خبریں

پی ڈی پی سیاسی متبادل

پی ڈی پی سیاسی متبادل

پی ڈی پی سرپرست اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے پارٹی کیلئے واضح منڈیٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال کے دوران منعقد ہونے والے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات عوام کو ایک ہی سیاسی جماعت کی تانا شاہی سے چھٹکارا پانے کا نادر موقعہ فراہم کریں گے۔ ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کی تشکیل سے ریاست کے سیاسی افق پر ایک ایسا متبادل ابھرا ہے جو لوگوں کو تعمیر و ترقی، امن اور خوشحالی کی بحالی کیلئے قابل اعتماد پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ مفتی سعید نے کہا کہ ماضی میں ایک ہی سیاسی جماعت کی تانا شاہی تھی جس نے حقیر نجی مفادات کے لئے عوام کا کھل کر استحصال کیا لیکن اب لوگوں کو چوائس میسر ہے اور وہ نظریات نیز کار کردگی کی بنیاد پر اپنی نمائندہ جماعت کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ پی ڈی پی سرپرست نے کہا کہ لوگوں کے پاس ہر سیاسی جماعت کا رپورٹ کارڈ موجود ہے جسے دیکھ کر وہ ان پارٹیوں کی کار کردگی اور حصولیابیوں کا ازخود جائزہ لے سکتے ہیں۔ اب ووٹنگ پر جذباتی نعرے اور کھوکھلے دعوئے اثر انداز نہیں ہوں گے بلکہ زمینی سطح پر کئے گئے کام کو مدِ نظر رکھ کر ہی رائے دہندگان اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔ پی ڈی پی کے دور حکومت اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے کی گئی کارکردگی ایک کھلی کتاب کی مانند سب کے سامنے ہے۔ پی ڈی پی کا دور اقتدار انتہائی قلیل تھا لیکن اس کے باوجود پارٹی نے کورپشن، کنبہ پروری اور بدعنوانیوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیابلکہ لوگوں کو صاف شفاف اور جوابدہ انتظامیہ فراہم کر کے ایک نظریہ پیش کر دیا۔ اس کے برعکس موجودہ حکومت کی بد نظمی کورپشن خویش پروری اور سکینڈلوں کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ دونوں سرکاروں کا موازنہ کرنے کے بعد عنان حکومت سونپنے کے لئے صحیح انتخاب کریں۔ مفتی محمد سعید نے کہا کہ اگر پی ڈی پی کو واضح منڈیٹ دیا جاتا ہے تو ہر محاذ پر قابل ذکر تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ریاست کے طول و عرض میں بسنے والوں کے مسائل مشترکہ اور ایک جیسے ہیں، لوگ بنیادی سہولیات کے لئے ترس رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ بے روزگاری، بجلی، اقتصادی بدحالی، ترقیاتی اسکیموں کی عدم موجودگی، تعلیمی و طبی سہولیات کے فقدان، آمد و رفت کے ناقص ذرائع اور غربت وغیرہ کے قلع قمع کیلئے ایک مربوط پالیسی مرتب کی جائے بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقہ جات کے باشندوں کو بنیادی ضروریہ زندگی مہیا کروایا جانا انتہائی لازم ہے تاکہ وہ بھی اس جدید دور کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ان سہولیات سے استفادہ کر سکیں۔ مفتی سعید نے کہا کہ ہماری ریاست وسائل سے مالا مال ہے جن کا صحیح استعمال کر کے یہاں کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ہم سب کو متحد ہو کر ایک خوشحال اور پر امن جموں کشمیر کی تعمیر کیلئے آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے یاد دلایا کہ پی ڈی پی نے اپنے تین سالہ دور حکومت میں شفاف اور جوابد ہ انتظامیہ فراہم کر کے ایک مثال قائم کی تھی۔ ایشین ڈیولپمنٹ بنک جیسی بین الااقوامی مالیاتی کمپنیوں نے ریاست کے بنیادی ڈھانچہ بشمول سڑک، سیوریج اور پاور کی احیائے نو کیلئے بھاری بھر کم سرمایہ کاری کی تھی، اس وقت مرکز میں بر سراقتدار یو پی اے اور این ڈی اے حکومتوں نے جموں کشمیر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا تھا کیوں کہ ہر کوئی ریاستی سرکار کی صلاحیتوں اور کار کردگی سے متاثر تھا۔ ریاستی بجٹ کی کٹوتی، سالانہ پلان فنڈز میں تخفیف، خسارہ میں اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے مفتی سعید نے کہا کہ ریاستی معیشت ریورس گئیر میں چل رہی ہے۔ اسی انتظامی ڈھانچے کے ساتھ پی ڈی پی نے معیشت کو پٹری پر لاکر ریاست میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع کیا تھا لیکن موجودہ حکومت اسے موجودہ افراتفری کے لئے مورد الزام ٹھہرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے لیکن اربابان اقتدار کی عدم صلاحیت اور نا اہلی کی وجہ سے ریاست بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے پاس ایک وسیع نظریہ اور صلاحیت ہے جس کے ساتھ ریاست میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔