خبریں

پنچایت راج کشمیر حل کا نعم البدل نہیں

پنچایت راج کشمیر حل کا نعم البدل نہیں

راہل گاندھی کے دورہ کشمیر کے دوران دئے گئے بیانات کے حوالے سے ناامیدی کا اظہار کرتے ہوئے حریت (ع) کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ بھارت کی نوجوان قیادت کے حوالے سے کشمیری عوام کو بہت سی امیدیں ہیں تاہم راہل کی طرف سے بنیادی مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کرنا انتہائی افسوس ناک ہے ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی نے یہاں کی زمینی اور سیاسی صورتحال کے برعکس جمہوری اداروں ، پنچایتی راج اور روزگار کے حوالے سے بات کی۔مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارت کی قیادت کی سوچ اور طرز عمل میں تبدیلی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان کی قیادت کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہئے کہ انکے غلط اور جارحانہ طرز عمل کی وجہ سے ہندوستان اور کشمیری عوام کے درمیان ہر گزرتے دن کے ساتھ دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں اور بھارت کی قیادت پر سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے اور جب تک وہ کشمیری عوام کے سیاسی حقوق کے حوالے سے عدل و انصاف اور تاریخی حقائق پر مبنی پالیسی اختیار نہیں کرتے اس خطے میں امن کا قیام ناممکن ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ گزشتہ66 برسوں کے دوران ہندوستان پر بیشتر وقت کانگریس پارٹی حکمران رہی ہے اور یہ کانگریس کی قیادت ہی تھی جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لیا اور خود کانگریس کے رہنما پنڈت جواہر لعل نہرو نے سرینگر آکر کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دینے اور انکے احساسات و جذبات کے احترام کا وعدہ کیا ہے۔انہو ں نے کہا کہ کشمیر کی صحیح صورتحال سے بے خبر رکھنے کیلئے ہندوستان کے عوام کو کشمیر کے حالات کی غلط تصویر پیش کی جارہی ہے اور انکے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ مسئلہ کشمیر دہشت گردی یاسرحد پار کی در اندازی کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی ممبر جو یہاں انتخابات لڑتے ہیں انکے حوالے سے بھارت کے سابقہ فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کے الزامات پوری دنیا پر منکشف ہو چکے ہیں اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کشمیر میں سیکورٹی ایجنسیاں اپنے مفادات اور مقاصد کی عمل آوری کیلئے ریاستی وزیروں اور اسمبلی ممبروں کو رقومات فراہم کررہے ہیں اور اسمبلی میں بیٹھے لوگ ان واضح حقائق کی پردہ پوشی کررہے ہیں۔میرواعظ نے کہا کہ راہل گاندھی کو ہندوستان کی سیاست میں ایک لمبا سفر طے کرنا ہے اور ہمیں امیدہے کہ یہاں کے زمینی اور سیاسی حقائق سے پردہ پوشی کے بجائے بھارت کے نوجوان نسل کی قیادت روایتی طرز سیاست سے ہٹ کر ایک حقیقت پسندانہ طرز عمل اور سوچ کے ساتھ آ گے آئیگی تاکہ مسئلہ کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کے حل کے حوالے سے راستہ ہموار ہو سکے۔حریت چیرمین نے کہا کہ ہندوستان کی نئی لیڈرشپ کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ جمہوریت روزگار ، جمہوری اداروں کا فروغ صرف پر امن حالات میں کار آ مد باتیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ راہل نے کشمیر آکر یہاں لاکھوں فورسز کی تعیناتی،ہزاروں لاپتہ افراد ، ہزار گمشدہ قبروں اور ہر روز ہو رہی حقوق انسانی کی پامالیوں کی بات نہیں کی۔ ہندوستان کی قیادت کو تبدیل ہونا ہوگا اور حقائق کو تسلیم کرنا ہوگااور وہ یہ کہ مسئلہ کشمیر روزگار، جمہوری اداروں کے فروغ اور پنچایتی راج جیسے نعروں سے حل نہیں ہوگا بلکہ اسکے لئے کشمیری عوام کی رائے اور انکے جذبات کا احترام لازمی ہے اور مسئلہ کشمیر سے جڑے تینوں فریقوں بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام کی مستند قیادت کے درمیان نتیجہ خیز مذاکراتی عمل کا آغاز ایک ناگزیر امر ہے۔راہل گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ ہم تعمیر و ترقی کیخلاف نہیں، یہاں کے نوجوانوں کو روزگار چاہئے لیکن جہاں انسانوں سے زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیا گیا ہو انکے سیاسی و مذہبی حقوق سلب کرلئے گئے ہو وہاں جمہوریت ، پنچایتی راج ، میونسپل کونسل انتخابات وغیرہ کی باتیں بے معنی ہیں۔انہو ں نے کہا کہ یہ کانگریس پارٹی ہی ہے جس نے 1947ء میں کشمیری عوا م کو انکے جائز حقوق دینے کا وعدہ کیا ہے اور یہ انکی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہندوستان کے عوام کے سامنے کشمیر کی اصل صورتحال پیش کرے۔ میرواعظ نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اگر ہندوستان کی نئی اور نوجوان قیادت مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے حوالے سے ایک مثبت سوچ اور حقیقت پسندی پر مبنی پالیسی کے ساتھ آگے آتی ہے تو وہ یہاں کی قیادت اور نوجوان نسل کو وہ اپنے ساتھ پائیں گے۔