خبریں

پاکستانی حکومت مشرف کی پھانسی نہیں چاہتی

پاکستانی حکومت مشرف کی پھانسی نہیں چاہتی

امریکی اخبار”وال اسٹریٹ جرنل” لکھتا ہے کہ طبی وجوہ پر مشرف کو ملک سے جانے سے عدالتوں، فوج اور حکومت کی فیس سیونگ کا رستہ نکل سکتا ہے۔ مشرف کے خلاف غداری مقدمے نے حکومت اور فوج کے درمیان دوبارہ کشیدگی کے خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔ اگر مشرف مجرم ٹھہرایا گیا تو پھانسی کے ذریعے انہیں سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ غداری کی سزا موت ہے۔ سزا کی صورت میں حکومت کے لئے فوج کے ساتھ تصادم کا رستہ نکل سکتا ہے، عدالتوں کے لئے اس طرح کی سزا بے چینی کے سوالات کھڑے کردے گی کیونکہ عدالتوں نے ہمیشہ فوجی حکومتوں کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ ایک اعلی حکومتی عہدیدار نے اخبارکو بتایا کہ حکومت غداری کے الزامات ثابت کر کے مشرف کو ایک مثال بنانے کے لئے بے چین ہے۔ لیکن وہ اسے پھانسی پر لٹکتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے اور انہیں کچھ رعایت دے کر ملک چھوڑ نے دیا جائے گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ حکومت مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ تو لائی لیکن ملک میں فوج کے غلبے کی وجہ سے سابق آرمی چیف کو سزا ہونے کی امید نہیں۔ سابق فوجی آمرپرویز مشرف نے عارضہ قلب کے علاج کیلئے عدالت سے امریکا جانے کیلئے پاکستان چھوڑنے کی اجازت طلب کی۔اخبار نے ٹیکساس کے مشرف کے ڈاکٹر کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا کہ اسے امریکا بھیجا جائے لیکن فلوریڈ ا کے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے راولپنڈی کے اسپتال کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ مشرف کو معمولی سی دل کی بیماری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی 66 سالہ تاریخ میں مشرف چوتھے فوجی حکمران تھے جنہوں نے بزور طاقت ملک پر قبضہ کیا لیکن کسی بھی آمرکو عدالتوں کی طرف سے سزا نہیں ہوئی۔ ایک سیاسی تجزیہ کار کے نزدیک اگر طبی ثبوت ٹھوس ہوئے تو عدالتوں کومشرف کو علاج کے لئے ملک سے جانے کی اجازت دینا پڑے گی۔ یہ راستہ تمام جماعتوں کے لئے محفوظ ہوگا یہ اس نازک صورت حال سے نکلنے کا بہترین رستہ ہے، تاکہ ملک کے سیاسی استحکام کو خطرہ نہ ہو۔ غداری کے علاوہ مشرف کے خلاف بے نظیر بھٹو، بلوچ رہنما کے قتل اور لال مسجد واقعے کے بھی مقدمات ہیں جن میں انہیں ضمانت دی جا چکی ہے۔