خبریں

پی ڈی پی کا 5نکاتی منشور جاری

پی ڈی پی سرپرست اور سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے کہا ہے کہ مجوزہ پارلیمانی چناؤ میں پارٹی کے کامیاب نمائندے جمہور ی نظام میں شرکت ،سیاسی تصفیہ ،جذباتی مفاہمت،اقصادی تعاون اورسماجی و تمدنی اشتراک کے لئے کام کریں گے۔ عوام سے بڑی تبدیلی کیلئے ووٹ مانگتے ہوئے مفتی نے پارٹی کا انتخابی منشور ’’پارلیمانی انتخابات،تبدیلی کیلئے ایجنڈا‘‘ جاری کیا۔ پی ڈی پی مرکز میں بننے والے کسی بھی سیاسی اتحاد کو مسئلہ کشمیر کے داخلی و خارجی پہلوؤں پر کام کرنے کے لئے قائل کرے گی۔ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار پر تنقید کرتے ہوئے مفتی نے کہا کہ محمد افضل گورو کو پھانسی دیکر نئی دلی نے کشمیریوں کے بھروسے کو توڑ دیا ہے اور اس نے یہ کام یہاں کی ریاستی سرکار کے مشورے کے بغیر نہیں کیا ہے بلکہ وہ بھی اس میں برابر کی شریک ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی حصول اقتدار کیلئے پارلیمانی انتخابات میں گٹھ جوڑ کرنے کے حق میں نہیں ہے بلکہ ان کی پارٹی ہندوستان کی پارلیمنٹ کو مسئلہ کشمیر اجاگر کر نے کے لئے ایک پلیٹ فارم بنانا چاہتی ہے جہاں اس اہم معاملے پر قومی سطح پر تبادلہ خیال ہوسکے۔ ’’ریاست کی سیاسی جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ ایوان میں عوام کی خواہشات و امنگوں، جذبہ عدم تحفظ اور دیگر مسائل کی ترجمانی کرنے اور اپنا نقطہ نظر صحیح طریقے سے سامنے رکھنے میں ناکام ہوئے جس سے عدم اعتماد کی ایک فضا قائم ہوئی‘‘۔ پچھلے 65سال کے دوران پارلیمنٹ میں کبھی بھی جموں کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدہ بات چیت نہیں ہوئی، مختلف وزرائے اعظم کی طرف سے کئے جانے والے اعلانات، خواہ وہ پی وی نرسمہا راؤ کا خود مختاری کے حوالے’’آسمان حد ہے‘‘یا اٹل بہاری واجپائی کا ’انسانیت کے دائرہ میں‘ مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی یقین دہانی ہو یا من موہن سنگھ کا سرحدوں کو غیر متعلق بنانے کی پیش کش، ان اعلانات کو زمینی سطح پر عملائے جانے کی ضرورت تھی، جب تک ان اعلانات کو پارلیمنٹ کی توثیق حاصل نہ ہو تب تک کوئی بھی پیش رفت ممکن نہیں۔ پی ڈی پی نے اعلیٰ ترین قیادت کو ان انتخابات میں اتارا ہے ، پارٹی صدر محبوبہ مفتی جنوبی کشمیر سے انتخابی میدان میں ہیں تو شمالی کشمیر سے معروف قانون دان مظفر حسین بیگ الیکشن لڑ رہے ہیں،وسطحی کشمیر سے سابق وزیر خزانہ طارق حمید قرہ جبکہ جموں کی دو نشستوں سے سینئر سیاستدان یشپال شرما اور ارشد ملک چناؤ لڑرہے ہیں۔ مفتی کا کہنا تھا کہ ہمارے ممبران پارلیمنٹ کی یہ ٹیم قومی سطح پر مسئلہ کے حل کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی اور اس کے لئے صرف ایوان میں ہی تقاریر پر تکیہ نہیں ہو گا بلکہ دیگر سیاسی چینل متحرک کر کے پانچ اہم نکات پر دھیان مرکوز کیا جائے گا،جس میں جمہوری نظام میں شرکت، سیاسی حل، جذباتی مفاہمت، اقتصادی تعاؤن اور سماجی و ثقافتی شراکت شامل ہیں۔ پارٹی منشور میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ان کے ممبران پارلیمنٹ جموں کشمیر کے بارے میں غور و خوض کرنے کے لئے پارلیمنٹ کاایک خصوصی اجلاس منعقد کرانے کی کوشش کریں گے، اس اجلاس میں پی ڈی پی کے اراکین ایوان میں جموں کشمیر کیلئے پالیسی مرتب کئے جانے پر زور دیں گے۔ جموں کشمیر ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے جو کہ ہندوستان کے سیکولر کردار کو اعتمادیت فراہم کرتی ہے۔ پی ڈی پی مرکز میں جموں کشمیر کے امور کے لئے ایک الگ وزارت کی تشکیل پر زور دے گی۔ پارلیمنٹ کو مرکزی وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والے شعبہ ’جموں کشمیر امور‘کو ترقیاب کر کے ایک الگ وزارت قائم کرنے کیلئے قائل کریں گے تاکہ یہ وزارت صرف ریاست سے متعلقہ سیکورٹی معاملات ہی نہیں بلکہ تعمیر و ترقی پر بھی توجہ دے‘‘۔ اس کے علاوہ پی ڈی پی متعدد قومی پالیسیوں میں ترمیم پر زور دے گی تا کہ انہیں جموں کشمیر کے لئے فائدہ مند بنایا جا سکے۔ ان میں نیشنل ہائیڈرو پالیسی2008، MSME ڈیولپمنٹ ایکٹ، مائیکرو فائنانس (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) بل2012اور پرکیورمنٹ پریفرنس پالیسی ایکٹ وغیرہ شامل ہیں۔