سرورق مضمون

پلوامہ میں انکائونٹر/ کولگام اور ترال میں حزب جنگجو ئوں کی ہلاکت

ڈیسک رپورٹ

پلوامہ کے ایک گائوں پدگام پورہ علاقے میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب یہاں ایک درجن کے قریب عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان تصادم ہوا۔ لشکرطیبہ سے وابستہ یہ عسکریت پسند یہاں میٹنگ کے لئے جمع ہوگئے تھے ۔ اس دوران فوج نے پورے علاقے کو گھیر لیا ۔ عسکریت پسندوں نے سخت گولی باری کی اور فوج کا محاصرہ توڑ کر بھاگ گئے ۔ تصادم میں مبینہ طور دو جنگجو مارے گئے ۔ مارے گئے جنگجووں کی شناخت نہ ہوسکی ۔ پولیس نے انہیں غیر ملکی عسکریت پسند قراردے کر بارہمولہ کے پہاڑی علاقے میں دفن کیا ۔ فوج نے بھاگنے والے عسکریت پسندوں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے گوری پورہ ، وندھک پورہ ، پوچھل اور کاکہ پورہ کا گھیرائو کرکے گھر گھر تلاشی لی۔ لیکن عسکریت پسند ہاتھ نہ آئے۔اس دوران پورے علاقے میں سخت تنائو پایا گیا اور لوگ خوف و ہراس کا شکار ہوئے ۔
پڈگام پورہ میں میں جھڑپ سے پہلے کولگام میں حزب المجاہدین کا معروف عسکریت پسند مارا گیا ۔ چھوٹا برہان کے نام سے معروف یہ عسکریت پسند علاقے میں دو تین سال سے سرگرم تھا ۔ حزب المجاہدین نے پچھلے سال عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے جو ویڈیو منظر عام پر لائے ان میں چھوٹا برہان موجود تھا۔ اس کی سرگرمیاں کولگام ضلع میں سیکورٹی فورسز کے لئے سخت پریشانی کا باعث تھیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع میں کئی ہلاکتوں اور دوسری وارداتوں میں اس کا ہاتھ تھا ۔ یہ کئی کیسوں میں پولیس کو مطلوب تھا ۔ فوج کے ساتھ تصادم کے وقت اس کے ساتھ مبینہ طور دو اور عسکریت پسند موجود تھا جو وہاں سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوئے ۔ اس سے پہلے ترال کے ڈاڈہ سرہ گائوں میں تین عسکریت پسند مارے گئے ۔ یہاں فوج کو مصدقہ اطلاع تھی کہ حزب کے تین جنگجو ایک مکان میں چھپے ہوئے ہیں ۔ فوج نے اس مکان کو گھیرے میں لے کر جنگجووں کو باہر آنے کے لئے کہا ۔ لیکن انہوں نے سرنڈر کرنے کے بجائے گولی چلائی جس کے بعد فوج اور جنگجووں کے درمیان سخت لڑائی چھڑ گئی۔ یہ لڑائی رات بھر جاری رہی۔ رات کے تین بجے کے آس پاس مکان زمین بوس کردیا گیا اور تینوں جنگجو مارے گئے۔ بعد میں جنگجووں کی شناخت حزب المجاہدین سے وابستہ مقامی کارکنوں کے طور ہوئی۔ ان میں سے میر آصف ڈاڈہ سرہ کا ہی رہنے والا تھا جس کا باپ میریوسف بائیس سال پہلے فوج اور حزب جنگجووں کے درمیان ہوئے تصادم میں مارا گیا ۔ دوسرا جنگجو چرسو اونتی پورہ کا رہنے والا تھا جبکہ تیسرا اسحاق پرے نامی مجاہد تھا ۔ اسحاق پرے کے بارے میں معلوم ہوا کہ لرہ بل ترال کا رہنے والا تھا اور عسکریت پسندوں سے ملنے سے پہلے ایک ذہین طالب علم کے طور شہرت کا حامل تھا ۔ اس وجہ سے اس کو لوگ نیوٹن کے نام سے جانتے تھے ۔ پچھلے دس دنوں کے دوران حزب المجاہدین کے پانچ اور لشکر کے پانچ جنگجووں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے ۔ عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی تیز کرنے کے حوالے سے پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس مخبروں کی کھیپ ہے جو جنگجووں کے خلاف اس کاروائی میں مدد گار ثابت ہوئے ہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مخبروں کی اطلاع سے ہی جنگجووں کی ہلاکت ممکن بن رہی ہے ۔ اس طرح سے جنگجو حلقوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ پولیس کے اس اعلان پر حزب کے سپریم کمانڈر اور جہاد کونسل کے سربراہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے پولیس اور فوج کے ساتھ کام کرنے والوں کو سخت وارننگ دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔ ان کی اس وارننگ کا مخبروں پر کس طرح کا اثر پڑے گا یہ جلد ہی معلوم ہوگا ۔ ادھر کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے کئی روز پہلے دہلی کو خبردار کیا تھا کہ لشکر کے دس کارکن سرحد پار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس اطلاع پر کشمیر سمیت ملک کے کئی علاقوں میں سیکورٹی ایجنسیوں کو چوکنا کیا گیا تھا۔ کاکاپورہ میں یہی جنگجو موجود تھے یا کچھ اور لوگ تھے اس بارے میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم اتنی تعداد میں جنگجووں کا یہاں پر موجود ہونا حیران کن قراردیا جاتا ہے ۔ سیکورٹی کے اعتبار سے یہ علاقہ بہت ہی حساس قراردیا جاتا ہے ۔ یہاں پچھلے ایک سال کے دوران کئی جنگجو مارے گئے اور تصادم کے کئی واقعات رونما ہوئے ۔ اس سے پہلے یہاں کئی جنگجو فوج کے گھیرے میں آگئے لیکن آس پاس موجود لوگوں نے فوج پر یلغار کی اور عسکریت پسند بھاگ جانے میں کامیاب ہوئے ۔ اس دوران یہاں ایک دوشیزہ کے علاوہ انجینئرنگ ٹریننگ کرنے والا ایک طالب علم مارا گیا ۔ اس واقعے کے خلاف لوگوں نے کئی روز تک ہڑتال اور احتجاج کیا ۔ عسکریت پسندوں کے فوج کے گھیرے میں آتے وقت لوگوں کی طرف سے سنگ باری اور احتجاج سے سیکورٹی حلقوں میں تشویش پھیل گئی۔ اس صورتحال پرقابو پانے کے لئے لوگوں کو سخت وارننگ دی گئی ہے کہ دوبارہ وہ ایسا کرنے کی کوئی کوشش نہ کریں ۔ فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس موقعے پر لوگ نزدیک نہ آئیں ورنہ ان کے خلاف موقعہ پرہی کاروائی کی جائے گی ۔ اس سے یہی مطلب لیا جاتا ہے کہ فوج کودیکھتے ہی گولی چلانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ یہاں پر یہی اخذ کیا جاتا ہے کہ حالت و قرائین بتا رہے ہیں کہ کشمیر میں حالت پھر 90 کی طرف جا رہے ہیں۔ اس لحاظ سے بھی عوامی حلقوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے