سرورق مضمون

پارلیمنٹ میں کشمیر بجٹ پر اپوزیشن کا شدید ردعمل
ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھنے کی ضرورت/باجوا

سرینگر ٹوڈےڈیسک
وزیرمالیات نے بدھ وارکو پارلیمنٹ میں کشمیر کا بجٹ پیش کرتے ہوئے حکومت کے ترجیحی پروجیکٹوں کا اعلان کیا ۔1.80 لاکھ کروڑ پر مشتمل اس بجٹ کو اب تک کا سب سے بڑا بجٹ قرار دیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ بجٹ کا بڑا حصہ تعمیر و ترقی کے کاموں پر صرف ہوگا ۔ اس کے علاوہ سیاحت ، تعلیم اور کووڈ 19 کے حوالے سے بھی بجٹ میں رقوم مشخص کی گئی ہیں ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں پچھلے کئی مہینوں سے عوام کی فلاح کے کئی منصوبے ہاتھوں میں لئے گئے ۔ اس سے وہاں بہت جلد ترقی نمایاں ہوگی ۔ کشمیر کو ملک کے باقی علاقوں کی سطح تک لانے کا دفاع کرتے ہوئے حکومت نے ان اقدامات کو حق بجانب قرار دیا جو اس حوالے سے اٹھائے گئے ۔ حکومت نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان قوانین کی منسوخی کے بعد کشمیر میں ترقی کی راہیں کھل گئی ہیں اور کشمیر بہت جلد بہت آگے بڑھ جائے گا ۔ اپوزیشن کی طرف سے حکومتی دعووں کو مسترد کیا گیا اور الزام لگایا گیا کہ اس اقدام کے بعد کشمیر میں کسی طرح کی ترقی ممکن نہیں ہوسکی بلکہ کشمیر میں جس قدر ترقی تھی وہ بھی اثر انداز ہورہی ہے ۔ کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور جموں کشمیر میں ان کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے کئی اپوزیشن لیڈروں نے الزام لگایا کہ اس حوالے سے ایوان کو گمراہ کیا جارہاہے ۔ اس طرح سے پارلیمنٹ میں سالانہ کشمیر بجٹ پیش کرنے کے موقعے پر ایک بار پھر وہاں ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی ۔
کشمیر کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ہند وپاک کی فوجوں کی طرف سے 2003 میں دونوں ملکوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پرہوئے گولہ باری نہ کرنے کے معاہدے پر عمل در آمد کا اعلان کیا گیا ۔اس اعلان پر دونوں طرف کے رہنے والے لوگوں نے سخت خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے دونوں ملکوں کے وفد جلد ہی ایک دوسرے سے بات چیت کررہے ہیں ۔ دوسالوں کے تعطل کے بعد یہ ملاقات ممکن ہوسکی ہے ۔ اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات پوری طرح سے معطل رہے ۔ سرحد پر جنگ کی سی حالت دیکھنے کو ملی ۔ اس تعطل کے درمیان مرکزی سرکار نے کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی تمام دفعات ختم کیں اور ہندوستان کو پوری طرح سے ملک کے اندر مدغم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان نے اس فیصلے کے خلاف یواین اسمبلی اجلاس کے اندر احتجاج کیا ۔ لیکن کسی نے اس طرف کان نہیں دھرا ۔ ہر طرف سے مایوس ہوکر پاکستان نے بھی چپ سادھ لی ۔ تاہم کشمیر کے اندر سیکورٹی فورسز اور فوج کے درمیان معرکہ آرائی جاری رہی ۔ طویل خاموشی کے بعد ایک بار پھر دونوں ملکوں کے مابین کہا جاتا ہے کہ پس پردہ ڈپلومیسی جاری ہے ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی کوششیں رنگ لائی ہیں ۔ واضح رہے کہ امریکہ میں بائیڈن کی قیادت میں بنی نئی انتظامیہ نے سابق صدر ٹرمپ کے مقابلے میں ایک نئی پالیسی اختیار کرنے کا اشارہ دیا ۔ اس حوالے سے ملک کے اندر کئی طرح کے انقلابی قدم اٹھانے کے علاوہ خارجہ پالیسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لائی جارہی ہے ۔ پاکستان کے ساتھ ٹرمپ کی شدت کی پالیسی کو ترک کرکے ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ اس دوران ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو مبینہ طور ایک دوسرے کے ساتھ محاذ آرائی ترک کرنے کا مشورہ دیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ حالیہ امن پسند اقدامات اسی دبائو کا نتیجہ ہیں ۔ ادھر پاکستانی فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ نے مشورہ دیا ہے کہ دونوں ملک ماضی کو بھول کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔حال ہی میں ایک تقریب میں بولتے ہوئے باجوہ نے کہا کہ خطے میں امن کے لئے ضروری ہے کہ ہند وپاک ماضی کی دشمنی کو بھول کر ایک دوسرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر تصفیہ مسائل پورے جنوبی ایشیا کو بدامنی کی طرف لے جارہے ہیں ۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو پر امن طور پر تمام مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہئے ۔ کشمیر کا خاص طور سے ذکر کرتے ہوئےباجوہ نے حکومت ہند سے کہا کہ اس مسئلے کو پر امن مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پاکستانی فوج کی طرف سے مسائل کو جنگ کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی تجویز سامنے آئی ۔ حالانکہ دونوں ملکوں کے درمیان پچھلے طویل عرصے سے جنگ کی سی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔ باجوہ کے تازہ بیان کو کئی حلقے حیران کن قرار دے رہے ہیں ۔ اس موقعے پر انہوں نے کہا کہ بات چیت کے لئے آگے بڑھنا ہندوستان کی ذمہ داری ہے ۔ باجوہ کے اس بیان کو بڑا اہم بیان سمجھا جاتا ہے ۔ اس بات پر بہت سے حلقے حیران ہیں کہ پاکستان کی آرمی نے کبھی بھی اسطرح کے بیانات کی اجازت نہیں دی ۔ ماضی میں جس کسی سیاست دان نے اس طرح کا کوئی بیان دیا اور ہندوستان کو ایک دوست ملک قرار دیا اس کو فوج کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ لیکن آج حیران کن طریقے سے فوجی سربراہ کی طرف سے ایسا بیان سامنے آیا جو ماضی کی فوجی پالیسی سے یکسر مختلف ہے ۔ باجوہ نے پاکستان کے ستھر سالہ کشمیر موقف کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔ بلکہ کھلے عام کہا کہ ماضی کو بھلاکر آگے بڑھنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران اس بیان سے زمینی سطح پر نمایاں تبدیلی آنے کا امکان ہے ۔ باجوہ کے بیان پر ابھی تک ہندوستان کا سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ تاہم کئی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ مثبت پیش رفت ہے جس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے ۔ تاہم کچھ حلقے محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ باجوہ کی اس رائے کو پاکستان کی پوری فوج کا بیان نہیں سمجھنا چاہئے ۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے جس پر فوج کو کوئی مشترکہ موقف سامنے لانا چاہئے ۔ اس کے باوجود بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ باجوہ کا اس طرح کا نرم اور لچکدار بیان بلا وجہ نہیں ہے ۔ یہ سوچ سمجھ کر دیا گیا بیان ہے ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایوب خان سے لے کر آج تک جتنے بھی پاک فوج کے سربراہ بنائے گئے باجوہ ان سب سے مختلف ہے ۔ باجوہ سے متعلق کہا جاتا ہے کہ صاف گو ہے اور اپنی بات کھل کر کہنے کا عادی ہے ۔ باجوہ نے جو بیان دیا ہے بہت سے پاکستانی لیڈر اپنی نجی محفلوں میں اس طرح کے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ لیکن کسی نمایاں شخصیت کی طرف سے سرعام اس طرح کا بیان پہلی بار سامنے آیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اس بیان کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے ۔