اداریہ

پاکستان ذمہ دار

پاکستان ذمہ دار

سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ مرکزی وزیر صحت غلام نبی آزاد نے ریاست کی غیر یقینی صورتحال کیلئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس نے جنگجوؤں کو ریاست میں دھکیل کر یہاں حالات خراب کروائے جس کے نتیجہ میں ترقیاتی عمل مفلوج ہوکررہ گیا۔ گندوہ سب ضلع ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ہیلی پیڈگندوہ میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ گزشتہ بیس برسوں میں ریاست میں ترقیاتی عمل مفلوج ہوکررہ گیا تھا کیونکہ پوری ریاست میں ملی ٹینسی کا دور دورہ تھا، سب سے پہلے انسان کو جان بچانے کی پڑی ہوتی تھی۔ اْس دوران تعمیر و ترقی کی طرف سرکار کی توجہ نہ تھی کیوں کہ تمام تر توجہ امن وقانون کی صورتحال بہتر بنانے پر مرکوز تھی اور پوری انتظامی مشینری اس عمل میں لگی ہوئی تھی کہ کسی بھی طرح امن قائم ہو جس کے نتیجہ میں ترقیاتی عمل نہ صر ف پوری ریاست بلکہ خطہ چناب میں بھی مفلوج ہوکر رہ گیا‘‘۔ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آزاد نے کہا کہ دو ہی صورتوں میں تعمیرو ترقی نہیں ہوسکتی ،ایک جب ملی ٹینسی ہو اور دوسرا اْس وقت جب ہندو مسلم فسادات ہوں‘‘۔ملی ٹینسی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ جنگجو ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں، ان کا کنٹرول پاکستان کے پاس ہے اور پاکستان کے جانب سے ہی جنگجوں یہاں بھیجے جاتے ہیں‘‘۔ آزاد نے مزید کہا کہ ’’پاکستان نے ہی یہاں لوگوں کو مذہب کے نام پر لڑوایا اور نوجوانوں کو پیسوں کا لالچ دیکر ان کے ہاتھ میں بندوق تھما دی جس کے نتیجہ میں افرا تفری مچ گئی‘‘۔ آزاد نے مزید کہا کہ جنگجوؤں کی لگام پاکستان کے ہاتھ میں ہے اور یہاں حالات بگاڑنے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان گمراہ نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے، اگر کوئی آگیا تو ٹھیک، ورنہ اکثر مارے جاتے ہیں۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ ان سازشوں کے پیچھے کسی کا ہاتھ ہو سکتا ہے،کوئی مفاد پرست ہوسکتا ہے، وہ ہندوبھی ہوسکتا ہے اور مسلمان بھی، اس کا مقصد ووٹ حاصل کرنا بھی ہوسکتا ہے یا پھر امن میں خلل ڈالنے کا، لیکن جان جاتی ہے صرف غریب انسان کی۔ ترقیاتی عمل کیلئے امن وبھائی چارہ کو لازمی قرار دیتے ہوئے آزاد نے کہا کہ ریاست کو اب فرقہ پرستی کا سامنا ہے جس کو کچھ لوگ ہوا دے رہے ہیں تاہم ہمیں مل کر ایسے لوگوں کے خلاف لڑنا چاہئے تاکہ پر امن ماحول میں حکومت ترقیاتی عمل کی جانب توجہ مبذول کرسکے۔ انہوں نے انتخابات سے قبل مذہب اور خطہ کے نام پر لوگوں کو منقسم کرنے کی منصوبہ بند سازشوں کا انکشاف کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ انہیں ایسے شرپسند اور فرقہ پرست لوگوں سے خبر دار رہناچاہے کیونکہ یہ ریاست ہم سب کی ہے اور ہمیں پیار سے رہنا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالات میں بہتری کے ساتھ ہی پچھلے سات آٹھ برسوں سے پوری ریاست میں اور خط چناب میں تعمیری کاموں کا ایک جال بچھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحلہ وار بنیادوں پر چناب وادی میں مزید ہسپتال قائم کئے جائیں گے اور این آر ایچ ایم کے تحت دوردراز علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو ماہانہ 55ہزار کی تنخواہ ملے گی۔اس موقعہ پر مرکزی وزیر صحت نے محکمہ کے افسران سے مخاطب ہوکرکہا’’آپ دہلی میں مجھے لسٹ دیتے ہیں کہ فلاں جگہ پر اتنے ڈاکٹر تعینات ہیں لیکن عملی طور وہاں بہت کم ڈاکٹر تعینات ہوتے ہیں کیونکہ بیشتر ڈاکٹر وہاں سے اپنے آپ کو اٹیچ کرواتے ہیں اور اس طر ح دس میں سے دو ہی ڈاکٹر وہاں رہتے ہیں۔انہوں نے اپنے پارٹی کارکنان پر زور دیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر علاقہ میں امن اور بھائی چارہ بنائے رکھنے کا کام تندہی سے کریں اور سماج کو تقسیم کرنے والی فرقہ پرست طاقتوں کا جم کر مقابلہ کریں۔