خبریں

پہلے حد بندی ہوگی اور پھر اسمبلی الیکشن

پہلے حد بندی ہوگی اور پھر اسمبلی الیکشن

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے واضح کردیا ہے کہ جموں وکشمیر میں پہلے حد بندی اور اس کے بعد اسمبلی الیکشن ہوگا جبکہ ریاستی درجہ کی بحالی پارلیمنٹ ہائوس میں ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے کئے گئے وعدے کے عین مطابق موزون وقت پر ہوگی۔ایل جی نے سبھی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ حد بندی کمیشن کو ملیں اور اپنی آراء سامنے رکھیں۔منوج سنہا نے ان افواہوں کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا کہ حد بندی کا مقصد ہندو وزیر اعلیٰ اقتدار میں لانے اور جموں کا دبدبہ بڑھا نا ہے۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی سطح کی بات چیت جاری ہے اور اس کے حق میں بات کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ سنہا نے ایک ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ انٹرویو کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ جموں وکشمیر میںپہلے حد بندی اور اس کے بعد اسمبلی الیکشن ہوگا جبکہ ریاستی درجے کی بحالی موزون وقت پر ہوگی جس کیلئے ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ کے ایوان میں عوام کے ساتھ وعدہ کیا ہے جبکہ وزیرا عظم نریندر مودی نے بھی 15اگست 2019کی یوم آزادی تقریب پر لعل قلعہ کی فصیل سے عوام کو اس کی یقین دہانی کرائی ہے۔منوج سنہا نے حد بندی کمیشن کوشفاف اور آزادانہ طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا انتخابی کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے جس میں کسی بھی قسم کی کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوتی ہے۔انہوںنے سبھی سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ 6جولائی کو جموں وکشمیر کے دورے پر آرہی حدبندی کمیشن کی ٹیم کے ساتھ ملیں اور اپنی آراء پیش کریں۔ایل جی کے مطابق حد بندی کا عمل بالکل شفاف ہوگا اور عوام اس کا بچشم خود بھی مشاہد ہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر میں 2026سے قبل حد بندی الگ سے کرنے کی ضرورت اس کویونین ٹریٹری بنانے کی وجہ سے پڑی کیونکہ اس میں اب آبادی کا اضافہ بھی ہوا ہے ۔ان افواہوں کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہ حد بندی کا مقصد ہندو وزیر اعلیٰ کو بر سر اقتدار لانا اور کشمیر پر جموں کا دبدبہ قائم کرنا ہے،ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ یہ بالکل ہی بے بنیاد اور من گھڑت قیا س آرائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ اپنا کام آئینی اور قانونی دائرے میں کرتاہے اور جموں وکشمیر میں بھی یہی بالا دستی قائم رہے گی۔اسمبلی الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ خود وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی بھی ہے کہ جموں وکشمیر میں عوامی حکومت جلد سے جلد تشکیل پائے اور اس سلسلے میں حدبندی کی تکمیل کی دیر ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ الیکشن صاف وشفاف اور آزادانہ ہونگے اور اس کیلئے حفاظت کے تمام ضروری اقدامات کئے جائینگے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ یونین ٹریٹری میں حالیہ دنوں کے دوران تشدد کے کچھ واقعات رونماہوئے جبکہ ڈرون حملوں نے بھی چیلنج پیدا کئے ہیں لیکن ا س کے باوجود حفاظتی دستوں کا ہی پلڑا بھاری ہے۔ایل جی نے کہا کہ حالیہ دنوں کے دوران مطلوب ترین کمانڈروں سمیت کئی ملی ٹینٹوں کو مار دیا گیا ہے جبکہ سرحدوں پر بھی صورتحال مکمل طور پر امن ہے۔ایل جی کے مطابق اسمبلی الیکشن بھی ڈی ڈی سی الیکشن کی طرح بے خوف اور آزادانہ ماحول میں انجام پائیں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25برس میں پہلی بار ڈی ڈی سی کے الیکشن کئے گئے اور خون کا ایک قطرہ تک بھی نہیں بہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے جبکہ ڈی آر ڈی او نے بھی اس حوالے سے ٹیکنالوجی پر کام کیا ہے۔ایل جی کے مطابق سیکورٹی گرڈ کا آپس میں بہترین تال میل ہے اور اب در اندازی مکمل طور ختم ہوئی ہے جبکہ ملی ٹینسی میں نئی بھرتی پر بھی بڑی حد تک روک لگ گئی ہے۔وزیر اعظم کے ساتھ 24جون کو ہوئی کل جماعتی میٹنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایل جی نے کہا کہ یہ میٹنگ کامیاب رہی اور اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔