مضامین

پی ڈی پی بھاجپا بات چیت ناکام/ بھاجپا کو پی ڈی پی کے نئے شرائط منظور نہیں

پی ڈی پی بھاجپا بات چیت ناکام/ بھاجپا کو پی ڈی پی کے نئے شرائط منظور نہیں

ریاست میں بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان تشکیل حکومت کے لئے دو ڈھائی ماہ سے چل رہی بات چیت بالآخر ناکام ہونے جارہی ہے،پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان حکومت سازی کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہونے کے بعد پی ڈی پی نے اعتماد سازی کے ٹھوس اقدامات کو جموں وکشمیر میں نئی راہیں تلاش کرنے کو ایک لازمی امر قرار دیاہے۔دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد کو دوبارہ قائم کرکے حکومت سازی کیلئے جاری مذاکرات کے دوران بی جے پی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ محبوبہ مفتی کی جانب سے پیش کئے جارہے نئے مطالبات کو حکومت تشکیل پانے کے بعد ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔بی جے پی کا یہ موقف پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور بھاجپا کے مرکزی صدر امت شاہ کے درمیان نئی دلی میں ملاقات کے بعد سامنے آیا۔اس ملاقات میں دونوں پارٹیوں کے سربراہان نے ریاست جموں وکشمیر میں نئے سرے سے حکومت سازی کی طرف پہل کرنے کیلئے بات چیت کی۔بھاجپا کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے کہاکہ اعتماد سازی اقدامات کی طرف کسی طرح کی پیش قدمی کیلئے سب سے پہلے پی ڈی پی کو حکومت چلانے کیلئے اپنا لیڈر منتخب کرنا ہوگا تاکہ حکومت سازی کی راہ کھل سکے۔انہوں نے کہاکہ ’’کوئی دوسرا مطالبہ قابل قبول نہیں ہے۔لیکن کچھ چیزوں کو حکومت سازی کے بعد حل کیا جاسکتا ہے‘‘۔ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی کا رواں ہفتے وزیراعظم ہند نریندر مودی سے ملاقات طے تھی ،بعض رپوٹوں کے مطابق یہ میٹنگ آج ہی ہونے والی ہے،جوحکومت سازی کے حوالے سے پی ڈی پی۔بی جے پی کے درمیان جاری مذاکرات کا حصہ ہوگاتاہم بی جے پی کی جانب سے اپنا موقف سخت کرنے کے بعد اس میٹنگ پر بھی کھٹائی کے بادل چھا تے نظر آرہے ہیں جبکہ ریاست میں حکومت سازی کے حوالے سے بھی امکانات پر سوالیہ کھڑے ہوگئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ بی جے پی اور مرکزی حکومت اعتماد سازی پر کوئی وعدہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں دوسری طرف محبوبہ مفتی نے بھی اس ایشو پر اپنا موقف سخت کیا ہے۔ ادھر سینئرپی ڈی پی لیڈر مظفر حسین بیگ کے مطابق پی ڈی پی کے کوئی نئی شرط نہیں ہیں بلکہ جوکچھ بھی ایجنڈا آف الائنس میں درج ہے اسکی پی ڈی پی معیاد بندعمل آوری چاہتے ہیں‘‘۔پی ڈی پی اعتماد سازی کے جن اقدامات کی خواستگار ہے ،ا ن میں این ایچ پی سی کے زیر قبضہ دو پاور پروجیکٹوں کی واپسی ،ان مقامات سے فوجی انخلا جن کے بارے میں پہلے سے اتفاق ہوا ہے ،سرینگر اور جموں کو سمارٹ سٹی پروجیکٹ میں شامل کرنا اور ریاست کے سیلاب متاثرین کے حق میں ریلیف کی مقدار کو مزید بڑھانا ہے۔پی ڈی پی لیڈر کے مطابق یہ وہ ایشوز ہیں جن پر بی جے پی پہلے سے ہی متفق ہے ‘‘۔ پی ڈی پی لیڈرنے ایجنڈا آف الائنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ’’ اعتماد سازی کے اقدامات کا مطالبہ پی ڈی پی بنام بی جے پی مقابلہ نہیں بلکہ یہ وہ روڑ میپ ہے جسے ریاست میں امن واستحکام قائم کرنے کیلئے دونوں جانب سے متفقہ طور تسلیم کیا گیا تھا۔سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے پارٹی لیڈران کی مخالفت کے باوجود ایجنڈا آف الائنس کی بنیاد پر سرکار تشکیل دی لیکن ان کے انتقال کے بعد پارٹی نے یہ محسوس کیا کہ نئی دلی نے انکے ساتھ دھوکہ کیا اور سیلاب زدگان کی بازآبادکاری سمیت کئی امور پر وہ ایجنڈاآف الائنس پر کھرے نہیں اترے۔
اگر چہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھاجپا صدر امت شاہ سے ملاقات بھی کی تاہم سرکار کی تشکیل کے حوالے سے مثبت اشارے نہیں مل رہے ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے واضح کیا ہے کہ نئے شرائط کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل نا ممکن ہے ،ان کی پارٹی حکومت سازی کیلئے کوئی نئی شرط تسلیم نہیں کرے گی اور یہ بات پی ڈی پی صدر پر بھی واضح کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا صرف ان شرائط کو مانتی ہے ،جن پر مرحوم مفتی محمد سعید نے اتفاق کیا تھا۔نئی دلی میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران رام مادھو نے کہا کہ ریاست میں نئی شرائط کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل نا ممکن ہے۔صحافیوں نے جب نئی حکومت کی تشکیل کے تعلق سے ان سے پی ڈی پی صدر کی طرف سے پیش کی گئی نئی شرائط کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا’’ پہلی بات یہ ہے کہ ہم کوئی نئی شرط تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ جو کوئی بھی امیدیں یا شرائط ہیں ، وہ ممکنہ طور حکومت تشکیل دینے کے بعد پوری کی جاسکتی ہیں‘‘۔رام مادھو نے دوٹوک الفاظ میں کہا’’شرائط پر حکومت تشکیل دینا ممکن نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا صرف ان ہی شرائط کو تسلیم کرتی ہے جن پر مرحوم مفتی محمد سعید نے اتفاق کیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا’’تعطل برقرار ہے ، کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ، جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہمارا موقف واضح ہے کہ صرف وہی شرائط برقرار رہیں گی جو مرحوم وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے وقت تھیں، فرق صرف یہ ہے کہ مفتی صاحب ہمارے بیچ نہیں ہیں، اب یہ پی ڈی پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے پارٹی لیڈر کا انتخاب کرے‘‘۔محبوبہ مفتی کی امیت شاہ کے ساتھ ملاقات کے بارے میں رام مادھو نے کہا’’ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، ہم نے ان پر واضح کیا ہے کہ نئی حکومت پرانی شرائط کی بنیاد پر ہی تشکیل دی جائے گی‘‘۔انہوں نے کہا’’ریاستی حکومت مرکز سے مانگ کرنے کا حق رکھتی ہے لیکن حکومت شرائط پر نہیں بنائی جاسکتی‘‘۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ نئی حکومت کب بنے گی؟انہوں نے کہا’’میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ تعطل برقرار ہے‘‘۔
اس سے پہلے نئی پیش رفت کے تحت بھاجپا اعلیٰ کمان نے ریاستی بھاجپا قیادت کے کلیدی رہنما?ں کو اہم اجلاس کے لئے نئی دہلی طلب کیا تھا۔بی جے پی کے ریاستی صدر ست شرما،جنرل سیکریٹری اشوک کول، اراکین ِ پارلیمان جگل کشور شرما اور شمشیر منہاس نئی دہلی اور سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نئی کو دہلی طلب کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ کمان کے حکم پر یہ لیڈران ہونے والی اہم اجلاس میں شریک ہوںگے۔ یہ بھی باور کیا جاتا ہے کہ امت شاہ اور محبوبہ مفتی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے پس منظر میں اس اجلاس میں اہم معاملات پر غور وخوض کیا جائے گا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ریاستی قیادت کو مذکورہ ملاقات میں ہونے والی بات چیت اور مستقبل کے فیصلے کے متعلق آگاہ کر نے کے لئے اعتماد میں لیا جائیگا۔ بتایا جاتا ہے کہ امت شاہ اور محبوبہ مفتی کے درمیان ملاقات کے بعد اس اجلاس کی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ غور طلب ہے کہ ریاستی بھاجپا رہنما نیشنل ایگزیکٹو میٹنگ میں شرکت کے لئے نئی دہلی پہنچا معنی از خالی نہیں ہو سکتا ہے تاہم یہ بھی باور کیا جاتا ہے کہ بھاجپا کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو،جموں وکشمیر سے متعلق معاملات کے انچارج اویناش رائے کھنہ اور تنظیمی جنرل سیکریٹری رام لال ریاستی قیادت سے اس اجلاس میں حکومت سازی اور اس سے متعلقہ دیگر معاملات پر بات کریں گے۔ اس لحاظ سے ریاستی قیادت سے یہ ملاقات بھاجپا کی نیشنل ایگزیکٹو کے اجلاس کے حاشیہ پر منعقد ہوگی۔ واضح رہے یہ اس طرح پہلی بار ہوا ہے کہ ریاستی سطح کے لیڈران کو دہلی طلب کرنا سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد یہ پہلی بار ہوا۔