سرورق مضمون

پانپور انکائونٹر / فوج سخت حیران وپریشان

پانپور انکائونٹر / فوج سخت حیران وپریشان

ڈیسک رپورٹ

پانپور میں ہوئے انکائونٹر نے عوام کو حیران مگر فوج کو سخت پریشان کیاہے۔ 48 گھنٹے جاری رہنے والے اس انکائونٹر میں فوج کے تین آفیسر مارے گئے ۔ جہاد کونسل کے امیر سید صلاح الدین نے انکائونٹر میں حصہ لینے والے تینوں جنگجوئوں کو انعام سے نوازنے کا اعلان کیا ہے ۔ حریت سربراہ نے تینوں مجاہدین کے لئے غائبانہ جنازے کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے پانپور میں واقع سرکاری عمارت میں یہ انکائونٹر اس وقت شروع ہوا جب ملی ٹینٹوں نے سی آر پی ایف کی ایک گاڑی پر حملہ کرکے تین اہلکاروں کو ہلاک اور نو کو زخمی کیا۔ اس کے بعد ملی ٹینٹ نزدیک ہی واقعہ ای ڈی آئی کی بہت ہی شاندار اور مضبوط عمارت میں داخل ہوگئے۔ فوج نے اس عمارت کو گھیرے میں لیا۔ اس کے بعد طرفین میں سخت جنگ چھڑ گئی ۔ یہ جنگ اڑتالیس گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران فوج نے پہلے ڈرون کیمرہ استعمال کرکے ملی ٹینٹوں کی صحیح پوزیشن معلوم کرنے کی کوشش کی اور مبینہ طور فوجی ٹینک کا استعمال کرکے عمارت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اس میں ناکام ہونے کے بعد عمارت پر گن پائوڈر چھڑک کر اس میں آگ لگادی گئی۔ اس کے باوجود ملی ٹینٹوں پر جدی سے قابو نہ پایا جاسکا ۔ اس دوران نزدیکی بستیوں سے لوگوں نے جمع ہوکر فوج پر پتھرائو کیا اور عورتوں نے لڑنے والے ملی ٹینٹوں کو ہیرو قراردے کر ان کے حق میں رویتی ونہ وون گایا۔ اس سے پورے علاقے میں تنائو پیدا ہوگیا ۔ تاہم فوج نے سخت محنت کرکے حالات پر قابو پایا۔ انکائونٹر میں مارے گئے تینوں ملی ٹینٹوں کو پہلے اوڑی میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وہاں ان کے لئے قبریں کھودی گئیں ۔ لیکن لوگوں نے بلا شناخت لوگوں کو دفن کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ۔ انہوں نے جمع ہوکر ان قبروں کو مٹی سے بھر دیا ۔ اس کے بعد پولیس نے ان ملی ٹینٹوں کو باڈر پر لے کر ایک تھانے کے پاس دفن کیا۔ اس طرح سے انکائونٹر مکمل کرکے ضروری کاروائی کی گئی ۔
پانپور انکائونٹر سے متعلق یہ بات بڑی اہم ہے کہ ملی ٹینٹوں نے پہلی بار کسی فوجی چھائونی کے بجائے ایک سرکاری عمارت میں پناہ لے کر گولہ باری کی ۔ کہا جاتا ہے کہ مارے گئے جنگجو لشکر طیبہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ لشکر طیبہ نے اس حملے کے بارے میں کہا کہ کاکہ پورہ میں مارے گئے ایک طالبہ اور ایک نوجوان کی موت کا بدلہ لینے کے لئے کاروائی کی گئی ۔ اس حملے میں فوج کے تین کمانڈر مارے گئے ۔فوج اس بات پر حیران ہے کہ ملی ٹینٹ اتنی لمبی لڑائی لڑنے میں کیسے کامیاب ہوئے ۔ اس لئے فوج نے واقعے کی تحقیقات کرنے کا من بنایا ہے۔ لوگوں کے اندر بھی اس پر چہ مے گوئیاں کی جارہی ہیں۔ اس سے پہلے اسی طرح کا حملہ پٹھانکوٹ کے فوجی ائر بیس پر کیا گیا۔ وہاں بھی لمبی لڑائی لڑی گئی ۔ لیکن وہاں کی نوعیت الگ تھی۔ یہاں صرف تین عسکریت پسند اور دس ہزار سے زیادہ فوج کا آمنا سامنا تھا۔ تین عسکریت پسند اتنی بڑی فوج کو روکنے میں کامیاب ہوئے ۔ عمارت بہت ہی مضبوط تھی ۔ فوج نے اس میں آگ لگادی ۔ بعد میں اس کے تمام کمروں پر گولہ باری کرکے کھڑکیوں کے شیشے توڑ دئے گئے ۔ اس کے بعد فوج نے پہلی منزل طے کی ۔ وہاں جاکر انہیں کئی گھنٹے دوسری منزل تک پہنچنے میں لگے ۔ اس کے بعد ہی جنگجووں کو قابو کیا جاسکا ۔ اس سے لگتا ہے کہ یہ جنگجو بہت ہی ماہر تھے ۔ انہوں نے اس جگہ کا کئی بار معائنہ کیا ہے اور لڑائی لڑنے کی بھر پور تیاری کرکے آئے تھے۔ یہ ملی ٹینٹ کہاں سے آئے اور کتنا گولہ بارود لے کر ا ٓئے ، فوج کو تاحال معلوم نہیں۔ یہ سیکورٹی ایجنسیوں کے مخبری کے نظام میں بہت بڑا نقص مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں نے جس طرح سے لڑائی لڑنے والے ملی ٹینٹوںکے گن گائے وہ عوام میں ان کی مقبولیت کا ثبوت ہے ۔ سیکورٹی ایجنسیاں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود آج تک لوگوں کو ملی ٹینٹوں سے دور نہیں کرسکے ہیں۔ یہ عسکریت پسندوں کی بڑی کامیابی مانی جاتی ہے ۔ فوج نے یہاں عوام دوست پروگرام شروع کئے سدبھاونا اور اسی قسم کے کئی پروگراموں پر لاکھوں اور کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔ لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا گیا ۔ اس کے باوجود لوگ ان کے ہی حق میں گیت گاتے ہیں۔ عورتوں نے یہاں انکائونٹر میں شامل مجاہدین کے حق میں روایتی کشمیری گانے گائے۔ اس وجہ سے سیکورٹی ایجنسیاں بہت حیران ہیں ۔ ادھر عوام بھی ملی ٹینٹوں کی کاروائی سے حیران ہیں۔ بڑی رازداری سے حملہ کیا گیا۔ حملہ بہت ہی کامیاب مانا جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حملے کے وقت سرکاری عمارت میں سو سے زیادہ لوگ موجود تھے ۔ ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا ۔ انہیں یرغمال بنایا جاتا تو لڑائی کئی دن تک جاری رہتی ۔ لیکن انہیں پہلے ہی مرحلے پر آرام سے نکلنے کے لئے کہا گیا۔ ایک غریب شہری مارا گیا ۔ اس پر عوام سخت حیران ہیں ۔ اس وجہ سے پانپور انکائونٹر عسکری تاریخ میں ایک اور یادگار واقعہ مانا جاتا ہے ۔