نقطہ نظر

پارلیمنٹ کی بے توقیری

پارلیمنٹ کی بے توقیری

کلدیپ نائر
بھارتی پارلیمنٹ کا ایک اور لاحاصل اجلاس ہوا جس کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آخر اراکین پارلیمنٹ اس ایوان کی مدت میں توسیع کیوں چاہتے ہیں جب کہ بہت دنوں سے پارلیمنٹ میں کوئی ڈھنگ کا کام ہی نہیں ہوا۔ اب تو یہ ایک معمولی کی بات ہو گئی ہے کہ کوئی نہ کوئی پارٹی خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو دونوں ایوانوں میں سے کسی ایک کو ڈسٹرب ضرور کر دیتی ہے۔ جب ایک ایوان کو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے میں کوئی کام نہیں ہو رہا تو وہ بھی اس کی تقلید کرتا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا تو ایک طرف، ریاستی قانون ساز بھی کچھ بہتر نہیں ہیں۔
جس چیز کا اراکین پارلیمنٹ کو احساس نہیں ہے وہ یہ ہے کہ عوام سیاست دانوں سے کس قدر متنفر اور بیزار ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ سیاست کا لفظ ہی تضحیک کا نشان بن چکا ہے حالانکہ یہ روش جمہوری سیاست کے لیے بہت خطرناک ہے۔ اس کے نتیجے میں زیادہ تنگ آئے ہوئے لوگ میدان میں نکل کر کسی اور متبادل نظام کے بارے میں پراپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں۔
پاکستان میں ایسا وقوع پذیر ہو چکا ہے جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل محمد ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ ویسے تو صدرا سکندر مرزا نے خود ایوب خان سے کہا تھا کہ وہ کچھ عرصے کے لیے انتظامی امور سنبھال لیں تا کہ بے قابو ہونے والی قوتوں کو کچلا جا سکے۔ ایوب خان نے اس ’’کچھ وقت‘‘ کو طوالت دیدی اور سول حکومت کو واپس آنے کی اجازت ہی نہ دی۔ یہ درست ہے کہ جمہوریت پاکستان میں واپس آ گئی ہے اور وزیر اعظم نواز شریف بیلٹ بکس کے ذریعے برسر اقتدار آئے ہیں لیکن انھیں محتاط رہنا ہو گا کیونکہ آرمی چیف ہمیشہ ان کے کندھوں کے اوپر سے دیکھتے رہتے ہیں۔ حقیقت میں میرا مشاہدہ یہ ہے کہ تیسری دنیا کے کسی ملک میں ایک بار جب فوج اقتدار میں آ جاتی ہے تو بیرکوں میں واپس جانے کے بعد بھی اس کی موجودگی محسوس ہوتی رہتی ہے۔
بنگلہ دیش بْری طرح تشدد کا شکار ہے اور وہاں پر فوج بڑی آسانی کے ساتھ مداخلت کر سکتی ہے لیکن لگتا ہے جیسے وہ خود ہی گریزاں ہے۔ کیونکہ 2009 ء میں فوج دو بیگمات شیخ حسینہ اور خالدہ ضیا کے بغیر حکومتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل معین الدین احمد نے بعدازاں تسلیم کیا کہ بیگمات کی غلط حکمرانی کی عوام کو عادت سی پڑ گئی تھی اور انھوں نے ہڑتالوں اور تالا بندیوں کو زندگی کے معمولات کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ اب صورت حال اور زیادہ خراب ہو چکی ہے کیونکہ جماعت اسلامی نے بڑے منضبط انداز میں اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے اور اب وہ میڈیا سمیت زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں نظر آتی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ متذکرہ مثالیں ریاستی قانون سازوں اور اراکین پارلیمنٹ کو بھارت میں اپنے ایوانوں کی کارروائی کو ڈسٹرب کرنے میں مانع ہو سکیں گی۔
اصل میں یہ عوامی نمایندے اپنی طرف زیادہ توجہ چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ کی سنجیدہ تقریر کے بجائے ہلا گلا اور ہنگامہ آرائی کرنے والے کی خبریں پرنٹ اور الیکٹرک میڈیا پر کہیں زیادہ نمایاں جگہ پاتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے مورد الزام میڈیا کو ہی ٹھہرایا جائے گا۔ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کی وجہ سے شہرت یہی ہے۔ وہ اپنی تقریروں میں لوگوں کے سفلی جذبات کو ابھارتا ہے اور تقسیم در تقسیم کی سیاست کرتا ہے۔ اسی وجہ سے مدھیہ پردیش اور راجستھان کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو حکمران کانگریس کی نسبت کہیں زیادہ پذیرائی ملی ہے۔
بہر حال ایک طاقت ور مرد اور فیصلہ کن لیڈر کے تصور نے عوام کو نئے سوچ دی ہے کیونکہ عوام خود پارلیمانی نظام کی کارکردگی سے نالاں ہو چکے ہیں اور اس لیے وہ صدارتی نظام کے بارے میں غور و خوض کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے دوران مطلق العنان حکومت کا تجربہ حاصل کر چکا ہے۔ مسز گاندھی نے سیاست سے اخلاقیات کو نکال باہر کیا تھا اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے جیل میں ڈال دیا تھا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کو 35 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن ہم ابھی تک اپنے اداروں کو بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ بیوروکریسی اور پولیس مرکز اور صوبوں میں حکمرانوں کے ہاتھ کا کھلونا بنی ہوئی ہیں۔
یہی طرز عمل دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں‘ کانگریس اور بی جے پی میں نمایاں ہے۔ وہ دونوں گویا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ میں نے اس کا مشاہدہ بی جے پی کے لیڈر ارون جیٹلی اور کانگریس کے لیڈر ڈگ وجے سنگھ کے اجتماعات میں کیا۔ دونوں نے کم و بیش ایک جیسے خیالات کا اظہار کیا اور تسلیم کیا کہ اقتصادیات اور خارجہ امور پر دونوں کی سیاست ایک جیسی ہی ہے۔ چونکہ دونوں بڑی پارٹیاں ہم آہنگ ہیں اس لیے پارلیمنٹ میں بھی ہیں ’’اسٹیٹس کو‘‘ ہی نظر آتا ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کا التوا یا واک آؤٹ کسی سنجیدہ مسئلے کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے محض بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ریاست تلنگانہ کی تقسیم کے معاملے میں دیکھی جا سکتی ہے جب دونوں پارٹیوں نے اس کی حمایت کی تھی۔
آندھرا پردیش کی تقسیم کے حوالے سے میرا خیال ہے کہ اس سے اثرات تباہ کن ہوں گے اور ایسے مسائل سر اٹھا لیں گے کہ جن کا حل ممکن ہی نہیں ہو گا خاص طور پر دریائی پانی میں حصہ داری اور ریاستی دارالحکومت کا سوال۔ صورت حال اس وقت قابو سے باہر ہو گئی جب مرکزی حکومت یہ کہتی ہے کہ دریاؤں کی نگران وہ خود ہے۔ بالفاظ دیگر مرکز میں جو بھی حکمران پارٹی ہو گی وہ اپنی شرائط منوائے گی۔ اس کے باوجود کانگریس اور بی جے پی اس ریاست کی تقسیم کے لیے ہم آواز ہیں کیونکہ اس میں دونوں کے اپنے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔ فرقہ وارانہ تشدد کے مسودہ قانون کے بارے میں بی جے پی کی مخالفت پر مجھے سخت حیرت ہوئی ہے حالانکہ اس مسودہ قانون کی تیاری ناگزیر ہو چکی تھی کیونکہ پولیس کی طرف سے ہندوؤں کی ناجائز حمایت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہندو مسلم فسادات دونوں برادریاں ملوث ہوتی ہیں لیکن آخر میں یہ مسلمانوں اور پولیس کی لڑائی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
دسمبر 1992ء اور جنوری 1994ء میں ممبئی میں ہونیوالے فسادات اور 12 مارچ 1993ء کے بم دھماکوں کی تحقیقات کرنے والے جسٹس سری کرشنا کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ یہ درست ہے کہ فائرنگ کے بعد واقعات میں کچھ پرائیویٹ لوگ بھی ملوث ہوں گے جیسا کہ پولیس کا دعویٰ ہے لیکن زیادہ تر مواقع پر ہندو مسلم فسادات کے بعد مسلمانوں کے ہجوم نے پولیس کی جانبداری پر مشتعل ہو کر پولیس پر حملے ضرور کیے۔ میرے خیال میں پولیس ریاستی حکام کی مداخلت کی وجہ سے جانبداری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اس صورت حال کا تدارک ایک وفاقی پولیس فورس کی تشکیل کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ یہ پولیس فورس مرکز کو ان ریاستوں میں استعمال کرنا چاہیے جہاں ریاستی حکومت کے ایما پر اقلیتوں کو ناجائز طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وفاقی پولیس کو مرکزی حکومت کی املاک کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کچھ برس پہلے جب کیرالہ کی حکومت احتجاجی مظاہرین کی پشت پناہی کر رہی تھی تو بہت سے محل جلا دیے گئے جو نئی دہلی حکومت کی ملکیت تھے۔
بھارت کی طرح امریکا کی سیاست بھی وفاقی ہے لیکن اس نے ایک وفاقی پولیس فورس بھی تشکیل دے رکھی ہے۔ اس وفاقی پولیس فورس کو کئی مرتبہ ان ریاستوں میں بھیجا گیا جہاں سیاہ فاموں کے خلاف نسلی تعصب کی بنا پر تشدد کی کارروائیاں زور پکڑ گئی تھیں۔ ریاست مسسپی (Mississpi) کے فسادات واشنگٹن کی مداخلت کے آغاز کی ایک واضح مثال ہیں۔ بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات میں بدستور شدت پیدا ہو رہی ہے۔ یہاں پر نسلی تعصب تو موجود نہیں ہے لیکن اقلیتوں کے خلاف بہت بْرا سلوک ہوتا ہے۔ قانون سازوں اور پارلیمنٹ کی اہمیت قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے ناگزیر ہے جسے کہ مکمل تحفظ دیکر ہر قیمت پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس حوالے سے حکومت کا عزم دکھائی نہیں دیتا۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)