خبریں

پی ڈی پی ہندوپاک تعلقات کو بہتر بنانے کے حق میں

پی ڈی پی ہندوپاک تعلقات کو بہتر بنانے کے حق میں
پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید نے کانگریس اور نیشنل کانفرنس پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ موجودہ سرکار ہر محاذ پر ناکام ہو گئی ہے اور لوگوں کو اس دور میں رشوت ستانی، پسماندگی اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑا۔ اننت ناگ کے سری گفواڑہ،ولرہامہ اور پہلگام علاقوں میں اننت ناگ حلقہ کی پارٹی امیدوار محبوبہ مفتی کے حق میں روڈ شوز کے دوران مفتی سعید نے ان باتوں کا اظہار کیا۔ اس موقعہ پر انکے ہمراہ پارٹی کے سینئر لیڈر و ایم ،ایل،اے پہلگام رفیع احمد میر بھی تھی۔ لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد سعید نے کہا کہ انکی پارٹی کے پاس اس بار پارلیمانی انتخابات کیلئے ایسا ایجنڈا ہے جس میں عام کشمیری کے مسائل کا حل موجود ہی۔مفتی محمد سعید نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کشمیر کے زمینی حالات اور عوام کے احساسات کے حوالہ سے غلط بیانی کر کے دنیا کو اندھیرے میں رکھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہند وپاک کے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور اسکے لئے کشمیر کی عوام بحیثیت پل کام کرنا چاہتے ہیں اور انکی یہ خواہش پوری ہوگی اگر پی ڈی پی اقتدار میں آتی ہی۔ مفتی محمد سعید نے کہا ہے کہ حکمران جماعت ریاستی عوام اور ملک کے درمیان بد اعتمادی پیدا کرنے کے لئے ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں استحکام اور امن کے قیام کے لئے ریاست اور بیرون ریاست سنجیدہ کوششیں کئے جانے کی اشد ضرورت ہے اور پی ڈی پی پارلیمنٹ میں جا کر قومی سطح پر مختلف مکاتیب فکر کو اعتماد میں لے کر مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے عام اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ پی ڈی پی پارلیمنٹ میں جا کر صرف کشمیریوں کے جذبات کی ترجمانی ہی نہیں کرے گی بلکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے ایجنڈہ کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے کے لئے بھی پر عزم ہے۔ اس کے لئے پارٹی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مختلف مکاتیب فکر کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر ے گی ، جو بدقسمتی سے نیشنل کانفرنس کبھی نہیں کر پائی جس کی وجہ سے ہم پچھلے 65بر س سے مختلف مسائل میں سلگ رہے ہیں۔پہلگام میں مفتی محمد سعید نے لوگوں سے خطاب کے دوران کہا کہ سیاحتی شعبے کو فروغ دینا انکی اولین ترجیحات میں تھا۔ پہلگام میں اپنی نوعیت کی پہلی اموزمنٹ پارک انہوں نے قائم کی لیکن افسوس جتایا کہ اس پارک کوبھی سیاسی رسہ کشی کی بناء پر بند کر دیا گیا۔ عمر عبداللہ کا یہ کہنا کہ موجودہ الیکشن ان کی کارکردگی پر ریفرنڈم نہیں ہیں، انہیں حکومت کی ناکامیوں سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا ، یوپی اے کے ریاستی لیڈر ہونے کے ناطے انہیں تمام ناکامیوں کی ذمہ دار ی قبول کرنا چاہئے۔ مفتی نے کہا کہ ریاست میں بدلاؤ کا ماحول بنا ہوا ہے اور اس وقت کانگریس نیشنل کانفرنس کے متبادل کے طور پر پی ڈی پی دستیاب ہے۔ لوگوں کو اب یہ بات سمجھ آچکی ہے کہ مخلوط حکومت نے پچھلے ساڑھے پانچ سال کے دوران لوگوں کو کوئی راحت پہنچانے کے بجائے ان کے مسائل میں اضافہ ہی کیا ہے۔ ادھر اننت ناگ پارلیمانی نشست کی پارٹی امیدوار محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ اس بار نیشنل کانفرنس نریندر مودی کو مدعا بنا کر یہاں کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ این سی نے اس وقت NDAکا ساتھ دیا ہے جب یہ پارٹی مرکز میں اسکا حصہ تھی۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے اننت ناگ کے کوکرناگ علاقے میں پارٹی روڈ شوز کے دوران کیا۔ لوگوں سے خطاب کے دوران محبوبہ مفتی نے کہا کہ محض اپنی کرسی کی خاطر اس بار ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کانگریس کا ساتھ دے رہے ہیں اور مودی کے خلاف جانے کا ڈرامہ رچا رہے ہیں۔