سرورق مضمون

پولنگ پر پھرتشدداور سنگ باری/ کہیں بائیکاٹ اور کہیں بھاری پولنگ

ڈیسک رپورٹ
7 مئی کو ریاست میں پارلیمانی انتخابات کا آخری مرحلہ طے پایا ۔اس مرحلے پر بارہمولہ اور لداخ کی دو نشستوں پر انتخابات ہوئے ۔ لوگوں کی نظریں بارہمولہ کی نشست پر لگی رہیں ۔ اس نشست پر نیشنل کانفرنس کے شریف الدین شارق ، پی ڈی پی کے مظفر حسین بیگ، عوامی اتحاد کے انجینئر رشید ،پیپلز کانفرنس کے سلام الدین بجاڑ کے علاوہ کئی امید وار قسمت آزمائی کے لئے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں ۔ البتہ مبصرین کا اندازہ ہے کہ این سی اور پی ڈی پی کے امیدواروں کے درمیان راست مقابلہ ہے ۔ اگرچہ پولنگ کے رجحان سے این سی کا پلڑہ بھاری لگتا ہے تاہم کئی علاقوں میں پی ڈی پی کو بھی کافی ووٹ ملنے کا امکان ہے ۔ یہاں پی ڈی پی کی طرف سے مظفر حسین بیگ کو میدان میں اتارا گیا جبکہ این سی نے موجودہ پارلیمنٹ ممبر شریف الدین شارق کو ہی اپنے امیدوار کے طور برقرار رکھا ۔ بارہمولہ کی یہ نشست اس حوالے سے بڑی اہم مانی جاتی ہے کہ کشمیر میں بیشتر علاحدگی پسندوں کا تعلق اسی علاقے سے ہے ۔ حریت (گ ) کے سربراہ سید علی گیلانی کے علاوہ حریت (م) کے سابق چیر مین پروفیسرعبدالغنی اسی علاقے کے رہنے والے ہیں ۔اس کے علاوہ لبریشن فرنٹ کے بانی رہنما شہید مقبول بٹ کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا۔ حال ہی میں تہار جیل میں پھانسی چڑھنے والے افضل گورو بھی اسی علاقے کے ایک گاؤں کے باشندے تھے۔ اس طرح کی وجوہات کی بنا پر لوگ یہاں ہورہے انتخابات پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے ۔ علاحدگی پسندوں نے لوگوں سے پولنگ کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے برعکس انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے لیڈروں نے اپنے حق میں ووٹ دینے کے لئے سخت دوڑ دھوپ کی ۔ ان اپیلوں کا ملا جلاردعمل دیکھا گیا ۔ کہیں پر لوگوں نے بائیکاٹ کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے پولنگ بوتھوں کا رخ نہیں کیا جبکہ بہت سے علاقوں میں پولنگ بوتھوں پر لمبی قطاریں دیکھی گئیں ۔ ان علاقوں میں ووٹ ڈالنے کے لئے لوگوں میں کافی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ یہی وجہ ہے کہ پولنگ ختم ہونے کے بعد علاحدگی پسندوں کی طرف سے لوگوں کو مبارک باد دی گئی کہ انہوں نے ان کی بائیکاٹ کال پر عمل کیا ۔ ادھر مین سٹریم جماعتوں کی طرف سے ووٹ ڈالنے پر لوگوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔ یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ دونوں گروہ اپنے طور لوگوں کے طرز عمل پر اطمینان کا اظہار کررہے ہیں ۔
بارہمولہ کی نشست پر انتخابات ہونے سے پہلے جنوبی کشمیر اور سرینگر میں انتخابات ہوئے ۔ ان دو نشستوں پر ووٹ ڈالنے کے بجائے زیادہ تر بائیکاٹ کا اثر دیکھا گیا ۔ جنوبی کشمیر میں 28 فیصد پولنگ ہوئی جبکہ سرینگر کی نشست پر اس سے بھی کم لوگوں نے ووٹ ڈالے ۔ اس کے بجائے بارہمولہ کی نشست پر 40 فیصد کے آس پاس ووٹ ڈالے گئے ۔ اس نشست کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر بائیکاٹ کیا گیا ۔ بہت سے علاقوں میں پولنگ عملہ دن بھر ووٹروں کا انتظار کرتا رہا ۔ لیکن کسی ایک ووٹر نے بھی پولنگ بوتھ تک آنے کی زحمت نہ اٹھائی ۔ سوپور کے علاوہ بارہمولہ خاص میں بائیکاٹ کا کافی اثر دیکھا گیا ۔ سب سے زیادہ بائیکاٹ پٹن پلہالن میں دیکھا گیا ۔ اسی طرح بانڈی پورہ میں بھی کئی جگہوں پر بائیکاٹ دیکھنے کو ملا ۔ لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ شہید مقبول بٹ کے آبائی گاؤں میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر ووٹ ڈالے ۔ اس کے بجائے شہید افضل گورو کے گاؤں میں لوگوں نے ووٹ دینے سے گریز کیا ۔ گورو کی بیوہ نے اس بات پر لوگوں کا شکریہ کیا کہ انہوں نے ووٹ ڈالنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ انتخابات کے نتائج چاہئے کچھ بھی ہوں تاہم یہ بات بڑی اہم ہے کہ پچھلے انتخابات خاص کر پنچایت انتخابات کے بجائے لوگوں نے ووٹنگ میں کوئی خاص دلچسپی نہ دکھائی۔ یہ اثر کب تک قائم رہے گا ، اس بارے میں کچھ کہنا بڑا مشکل ہے ۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس سے علاحدگی پسندوں کو کافی حوصلہ ملا ہے ۔ خاص کر نوجوان طبقے نے ووٹ ڈالنے کے بجائے بائیکاٹ کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ نوجوانوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا اور پولنگ بوتھوں کے علاوہ پہلی بار پولنگ عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ سنگ باری کرتے ہوئے ووٹنگ کے عمل کو سخت مشکل بنادیا گیا اور پولیس اور حفاظتی عملے کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا ۔اس وجہ سے پولنگ کے دنوں میں وادی بھر میں جنگ کا سماں لگ رہا تھا ۔اس سے پہلے بھی انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا ۔ لیکن اتنے بڑے پیمانے پر تشدد پہلی بار دیکھنے کو ملا ۔ لوگوں میں یہ گرم جوشی آئندہ انتخابات تک موجود رہے گی یا نہیں ، یہ آنے والا وقت ہی بتا ئے گا ۔