اِسلا میات

پردے کی اہمیت

پردے کی اہمیت

محمد مظفر خان

حسب معمول میں سودا سلف خریدنے کیلئے گھر سے بازار کے طرف نکلا، بازار میں لوگ بجلی کے کھمبوں اور دیواروں پر اشتہار دیکھ رہے تھے جس پر لکھا تھا146146 اسلام کو مکمل کرو، حجاب مکمل کرو، حضور کے راستے پر چلو، جو کچھ تمہیں رسول اللہ دیں اسے لے لو اور جسے منع کریں اُسے رک جائو۔ اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے( القرآن۔ ۴۔۲۸)
” This is your last Warning”
میں سوچنے لگا کاش والدین اور تعلیم یافتہ مستورات اللہ سبحان و تعالیٰ کے احکامات اور رسول کریم ﷺ کے ارشادات کو عملی جامہ پہناتے تاکہ وہ دُنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے نجات حاصل کرتے۔ مسلم خواتین اگر وقار اور مقام بحال کرنا چاہتی ہوں تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ آغوش اسلام میں پناہ لیں، اسلامی تعلیم کو اپنائیں اور شرعی احکام پر عمل پیرا ہوں۔
پردہ اسلامی شریعت کا امتیاز اور قابل فخر دینی روایت کے ساتھ ساتھ حکم خدا اور حکم رسولﷺ ہے۔ بنکل دین خلق و خلق الاسلام الحیائ، ہر دین کا ایک خلق ہوتا ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے۔ رسالتمابؐ نے فرمایا146146 جب تجھ میں حیاء نہیں تو جو تیرا جی چاہیے کر145145
عریانیت ایک ایسی ناشائستگی ہے جس کو اسلامی حیاء کسی حال میں برداشت نہیں کر سکتی، غیر تو غیر مذہب بھی اسکوپسند نہیں کرتا۔ اکثر اعلیٰ ہندوئوں اور سکھوں میں رواج ہے گھروں میں وہ اپنے سسر، دیور، جیٹھ وغیرہ سے پردہ کرتی ہیں، اپنے چہرے کو اپنی چادر یا اوڑھنی سے چھپاتی ہیں، مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے جسم کے پوشیدہ اجزاء جن کو ایک مہذب انسان فطری طور پر کسی کے آگے کھولنے میں شرم محسوس کرتا ہے چھپا کر رکھے۔ عورت ستر ہے جب وہ بے پردہ ہو کر نکلتی ہے تو شیطان جھانکتا ہے، اسلامی پردہ کی نوعیت کسی جاہلی رسم نہیں بلکہ ایک عقلی قانون ہے۔
شیاطین خوش ہوتے ہیں تیری بے حیائی پر133تو اپنا حسن پردے میں چھپا لیتی تو اچھا تھا، قرآن شریف میں ارشاد ہے۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے لباس اس لئے اتارا ہے کہ وہ تمہارے لئے ستر پوشی کا ذریعہ بھی ہو اور زینت کا ذریعہ بھی ہو( الاعراف:۳)
مگر محض ستر چھپا لینا کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ تمہارے دلوں میں تقویٰ بھی ہو۔ یہ اسلامی نظام معاشرت کے اساسی تصورات ہیں۔
انسان کی فطرت میں حیاء کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اس کے جسم کے بعض حصے ایسے ہیں جن کے چھپانے کی خواہش نے اس کی جیلت میں پیدا کی ہے اور یہی جن کی خواہش ہے جس نے انسان کو کسی نہ کسی نوع کا لباس اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ انسانی جسم کے کچھ ایسے حصے ہیں ان کے اظہار میں شرم کرنا اور چھپانا انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ البتہ شیطان ملعون چاہتا ہے کہ وہ ان کو کھولدے، جو شخص اسلامی قانون کے مقاصد کو سمجھتا ہو۔ اور اس کے ساتھ عقل بھی رکھتا ہو اس کے لئے مشکل ہیں کہ عوروتوں کو کھلے چہروں کے ساتھ بے پردہ پھرنے کی عام اجازت دینا ان کے مقاصد کے خلاف ہے۔
اسلام کی نگاہ میں وہ لباس در حقیقت لباس ہی نہیں جس میں بدن جھلکے اور سترنمایاں ہو،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو عورتیں کپڑے پہن کر بھی ننگی ہی رہیں اور دوسروں کو رجھائیں اور خود دوسروں پر ریچھیں اور بختی اونٹ کے طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کر کے چلیں وہ جنت میں ہرگز داخل نہ ہونگی بلکہ اسکی خوشبو بھی نہ پائیں گی۔
آج کل نوجوان لڑکیاں جنیز اور چست لباس پہنچتی ہیں۔ جس سے جسم کے اعضاء نمایاں ہوتے ہیں بلکہ جذبہ اُبھرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ جاذب نظر سے Ahractive نہیں اور اعلانیہ شان دلربائی پیدا ہو۔ مرحوم اکبر الہ آبادی نے دکھتی ہوئی رگ کو نصیحت کے نشتر سے چھیڑا ہے۔
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
اکبر زمین میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں وہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا
ایک مسلمان عورت کو شمع خانہ کے بجائے شمع محل بنایا گیا ہے
انسان کو دوسرے انسان کی جو چیز متاثر کرتی ہے تو وہ اس کا چہرہ ہے۔ نگاہوں کو وہی کھینچا ہے اور جذبات بھڑکتے ہیں چونکہ چہرہ حسن کا اصلی معیار ہے اس پر ابھرنے والے تاثرات دلی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں اور نظریں پیغام رسانی کا کام انجام دیتی ہیں۔ ہمارا معاشرہ دن بدن برائیوں اور بے راہ روی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ آج کل ادھیڑ عمر کی عورتیں بھی اس دوڑ میں پیچھے ہیں۔ پرفیوم، لپاسٹک ، فیس کریم، غازہ، مختلف قسم کے آئی شیڈ س، کمان جیسی بھویں، بیویٹی پار لر جا کر اپنے چہروں کو خوبصورت بناتی ہیں۔ اعلیٰ سوسائٹی کی خواتین نیم عریاں ہو کر پھرتی ہیں اور خوگر ہو چکی ہیں۔
رخ منحوس پر لگا کر کیا حسین غازہ
حسین بن کر دکھاتی پھر رہی ہے دلکشی اپنی
ابتدائے عہد اسلام زمانہ جاہلیت میں عورتیں اور لونڈیاں سب کھلی پھرتی تھیں اور بدکار لوگ ان کا پیچھا کرتے تھے، پھر حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اوپر چادروں کے گھونگھٹ ، چادریں اوڑھیں اور اپنے سر اور جسموں کو چھپائیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ شریف عورتیں ہیں۔ اسلام کا نظریہ مقدس پاکیزہ اور بلند ترین ہے۔ ایک مسلمان خاتون اپنے خاندان کے لئے چراغ خانہ ہے۔ ایک عورت آنے والی نسل کی پرورش کا گہوارہ ہی نہیں۔ بلکہ پوری تہذیب و تربیت کا پہلا اور اہم زینہ ہے۔ ایک عورت دینی اور دُنیاوی تعلیم حاصل کر کے اپنے گھریلو ماحول کو اسلامی طرز پر چلا سکتی ہے، مسلم ممالک نے مغربی لباس، مغربی معاشرت، مغربی آداب حتیٰ کہ چال ڈھال بول چال تک میں مغربی طریقوں کی نقل اتاری۔
یورپ کے ملکوں نے پردہ نقاب کو نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔ اپنے لٹریچر میں نہایت گھناونی مضحکہ خیز تصویریں کھینچی اور حیا اور شرم کو بالائے طاق رکھ دیا۔ ہاتھ اور منہ ہی نہیں بلکہ خوبصورت مانگ نکلے ہوئے سرشانوں تک کھلی ہوئی باہیں اور نیم عریاں سینے پیش کئے جاتے ہیں۔ جسم کے محاسن کو بھی ایسے کپڑوں میں ملغوف کیا جاتا ہے کہ وہ چیز ان میں نظر آسکے جو مردوں کی شہوانی پیاس کو تسکین دے سکے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اور وہ عورتیں جو جوانی سے گذر بیٹھی ہوں اور نکاح کی امیدوار نہ ہوں۔ وہ اگر اپنی چادر اُتار کر رکھدیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم وہ بھی حیا داری ہی برتیں تو ان کے حق میں اچھا ہے (سورہ النور ۸)
حکم خداوندی ہے جو آرائش ہر بری نیت سے پاک ہو وہ اسلام کی آرائش ہے اور جس میں ذرا برابر بھی بُری نیت شامل ہو۔ وہ جاہلیت کی آرائش ہے، تبرج کے دو معنی ہیں ایک زینت اور محاسن کا اظہار، دوسرے چلامیں نازوادا ردکھانا،فخر کرتے ہوئے چلنا لچکے کھانا۔ جسم کوٹورنا، ایسی چال اختیار کرنا جس میں ایک ادا پائی جائے۔ ایسے زیور پہنانا جن سے جھنکار اگر بولنے کی ضرورت پیش آئے تو بولو۔ مگر رس بھری آواز نکالنے کی کوششیں نہ کرو۔
سورہ احزاب میں ارشاد ہے146146 اے نبیؐ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہدو کہ وہ اپنے اوپر چادروں کے گھونگھٹ ڈالا کریں۔ اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہچانتی جائینگی۔ اور ان کو نہ ستایا جائے گا145145
امریکہ میں رقص خانے، نایٹ کلب، حسن گاہیں، ریسٹوران، مالشکدئے، بال سنوارنے کی دکانیں قریب قریب باقاعدہ قبحہ خانے بن چکے ہیں۔ بلکہ ان سے بھی بدتر، کیونکہ وہاں ناقابل بیان افعال کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔
امریکہ میں 90 فیصد آبادی امراض خبیثہ سے متاثر ہوں۔
قرآن حکیم میں ارشاد ہے
جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے گروہ میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کیلئے دنیا میں بھی درد ناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔
حضور ﷺ نے چودہ سو سال قبل پیشن گوئی فرمائی تھی وہ آج برابر ہو رہی ہے۔ جیسے اُن کی ذات مقدس دریچے سے جھانک رہی ہو کہ ایسا ہونے والا ہے۔
مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط، میل جول نے عورتوں میں حسن کی نمائش ،عریانی اور فواحش کو غیر معمولی ترقی دیدی ہے۔ پردے کا لفظ جن احکام کے مجموعہ پر بطور عنوان استعمال کیا جاتا ہے وہ دراصل اسلامی ضابطہ معاشرت کے نہایت اہم اجزاء پر مشتمل ہے۔
حجاب اور پردہ کا معاملہ کا اسلامی تعلیمات میں دخل ہے۔ بے حجابی بے پردہ ،شیطانی کارستانی ہے۔ مسلم معاشرہ میں جب تک اسلامی افکار و اقدار کو بحال رکھا اوراسلامی معاشرت اپنائے رکھا تب تک تمام عالم پر اسکا غلبہ رہا۔ سب لوگ اسلامی تہذیب کو اپنانے کے خواہاں تھے، لیکن جب لوگوں نے مغربی تہذیب و تمدن ، عریانیت و فحاشت کو اپنانا شروع کیا۔ اس وقت سے ان کی تنزلی ، انحفاط، ذلت کا پُر آشوب دور شروع ہو گیا۔ مغربی کلچر کے طوفان نے لوگوں کو اپنی گرفتار میں لے لیا اور وہ اسلامی اقدار کو یکسر بھول گئے۔
بعض حالات میں عورتوں کو گھر سے نکلنا ضروری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جائیز رکھا ہے کہ تم اپنی ضروریات کے لئے گھر سے نکل سکتی ہو۔ قامت معاش، بیماری، معذوری یا ایسے ہی وجوہات سے عورت باہر کام کرنے پر مجبور ہو جائے ایسے تمام صورتوں کیلئے کافی گنجائش رکھی گئی ہے۔
حضرت عمر ؓ کا ارشاد ہے146146 اپنی عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہنائو۔ جو جسم پر اس طرح چست ہوں کہ سارے جسم کی ہیت نمایاں ہو۔
حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز وہ اور حضرت میمونہ ؓ حضور ﷺ کے پاس بیٹھی تھیں، اتنے میں حضرت ابن مکتومؓ جونابینا تھا تشریف لائے، حضور ﷺ نے فرمایا146146 ان سے پردہ کرو145145 حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا کیا یہ نا بینا نہیں ہیں نہ وہ ہم کو دیکھیں گے اور نہ ہمیں پہنچانیں گے، حضور ﷺ نے جو اب دیا145145 کیا تم دونوں بھی نا بینا ہو۔ کیا تم انہیں دیکھ پاتی ہو۔
حضور ؐ نے فرمایا۔ جب عورت اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف گھر سے نکلتی ہے تو آسمان کا ہر فرشتہ اس پر لعنت بھیجتا ہے اور جن و انس کے سوا ہر وہ چیز جس پر سے وہ گذرتی ہے اس پر پھٹکار بھیجتی ہے جب تک وہ واپس ہو۔
کاش پردے کے متعلق باشعور نوجوان اور حضرات اور خواتین اس سلسلے میں اقدامات کرتے۔
اللہ سبحان و تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہماری قوم کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اسلام کے اصولوں کو اپنائیں۔