سرورق مضمون

“’پیگاسس‘” کے استعمال سے ملک بھر میں سنسنی

“’پیگاسس‘” کے استعمال سے ملک بھر میں سنسنی

سرینگر ٹوڈےڈیسک
پارلیمنٹ کے رواں مون سون اجلاس میں اس وقت اپوزیشن کی طرف سے سخت ہلہ گلہ کیا گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ ایک مخصوص سافٹ ویر کا استعمال کرکے کئی افراد کے فون ٹیپ کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے معلوم ہوا کہ اسرائیلی کمپنی کی طرف سے تیار کیا گیا سافٹ ویر پیگاسس سے کئی لوگوں کے فون خفیہ طور ٹیپ کئے گئے اور بغیر اطلاع دئے ان سے جانکاری حاصل کی گئی۔ ایک نیوز پورٹل کی طرف سے انکشاف کیا گیا کہ دہلی حکومت کی طرف سے پیگاسس کا استعمال کرکے اپوزیشن لیڈروں ، صحافیوں ، ہیومن رائٹس کارکنوں یہاں تک کہ بی جے پی کے کئی پارلیمنٹ ممبروں کے فون خفیہ طور ٹیپ کئے گئے ۔ اس انکشاف پر پارلیمنٹ کے جاری اجلاس میں حکومت کے خلاف سخت شور شرابہ کیا گیا ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کئی سالوں سے اس طرح کی جاسوسی میں ملوث ہے اور مطالبہ کیا گیا کہ وزیرداخلہ امیت شاہ فوری طور اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائے ۔ خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں جن لوگوں کے خلاف اس طرح کی مبینہ طور جاسوسی کی گئی ان میں اپوزیشن کے تین بڑے لیڈر ، بیس صحافی اور حکومت کے دو وزیرشامل ہیں ۔سلامتی ایجنسیوں کے موجود اور کئی سابق سربراہوں کے نام بھی اس طرح کی فہرست میں شامل بتائے جاتے ہیں ۔ خبررساں ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ جاسوسی کے دائرے میں آئے فون نمبروں کی فارنسک جانچ کرکے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پیگاسس کے استعمال سے ان سے خفیہ معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے کانگریس سربراہ اور پارلیمنٹ ممبر راہول گاندھی کا نام بھی لیا جاتا ہے جس کے فون کی مبینہ طور جاسوسی کی گئی ۔ اسی طرح جن صحافیوں کے نام لئے جارہے ہیں ان میں ہندوستان ٹائمز ، انڈین ایکسپریس، انڈیا ٹوڈے اور دی ہندو نامی مشہور اخبارات کے ایڈیٹر بھی شامل ہیں ۔ بنگال کی موجودہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا اس حوالے سے بڑھ چڑھ کر ذکر کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ ممتا بنرجی نے حال ہی میں بنگال میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بی جے پی کو ان انتخابات میں کراری شکست دی ۔ اس دوران وزیراعظم اور وزیرداخلہ امیت شاہ کی طرف سے بنگال کے کئی دورے کرکے سخت کوشش کی گئی کہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو شکست دی جائے ۔ ممتا نے سخت ترین الیکشن مہم چلاکے بی جے پی کو شکست دی ۔ اب انکشاف کیا جارہاہے کہ اس الیکشن کے دوران ممتا کے علاوہ الیکشن حکمت تیار کرنے والے پرشانت بھوشن کے فون کی بھی جاسوسی کی جاتی رہی ۔ فون ہیک کئے جانے کے اس اسکنڈل کے حوالے سے حیران کن بات یہ سامنے آئی ہے کہ بی جے پی کے دو اہم کارکنوں اور پارلیمنٹ ممبر ایشونی ویشنو اور پرہلاد سنگھ پٹیل کے فون بھی پچھلے دو سالوں سے ٹیپ ہوتے رہے ۔ اب دونوں کو وزارتی کونسل میں شامل کیا گیا ہے ۔ اسی طرح سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے فون کی جاسوسی ہوتی رہی ۔ سپریم کورٹ کے گیارہ ملازمین کے فون ٹیپ کئے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے ۔ فون ٹیپ کرکے جاسوسی کئے جانے کے اس انکشاف نے پورے ملک میں سنسنی پھیلادی ہے ۔ بلکہ یہ معاملہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں اس طرح کی جاسوسی کی جاتی رہی ۔ ہندوستان کی سرکار نے خبررساں اداروں کی ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے جاسوسی کی اس خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی جاسوسی کسی بھی طور ممکن نہیں ہے ۔
پیگاسس کی ا ستعمال سے مبینہ جاسوسی کے انکشاف پر ایک بڑا ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس طرح کا سافٹ ویر اسرائیل کی ایک کمپنی نے تیار کیا ہے ۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ایسا سافٹ ویر صرف حکومتوں کو ہی بھیجا جاتا ہے ۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کی مختلف حکومتیں اس ذریعے سے اپنے مخالفین کے علاوہ کئی دوسرے اداروں کی جاسوسی کرنے میں ملوث رہی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ پیگاسس کے استعمال کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں اب تک کم از کم پچاس ہزار لوگوں کی جاسوسی کی گئی ۔ مختلف حکومتوں کی طرف سے اپنے ملک میں کام کررہے انسانی حقوق کے کارکنان ، وکلا تنظیموں کے لیڈران ، میڈیا سے جڑے کارکنان کے علاوہ بڑے پیمانے پر سیاسی لیڈران کی جاسوسی کی جاتی رہی ۔ اس فہرست مین بڑے بڑے تاجروں کے نام بھی شامل کئے جارہے ہیں ۔ مودی سرکار کی طرف سے کی گئی اس جاسوسی پر اپوزیشن سیخ پا نظر آتی ہے ۔ کانگریس مطالبہ کررہی ہے کہ اس انکشاف کے بعد وزیرداخلہ امیت شاہ کو استعفیٰ دے کر الگ ہونا چاہے ۔ پارٹی کی طرف سے مطالبہ کیا جارہاہے کی اس معاملے کی غیر جانبداری سے جانچ کی جائے اور وزیراعظم کو بھی اس جانچ کے دائرے میں لایا جائے ۔ حکومت کی طرف سے اس معاملے پر ایک تحریری بیان پڑھا گیا اور ایسی تمام خبروں کی تردید کی گئی ۔ ادھر کہا جاتا ہے کہ بہار کے وزیراعلیٰ اور بی جے پی کے اتحادی نتیش کمار نے بھی پیگاسس کے استعمال پر اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے شہریوں کی جاسوسی کرنے کے اس عمل کو ایک گندہ کھیل قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ تاہم سابق وزیراعظم اور گاندھی خاندان کے قریبی ساتھی منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈروں کی جاسوسی کرنے کا یہ کام پہلی بار سامنے نہیں آیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئی بار اس طرح کی خبریں سامنے آئیں کی خفیہ ادارے سیاسی کارکنوں کے فون ٹیپ کرکے ان کی جاسوسی کررہی ہے ۔پیگاسس کا استعمال کرکے جاسوسی کا یہ نیا کھیل پہلی بار سامنے آیا ہے ۔ اس سے پہلے کہا جاتا تھا کہ ایپل نامی کمپنی کے تیار کئے گئے آئی فون ہر لحاظ سے محفوظ ہیں ۔ ان میں موجود ڈیٹا حاصل کرنے کسی کے بس میں نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ راہول گاندھی نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے مہنگے فون بھی محفوظ نہیں ہیں ۔اگرچہ یہ بات سامنے نہیں آئی کہ فون ٹیپ کرکے کس طرح کا مواد حاصل کیا گیا ۔ تاہم کئی حلقوں کا خیال ہے کہ اس طرح کی جاسوسی کا مقصد الیکشن کے دوران اپوزیشن کی سرگرمیاں معلوم کرنا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ پچھلے پارلیمانی انتخابات کے علاوہ بنگال اور دوسری کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے الیکشن منصوبوں کے بارے میں جانکاری حاصل کی گئی ۔ اس پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔