سرورق مضمون

پشاورپاکستان میں طالبان کی یلغار / آرمی اسکول پر حملے میں 148 ہلاک

ڈیسک رپورٹ/
پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں اس وقت سخت غم ا ور ماتم کی لہر پھیل گئی جب پشاور کے ایک اسکول پر مصلح افراد نے حملہ کرکے وہاں اندھا دھند فائرنگ کی ۔ اس حملے میں 132 طلبا کے علاوہ عملے کے 16 افراد مارے گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک سو سے زائد لوگ زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے کئی ایک کی حالت نازک ہے ۔ اس وجہ سے مارے جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کم سن طلبا کی اس ہلاکت کے خلاف پوری دنیا میں غم وغصے کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان میں اس واقعے پر تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا اور اس دوران قومی جھنڈہ سرنگوں رہے گا ۔ پاکستان طالبان کی طرف سے کئے گئے اس حملے کے خلاف تمام حلقوں نے بغیر کسی تفریق کے تشویش کااظہار کیا۔ مسلم علما نے اس کو ایک دہشت گردانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے اسے اسلام کے منافی حرکت بتایاہے ۔ ہندوستان نے اسے ایک ظالمانہ کارروائی قرار دیا ہے اور اس نازک مرحلے پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہنے کا اعلان کیا ہے ۔ دنیا کے دوسرے ممالک نے بھی اسے ایک ہولناک واقعہ قرار دیا اور مجموعی طور اس کی سبھی لوگوں نے مزمت کی ہے۔پاک طالبان کی حلیف تنظیم افغان طالبان نے بھی اس کو ایک وحشیانہ کاروائی بتایا ہے اور اسے اسلام کے منافی قرار دیا ہے ۔ کشمیر میں تمام حلقوں نے اس واقعے کی مزمت کی ہے ۔ علاحدگی پسند تنظیموں نے اسے دہشت گردی کا واقعہ بتایا ہے ۔ حریت (گ) کے سربراہ نے مارے گئے طلبا کی غائبانہ نماز جنازہ کی خود ہی قیادت کی اور مارے گئے طلبا کے لواحقین سے ہمدردی کااظہار کیا ہے ۔ لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک نے اس کو انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ قرار دیا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس واقعے کی بڑے پیمانے پر مزمت کی گئی۔
پشاور میں آرمی اسکول پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب صبح کو اسکول میں بچے جمع ہوئے تھوڑا ہی وقت گزرا تھا ۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسکول کے نزدیک واقع مرغزار کی طرف سے مصلح افراد داخل ہوئے اور سیدھے اسکول بلڈنگ میں آگئے۔ یہاں انہوں نے کلاس روموں کے علاوہ آڈیٹوریم میں جمع طلبا پر بے تحاشا گولیاں چلانا شروع کیا ۔ اس وجہ سے پورے اسکول میں افراتفری پھیل گئی۔ کئی طلبا موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ بہت سے دیگر زخمی ہوگئے۔ اس دوران فوج نے اسکول آکر اسکول بلڈنگ کو گھیرا اور جنگجووں کے خلاف کارروائی شروع کی ۔ ایک جنگجو نے جو کہ پہلے ہی مرحلے پر زخمی ہوگیا تھا خود کو دھماکے سے اڑا دیا ۔ طرفین کے درمیان شدید گولہ باری میں تمام جنگجو مارے گئے اور اسکول سے لاشوں اور بچے ہوئے لوگوں کو نکالنا شروع کیا گیا۔ چھ گھنٹے کی اس کاروائی کے مکمل ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ عملے کے چند افراد کے علاوہ 132معصوم طلبا مارے گئے ہیں۔ اس کاروائی کی پاکستان طالبان نے ذمہ داری لیتے ہوئے اسے ایک کامیاب کاروائی قرار دیا ہے۔ تمام دنیا کی طرف سے مزمت کرنے کے باوجود طلبان ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کو اس اس بات پر کسی طرح کا کوئی افسوس نہیں ہے کہ اسکولی طلبا مارے گئے۔ انہو ں نے اس پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو اور پاکستان آرمی کی طرف سے چھوٹے بچے ہلاک کئے جانے کے بعد اس طرح کی جوابی کاروائی کرنا ان کے لئے ضروری تھا۔طالبان ترجمان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس طرح کی کاروائی اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔ طالبان ترجمان نے کہا ہے کہ اسلام دشمنوں کے ہاتھوں بچے قتل کرنے کے بعد انہیں اس سے پیدا ہونے والے درد سے واقف کرانا ضروری تھا۔ انہوں نے اسکول پر کی گئی چڑھائی کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں طلبا کے مارے جانے کے بعد پاکستان آرمی اور ان کے مدد گار بے گناہ بچوں کے مارنے کا درد محسوس کریں گے ۔ اور فوج معصوم اور بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے سے دریغ کرے گی۔
ادھر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ جنگجووں کو ختم کرنے کے لئے ضرب عضب کے نام سے کی جارہی کاروائی ان کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکت فوج کو کسی طرح کی کارروائی سے روک نہیں سکتی ہے۔ اسی دوران پاکستان فوج کے سربراہ راحیل شریف افغانستان پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے افغان صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان طالبان کے سربراہ کو پاکستان کی طرف دھکیلا جائے ۔ یاد رہے کہ پاکستا ن طالبان کے سربراہ کے بارے میں کافی عرصے سے کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کاروائیوں کی سربراہی کرتے ہیں ۔