خبریں

پاکستان سے نہ جانیکا فیصلہ

پاکستان سے نہ جانیکا فیصلہ
پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے بالآخر پاکستان سے نہ جانے کا حتمی فیصلہ کر ہی لیا ہے اور حکو مت سے مطالبہ کیا کہ دوبئی میں موجود انکی بیمار والدہ کو پاکستان لانے کے لئے ائیر ایمولینس کی سہولت فراہم کی جائے۔ جس کے بعد امکان ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں انکی والدہ اسلام آباد منتقل کر دیا جائے گا جبکہ حکو مت نے بھی سابق صدر پرویز مشرف کی والدہ کے علاج کے لئے تمام سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ پاکستان پاکستانی صدر نے پاکستان سے نہ جانے کا حتمی فیصلہ کرتے ہوئے اپنی والدہ کو پاکستان لانے کی خواہش ظاہر کی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دوبئی میں موجود انکی بیمار والدہ کو پاکستان لانے کے لئے ائیر ایمولینس کی سہولت فراہم کرے، امکان ہے اگلے 24 گھنٹوں میں انکی والدہ اسلام آباد منتقل کر دیا جائے گا۔ ادھر پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے سابق صدر پرویز مشرف کی والدہ کے علاج کے لئے تمام سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کے تقاضے کے تحت سابق صدر پرویز مشرف کی والدہ کو پاکستان لانے کے لیے ایئر ایمبولینس بھیجنے کے انتظامات مکمل ہیں۔ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات اور وزیر اعظم کے ترجمان پرویز رشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم سابق صدر پرویز مشرف کی والدہ کو پاکستان لانے کے لیے \’خصوصی طیارہ یا ایئر ایمبولینس بھیجنے کے لیے تیار ہیں\’۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خصوصی طیارہ یا ایئر ایمبولینس کی پیشکش کا مقصد ہے کہ \’پرویز مشرف کی والدہ کا علاج پاکستان میں ہوسکے اور وہ اپنے صاحبزادے کے ساتھ رہ سکیں۔\’وزیر اعظم کے ترجمان کے بیان میں مزید کہا گیا ہے \’حکومتِ پاکستان ان کے علاج معالجے کے لیے تمام تر سہولیات بہم پہنچائے گی۔ پرویز رشید نے بیان میں کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے مستقبل کا فیصلہ ملک کی آزاد عدلیہ کرے گی۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا تھا۔ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کیے جانے کے خلاف سابق صدر پرویز مشرف نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پرویز مشرف کی والدہ دبئی میں علیل ہیں اس لیے وہ ان کی عیادت اور علاج معالجے کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔ تاہم عدالت نے یہ کہہ کر اس درخواست کو نمٹا دیا تھا کہ چونکہ وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا تھا اس لیے وہی ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے مجاز ہے۔ یاد رہے کہُ ٓپاکستان کے موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے والد جب وفات پا گئے تھے تو اس وقت وہ سعودی عرب میں مقیم تھے اور پرویز مشرف اقتدار میں تھے تو انھوں نے شریف برادران کو اپنے والد کے جنازے میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔