اداریہ

پی ڈی پی اور بی جے پی کیلئے نیا امتحان

مفتی محمد سعید کو اس دنیا سے رحلت کئے ہوئے اب دو مہینے سے بھی زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے اور ابھی تک بھی پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی ریاست میں نئی سرکار تشکیل دینے میں ناکام رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ریاست میں سیاسی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ سابق وزیراعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کی صاحبزادی اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اگر چہ اپنے آپ کو ایک باہوش اور قابل سیاست دان کے طور پیش کرنے کی کوشش تاکی، تاہم اس کی قابلیت اور ہوش بندی کا بھر پور دفاع کیا گیا، محبوبہ مفتی دو ڈھائی مہینے سے سیاسی ڈرامہ بازی کر کے بھاجپا کو جو پٹی پرھانے کی کوشش کی وہ اس وقت ناکام ہو گئی جب بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے محبوبہ سے بھی بڑھ کر سیاست دکھائی اوراس وقت پی ڈی پی صدر پر ایسا وار کیا جس سے نہ صرف پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کا معاملہ کٹھائی میں پڑ گیا بلکہ ایسا بھی محسوس کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی کا یہ تازہ فیصلہ پی ڈی پی کے لئے بھی نقصان ہی نقصان نظر آرہا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ محبوبہ مفتی کا دو ڈھائی مہینے کے دوران حکومت تشکیل نہ دینے کا مطلب صرف اور صرف کشمیری عوام کی اُن کے تئیں پذیرائی حاصل کرنی تھی اور کچھ نہیں۔ اسی لئے انہوں نے دو ڈھائی مہینے کا وقت ضائع کیا۔ دراصل ان کو ایک نظریہ تھا جس کو وہ پیش کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ ان کا نظریہ یہی تھا کہ کچھ ایسا کیا جائے جس سے سانپ بھی بھاگے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ وہ عوام کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ عوام کی فلاح کیلئے کچھ کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور دوسری طرف اپنے اقتدار کی فکر میں تھی اس لحاظ سے وہ ایک سیاست کھیل رہی تھی حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی اس معاملے کو لے کر اس دوران کافی پریشان نظر آرہا تھا کیونکہ ان کے لئے ریاست میں حکومت بنانا کافی اہم سا لگتا تھا ،اب جبکہ ایسے تیسے محبوبہ مفتی حکومت بنانے پر آمادہ ہو ئیں اور اُس نے بی جے پی صدر امت شاہ کے ساتھ تشکیل حکومت کے معاملے کو لے کر ملاقات کی، تاہم ملاقات کے بعد محبوبہ مفتی کی حکومت بنانے کی آمادگی کے بعد بی جے پی نے بھی ایک ایسا زبردست کھیل کھیلنے کی کوشش کی جو پی ڈی پی کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بی جے پی کے اس نئے فیصلے سے دونوں پارٹیاں ایک طرح امتحان میں پڑ گئے، بی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ محبوبہ مفتی کو نئے شرائط پر اعتماد دینے کے لئے تیار نہیں۔ اور اگر پرانے ہی شرائط یعنی جو مرحوم مفتی محمد سعید نے معاملات پہلے سے ہی طے کئے ہیں انہی کے بنیاد پر محبوبہ کو اعتماد دینے کے لئے تیار ہے۔ اس طرح سے بی جے پی نے بھی ایک زبردست سیاست کی ہیں اب دیکھنا یہ ہے دونوں پارٹیوں کے لیڈران یعنی محبوبہ مفتی بی جے پی کو نئے شرائط منوانے کی صورت میں ہی ان کے ساتھ حکومت بناتی ہے یا بی جے پی پرانے شرائط پر ہی پی ڈی پی کو کام چلائو سرکار بنانے کیلئے اعتماد دے گی۔ دونوں پارٹیوں کے لئے امتحان سے کم نہیں ہے۔