اداریہ

پالی تھین پر مکمل پا بندی کا وعدہ کیا ہوا
کہ خو شی سے مر نہ جا تے اگر اعتبا ر ہو تا !

ما حولیا تی آلو دگی عالم انسانیت کو درپیش عصری چلینجز میںسے سب سے بڑا چیلنج ہے ۔دنیا بھر کی حکو متیں ، سر کا ری و غیر سر کا ری ادارے اور ما حولیا ت کے بچائو کے لئے کا م کرنے والی انجمنیں اس با ت کا رونا رو رہی ہیں کہ پو ری دنیا کو ما حولیا ت کے تحفظ کے لئے یک جُٹ ہو کر کا م کر نا چاہئے اور ان سبھی چیزوں اور عنا صر کی مقدار و حجم کم کر نے کے لئے کوششیں کی جانی چاہئیں جن عنا صر سے ہما رے ما حول کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ چند بر س قبل اگر چہ ما حولیا ت کے تحفظ اور دنیا میں کا ربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کر نے کے حوالے سے پیرس کنونشن کا انعقاد کیا گیا تھا اور امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے اس کنونشن پر اپنے دستخط بھی کئے تھے مگر امریکہ نے کچھ عرصہ بعد ہی ہا تھ کھڑا کر دئے اور پیرس کنونشن پر عمل پیرا نہ رہنے کا اعلان کیا ۔با قی ممالک اگر چہ اپنے عہد و پیما ں پر قائم ہیں تاہم ان کی جانب سے بھی ما حولیات کے بچائو کی خاطر کو ئی سنجیدہ اور ٹھو س اقداما ت نہیں کئے جا رہے ہیں ۔جموں و کشمیر میں بھی ما حولیا ت کا منظر نا مہ با قی دنیا کے الگ اور بیگا نہ نہیں ہے بلکہ یہاں پر بھی ما حولیا تی آلو دگی کا فی حد تک بڑ ھ گئی ہے جس کے نتیجہ میں گر می کی شدت کے ساتھ ساتھ ما حولیا تی آلو دگی سے منسلک دیگر مسائل یہاں بھی سر چڑھ کر بو ل رہے ہیں ۔ہوا کی آلو دگی اگرچہ جموں و کشمیر خاص کر وادی میں دیگر علا قوں کے مقابلے میں کم ہے تاہم پا نی کی آلو دگی میں ہم کئی ریا ستوں اور ممالک سے آگے ہیں ۔ہما رے یہاں پا لی تھین کے بے تحاشا استعمال اور دیگر وجوہا ت کی بنا پر اراضی کے بنجر ہو جانے کی شر ح بھی با قیوں سے کا فی زیا دہ ہے اور یہ ایک تشویشناک امر ہے ۔حکو مت نے پا لی تھین کے استعمال پر اگر چہ کا فی عرصہ قبل پا بندی لگا ئی تھی مگر وادی کے اطراف و اکنا ف میں شہروں ،قصبہ جا ت اور دیہات کے اندر پا لی تھین کا تشویشنا ک طور پر استعما ل جا ری و ساری ہے ۔رواں بر س بھی یہاں کی انتظامیہ نے وادی کو پا لی تھین سے پا ک بنانے کے حوالے سے ایک مہم کی شروعات کا اعلا ن کیا تھا مگر زمینی سطح پر جو صورتحال پا ئی جا رہی ہے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ اعلان محض ایک اعلان تھا اور اس کے عملا نے کے حوالے سے نہ کہیں کو ئی سنجیدگی مو جو د ہے اور نہ ہی کوئی پا لیسی یا لائحہ عمل ۔انسان یہ سوچ کر حیرت میں پڑ ھ جا تا ہے کہ لکھن پو ر اور قاضی گنڈ میں با ہر سے آنے والی اشیا ء کی جا نچ پڑ تا ل ہو نے کے با وجود بھی کیسے کروڑوں رو پے ما لیت کا پا لی تھین وادی کے اطراف و اکنا ف میں پہنچایا جا تا ہے اور متعلقہ حکام کیو ں کسی کو کبھی اس سلسلے میں گرفتار کر کے سلا خوں کے پیچھے نہیں ڈالتی ۔سول سیکر ٹریٹ کے نرم و حریر صوفوں پر آئرکنڈیشنر کی سردی اور گرمی سے لطف اندوز ہو نے والے ارباب اقتدار کو کبھی بھی یہ خیال نہیں آتا ہے کہ ریڈیو ،ٹیلی ویژن اور اخبا رات میں جو خبریں وہ پا لی تھین کے استعمال پر پا بندی کے حوالے سے چھپواتے ہیں ،ان پر کبھی اگر کسی نے ان سے سوال کیا تو وہ کس منہ سے جواب دیں گے ۔دراصل حکمنا مے جاری کر نے سے ان کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ پا لی تھین کے استعمال پر پا بندی ہے ،خر ید و فروخت سے انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے !۔اب عام لوگ بھی ان اعلا نات اور حکمناموں کو زیا دہ سنجید گی سے نہیں لیتے کیو نکہ انہیں علم ہے کہ چائے پا نی بڑ ے بڑوں کے منہ پر تا لے چڑواتا ہے ۔