مضامین

پاکستانی فوج اور قیادت ،بھارت سے مذ اکرات کیلئے پرعزم

پاکستانی فوج اور قیادت ،بھارت سے مذ اکرات کیلئے پرعزم

پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی فوج اور سویلین قیادت ایک صفحے پر ہیں۔پرویز مشرف نے الزام لگا یا کہ بات چیت کے عمل آگے نہ بڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ بھارت صرف اپنے مسائل پر بات کرنا چاہتا ہے۔پٹھان کوٹ حملے میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اظہر کو دہشت گرد تصور کرتے ہیں کیوں کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں لیکن کشمیر میں لڑنے والے حریت پسند ہیں۔ انڈیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج بھارت کے ساتھ امن عمل میں دو سو فیصد شامل ہے،تاہم بھارت صرف ممبئی اور پٹھان کوٹ جیسے معاملات ہی پر بات چیت کرنا چاہتا ہے‘۔مشرف کا کہنا تھا بھارت نے ہمیشہ امن عمل کو ڈی ریل کیا ہے اور ہر بار محسوس کیا کہ بھارت صرف دہشت گردی پر بات کرنا چاہتا ہے۔مشروف نے الزام لگایا کہ بھارت ہر بار امن عمل کو پٹری سے اتارتا ہے اور صرف دہشت گردی پر بات کرنا چاہتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ ’’ہم کچھ بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ ہمار ا نہیں سنتے ہم سے و ہی کہلوایا جا رہا ہے جو آپ کی رائے ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں دہشت گردانہ حملے اس وقت تک نہیں ر کیں گے جب تک نئی دہلی کشمیر کے اہم مسئلے پر توجہ نہیں دے گی۔جب مشرف سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاک بھارت امن عمل میں کوئی بلند دیکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ کو مرکزی موضوع کشمیرپر توجہ دیں گے تو سب کچھ رک جائے گا،جب تک ہم بنیادی مسئلے پر توجہ نہیں دیتے، تب تک بدقسمتی دہشت گرد سرگرمیاں اور دہشت گردی جاری رہے گی یہ چیز آپ کرنا نہیں چاہتے۔پٹھان کوٹ حملے کے بعد تعطل کی شکار خارجہ سکریٹری سطح کے مذاکرات کے بارے میں پوچھے جانے پر مشرف نے کہاکہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ ہم اس اہم معاملے پر آگے بڑھیں گے آپ ایسا نہیں چاہتے آپ ہمیں ڈرانا چاہتے ہیں، ہم پر دھونس جمانا چاہتے ہیں اور آپ کو ہم پر بادشاہی زمانہ چاہتے ہیں آپ کو صرف ان مسائل کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں جو آپ کو فکر مند کرتے ہیں، مثلا دہشت گردی، ممبئی اور پٹھان کوٹ اس لئے مجھے نہیں لگتا کہ اہم مسئلہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی ایک طرح سے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کشمیر مسلسل میں ظلم وجبر کر تا رہتا ہے۔جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اظہر کو دہشت گرد تصور کرتے ہیں کیوں کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں لیکن کشمیر میں لڑنے والے حریت پسند ہیں۔ان کا کہناتھا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ میرے پر حملے کرتا ہے، اس طرح سے پاکستان میں کوئی ایسی دوسری سرگرمی کرتا ہے تو وہ یقینی طور پر دہشت گردی ہے تو میں نے اسے دہشت گرد کہتا ہوں۔ امریکی شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے 2008 ممبئی حملے کے حوالے سے انکشافات پر سابق صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں کہ ہیڈلی ہندوستانی انٹیلی جنس کی حراست میں ہیں اور ان سے کچھ بھی کہلوایا جاسکتا ہے۔ڈیوڈ ہیڈلی کے سلسلے میں مشرف نے مزیدکہا، ہیڈلی نے جو کچھ بھی انکشاف کیامیں نہیں مانتاپاکستان کے انٹیلی جنس نظام کو ہیڈلی سے پوچھ گچھ کرنی چاہئے۔ مشرف نے کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں مجھے اس وقت تک یقین نہیں جب تک ہماری انٹیلی جنس ادارے وہی بات نہ دہرادیں۔ واضح رہے کہ دو ماہ قبل بھی ا یک اور انٹرویو میں مشرف کا کہنا تھا کہ کشمیر میں لڑنے والے دہشت گرد نہیں بلکہ مجاہدین ہیں۔مشرف نے کہا کہ کشمیر میں جو ظلم ہو رہا ہے اس کے خلاف لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی بہت ساری تنظیمیں نکلیں جو کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے لیے وہاں لڑنے اور اپنی جان قربان کرنے کو تیار تھیں، اس لیے انہیں طالبان یا دہشت گرد نہیں کہنا چاہیے۔