اداریہ

پارلیمانی چناؤوں کی تاریخیں نزدیک آنے کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی پارٹیوں کے چناوی ریلیوں اور روڑ شوز کا اہتمام زوروں سے ہو رہی ہے اور ہر کوئی پارٹی اپنے امیدواروں کیلئے عوام سے ووٹ مانگنے جارہی ہیں۔ ملک کے ساتھ ساتھ ریاست میں بھی انتخابی ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور پارٹیاں ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ ریاست میں اگر ان سیاسی پارٹیوں کی بات کی جائے تو آج ایک بار پھر عوام سے ان کے امیدواروں کو کامیاب بنانے کی صورت میں وعدے کئے جاتے ہیں کہ ان کے یہ امیدوار کامیاب ہونے کی صورت میں عوام کی بھلائی کے لئے کام کریں گے ۔ تاہم عوام بخوبی اس روایت سے واقف ہیں کہ چناؤ تاریخیں نزدیک آنے کے ساتھ ساتھ عوام سے بہت سارے وعدے کئے جاتے ہیں ۔ عوام کو راحت پہنچانے انہیں سڑکیں، بجلی اور پانی کی فراہمی میسر کرنے اور تو اور ہر گھر میں کم از کم ایک فرد کو نوکری دینے کے بھی وعدے کئے جاتے ہیں تاہم امیدوار کامیاب بھی ہوتے ہیں اور وزارت کی گدھی پر بھی بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ کوئی وزیراعلیٰ کے اعلیٰ منصب بھی حاصل کر لیتا ۔ اعلیٰ منصب حاصل کرنے کے بعد یہ حضرات عوام کو بھول جاتے ہیں ان کی نظر میں عوام کی کوئی قدرو قیمت ہی نہیں ہوتی ، عوام جب اعلیٰ منصب پر براجمان ہونے والوں سے ان کے کئے وعدے یاد دالتے ہیں تو یہ بلا جھجک یہ کہنے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے کہ ان کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کی ہر گھر کے فرد کو نوکری دیں اور ہر کوئی کو راحت پہنچا سکے۔ عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ عوامی حلقے اس بار کنفیوژن کی شکار ہے کہ اب کی بار ووٹ دیں تو کس کو؟ اس بار بھی تقریباً وہی وعدے ہو رہے ہیں جو کہ گذشتہ انتخابی مہموں کے دوران کئے گئے۔ عوام پریشان ہے کہ ان کے لئے ووٹ دینے کا کوئی بہتر متبادل نظر نہیں آتا کہ ووٹ دیں تو کس کو؟

پارلیمانی چناؤوں کی تاریخیں نزدیک آنے کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی پارٹیوں کے چناوی ریلیوں اور روڑ شوز کا اہتمام زوروں سے ہو رہی ہے اور ہر کوئی پارٹی اپنے امیدواروں کیلئے عوام سے ووٹ مانگنے جارہی ہیں۔ ملک کے ساتھ ساتھ ریاست میں بھی انتخابی ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور پارٹیاں ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ ریاست میں اگر ان سیاسی پارٹیوں کی بات کی جائے تو آج ایک بار پھر عوام سے ان کے امیدواروں کو کامیاب بنانے کی صورت میں وعدے کئے جاتے ہیں کہ ان کے یہ امیدوار کامیاب ہونے کی صورت میں عوام کی بھلائی کے لئے کام کریں گے ۔ تاہم عوام بخوبی اس روایت سے واقف ہیں کہ چناؤ تاریخیں نزدیک آنے کے ساتھ ساتھ عوام سے بہت سارے وعدے کئے جاتے ہیں ۔ عوام کو راحت پہنچانے انہیں سڑکیں، بجلی اور پانی کی فراہمی میسر کرنے اور تو اور ہر گھر میں کم از کم ایک فرد کو نوکری دینے کے بھی وعدے کئے جاتے ہیں تاہم امیدوار کامیاب بھی ہوتے ہیں اور وزارت کی گدھی پر بھی بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ کوئی وزیراعلیٰ کے اعلیٰ منصب بھی حاصل کر لیتا ۔ اعلیٰ منصب حاصل کرنے کے بعد یہ حضرات عوام کو بھول جاتے ہیں ان کی نظر میں عوام کی کوئی قدرو قیمت ہی نہیں ہوتی ، عوام جب اعلیٰ منصب پر براجمان ہونے والوں سے ان کے کئے وعدے یاد دالتے ہیں تو یہ بلا جھجک یہ کہنے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے کہ ان کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کی ہر گھر کے فرد کو نوکری دیں اور ہر کوئی کو راحت پہنچا سکے۔
عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ عوامی حلقے اس بار کنفیوژن کی شکار ہے کہ اب کی بار ووٹ دیں تو کس کو؟ اس بار بھی تقریباً وہی وعدے ہو رہے ہیں جو کہ گذشتہ انتخابی مہموں کے دوران کئے گئے۔ عوام پریشان ہے کہ ان کے لئے ووٹ دینے کا کوئی بہتر متبادل نظر نہیں آتا کہ ووٹ دیں تو کس کو؟