامیاب بنانے کی اپیل دہراتے ہوئے کہا کہ اس دن جامع مسجد سے مزار شہداء تک ایک عظیم الشان عوامی جلوس نکالا جائیگا اور مزار شہداء پر شہیدوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انکے مشن کے تئیں تجدید عہد کیا جائیگا۔