سرورق مضمون

پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر کہرام

رواں مہینے کی۱۲ تاریخ یعنی منگلوار کو صبح سویرے پلوامہ سے اطلاع ملی کہ نامعلوم بندوق برداروں نے دوپولیس اہلکاروں کو ہلاک اور ایک کو شدید زخمی کردیا۔ پلوامہ کے مضافات میں تکیہ واگم میں واقع عدالت پر بندوق برداروں نے اچانک حملہ کیا اور ڈیوٹی پر تعینات تین پولیس اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی ۔ ان میں سے دو موقعے پر ہی ہلاک اور ان کا ایک ساتھی شدید زخمی ہوا۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو سخت صدمے سے دوچار کیا ۔ عید سے پہلے ان ہلاکتوں پر سخت رنج وغم کا اظہار کیا گیا ۔ اس طرح سے تین اور خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ کہا جاتا ہے کہ مارے گئے پولیس اہلکاروں میں سے ایک کے پسماندگان میں اس کے والدین سمیت دس افراد شامل ہیں ۔ دس افراد پر مشتمل کنبے کا یہی ایک واحد کفالت کرنے والا تھا ۔ دوسرے اہلکار کے بارے میں معلوم ہوا کہ ا س کا باپ پہلے ہی جسمانی طور ناخیز ہے اور ان کے پاس بھی کمائی کا کوئی دوسرا وسیلہ نہیں ہے ۔ واقعے کی کسی بھی جنگجو تنظیم نے ذمہ داری نہیں لی۔ البتہ لشکر طیبہ نے پولیس محکمے میں کام کرنے والے اہلکاروں کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تحریک مخالف سرگرمیوں سے دور رہنے کے لئے کہا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ میں مارے گئے اہلکاروں کو پہلے سرکاری اعزاز کے تحت سلامی دی گئی ۔ اس تقریب میں پولیس آفیسروں کے علاوہ سیول انتظامیہ کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے بھی شرکت کی ۔ بعد میں انہیں ان کے آبائی علاقوں میں لے جایا گیا جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کے جنازوں میں شرکت کی ۔ کہا جاتا ہے کہ تعزیت کرنے والوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ عوام نے ان اہلکاروں کی موت پر مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔
پولیس پر جنگجووں کے حملے پچھلے کئی مہینوں سے برابر جاری ہیں ۔ اس سے پہلے 2008 اور 2010 کی ایجی ٹیشن کے دوران پولیس کو لوگوں کے غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑا۔ ان ایجی ٹیشنوں کے دوران پولیس نے مبینہ طور عوام دشمن رول ادا کیا ۔ اس وجہ پولیس عوام کے عتاب کا شکار بنی ۔ اس کے باوجود جنگجووں نے پولیس کو براہ راست نشانہ بنانے سے احتراض کیا ۔ آج پہلی بار محسوس ہوتا ہے کہ پولیس جنگجووں کے نشانے پر ہے ۔ اس سے پہلے کئی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرکے ان سے ان کے ہتھیار چھین لئے گئے ۔ واگم پلوامہ میں پیش آئے واقعہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ حملہ آور پولیس اہلکاروں کے ہتھیار چھین کر بھاگ گئے ۔ ان کا مقصد صرف ہتھیار چھیننا تھا یا اس کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے مقصد سے حملہ کیا گیا ، تاحال معلوم نہ ہوسکا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کرکے اصل حقیقت کا پتا لگانے کی یقین دہانی کی ہے ۔ تاہم اس بات کی توقعہ کم ہی کی جاتی ہے کہ پولیس تحقیقات سے کچھ حاصل ہوگا۔ اس واقعے سے پولیس محکمے کے اندر سخت خوف وہراس پیدا ہوگیا ہے ۔ پولیس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ انہیں اس طرح سے حملوں کا نشانہ بناکر سخت پریشان کیا جائے گا ۔ لیکن اب یقین کرنا لازمی ہے کہ پولیس کا کوئی بھی اہلکار محفوظ نہیں ہے ۔ جنگجو کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ حملہ کرنے اپنا مقصد حاصل کرسکتے ہیں ۔ پولیس نے ان حملوں کو روکنے کے لئے کس قسم کی حکمت عملی تیار کی ہے معلوم نہیں ہوسکا ۔ تاہم پولیس کے خاموش بیٹھنے کی امید نہیں کی جاسکتی ہے ۔ پلوامہ ایک حساس علاقہ ہے جہاں ملی ٹنسی کی وارداتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے ۔ جنگجو صفوں میں بڑے پیمانے پر نئی بھرتیاں جاری ہیں ۔ خاص طور سے جیش محمد میں نوجوان شمولیت اختیار کررہے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے ایک اہم قدم اس وقت اٹھایا گیا جب ماہ رمضان کے ایک مہینے کے لئے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ۔ اس دوران صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ ریاست کے دوروزہ دورے پر آئے ۔ یہاں انہوں نے سرینگر میں کئی اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سے ملاقات کی اور امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کی ۔ کہا جاتا ہے کہ دہلی پہنچ کر انہوں نے وزیراعظم کو جائزہ رپورٹ پیش کی اور انہیں پوری صورتحال سے باخبر کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی واقع پیش نہ آیا تو جنگ بندی میں توسیع کرنا یقینی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کھل کر کہا ہے کہ انہوں نے جنگ بندی میں توسیع کرنے کی سفارش کی ہے ۔ وزیرداخلہ نے فوج کے اعلیٰ عیدیداروں سے حالات کی جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کی ۔کہا جاتا ہے کہ مرکزی سرکار امرناتھ یاترا کے اختتام تک جنگ بندی جاری رکھنے کے حق میں ہے ۔ دوسری طرف سرکار نے علاحدگی پسندوں سے بات چیت کرنے کا اعلان کیا ۔ مرکز کی خواہش ہے کہ حریت رہنما سامنے آخر دہلی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوجائیں ۔ اگرچہ حریت نے کچھ نقاط کی وضاحت طلب کی جس بارے میں پہلے مرکزی سرکار کی پوزیشن واضح کرنے کا اشارہ دیا گیا ۔ لیکن آج تک ایسا نہ ہوسکا ۔ اس وجہ سے بات چیت آگے بڑھنے کے امکانات ختم ہورہے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے ملی ٹنسی کے واقعات میں بہت حد تک کمی آگئی ہے ۔ سنگ بازی کے اکا دکا واقعات ہی پیش آئے ۔ البتہ پولیس پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ طلبہ ایجی ٹیشن بھی ختم ہوچکی ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنگجو صفوں میں نوجوانوں کی شمولیت میں بہت حد تک کمی آگئی ہے ۔ اس وجہ سے مرکز کی طرف سے جنگ بندی میں اضافہ کئے جانے کی امید کا اظہار کیا جارہاہے ۔اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ عید کے موقعے پر جنگ بندی میں توسیع کئے جانے کا اعلان ہونے کی توقع ہے ۔