سرورق مضمون

چنائو کے وقت ووٹروں کو لبھانے کا شاخسانہ

چنائو کے وقت ووٹروں کو لبھانے کا شاخسانہ

ڈیسک رپورٹ
اس بات میں شکل کی گنجائش ہی نہیں کہ جب جب الیکشن ہونے والا ہوتا ہے تب تب سیاسی پارٹیاں اپنے لئے اقتدار حاصل کرنے کے لئے ایسے تدابیر پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں کہ ان کے حق میں ووٹوں کی بھاری تعداد حاصل ہوکرا قتدار کی کرسی آسانی کے ساتھ حاصل ہو، لیکن حال ہی میں ہوئے پارلیمانی انتخابات کو مد نظر رکھ کر لگ رہا ہے کہ عوام کو اب پرکھنے کی صلاحیت ہیں اور وہ ہر اُس سیاسی پارٹی کو اپنے ووٹ سے مسترد کر سکتے ہیں جن کی ساکھ عوام میں نہیں ہے یا جو عوام کی بہبود کے لئے کچھ کرنے میں یا تو ناکام ہوتی ہے یا عوام کی بہبود کیلئے کام کرنے کے بارے میں سوچتا تک نہیں البتہ الیکشن کے وقت بلا جھجک عوام کے پاس ووٹ مانگنے جاتے ہیں اور آئندہ کامیاب ہونے کی شرط پر اُنہیں پھر سبز باغ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہی مثال گذشتہ الیکشنوں میں اکثر دیکھنے کو ملا۔ عام تو عام خاص سیاست دانوں حتیٰ کہ ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ایسے حربے آزمائے اور عوام کو ایک طرح سے بے وقوف بنانے کی کوشش کی۔ آج کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی گذشتہ اسمبلی الیکشن میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اُن کی پارٹی نیشنل کانفرنس اقتدار میں آئی تو وہ ریاست کے ہر گھر کے ایک فرد کو سرکاری نوکری فراہم کرے گا۔ پھر نیشنل کانفرنس اقتدار میں بھی آئی اورعمر عبداللہ وزیراعلیٰ بھی بن گیا۔ جب عمر عبداللہ کو وزیراعلیٰ بننے کے بعد اپنے وعدے یاد دلائے گئے تو اُنہیں یہ کہنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوئی کہ میرے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ ہر کسی کو سرکاری نوکری فراہم کروں۔یہی وعدے شاید حال ہی میں ہوئے لوک سبھا چنائو میں عوام کو یاد آئے اور اسی کا فائدہ پوزیشن یعنی پی ڈی پی اور بی جے پی کو ملا۔ اگر چہ بی جے پی آج کل ریاست میں کچھ زیادہ ہی تگ دو میں ہے۔ بی جے پی کی کوشش ہے کہ ان کی جماعت اسمبلی الیکشن کے دوران اکثریت کریںتاکہ ریاست میں کم از کم حکومت کے ساجھے دار بن جائے۔ اس سلسلے میں بی جے پی کے مقامی لیڈران کے علاوہ مرکزی سطح کے اعلیٰ راہنمااس کوشش میں ہے کہ وہ مقامی سطح پر کئی لیڈروں کو اپنے پلڑے میں کر کے ان کی خدمات حاصل کر کے بی جے پی کو ریاست میں مضبوط کریں۔ ایک طرف بی جے پی لیڈران کی محنت اور دوسری طرف حال ہی میں وادی سے پارلیمانی تینوںنشستوں پر کامیابی پانے والی پارٹی پی ڈی پی بھی اس طاق میں ہے کہ وہ بھی اپنے ورکروں کو اور زیادہ فعال بنا رہا ہے ان کا بھی یہی سوچ ہے کہ ریاست سے اسمبلی الیکشن میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کر کے اقتدار کے لئے راہ ہموار ہو ۔پی ڈی پی کی ساکھ اگر چہ کچھ حد تک دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں بہتر نظر آرہی ہے تاہم گذشتہ ہفتے کانگریس لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے بھی اس بات کا اظہار کیا ہے کہ کانگریس ریاست میں ہر حال میں اگلی سرکار کا حصہ ہو گی۔ اس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ کانگریس نے شاید من بنا لیا ہے کہ کانگریس الیکشن کے بعد پی ڈی پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے حکومت بنائے گی۔ابھی اگرچہ قبل از وقت کچھ کہنا درست نہیں ہے تاہم عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ ریاست میں پرانی اور طاقتور جماعت نیشنل کانفرنس کی ساکھ دوسری جماعتوں کے مقابلے میں بہتر نہیں ہے۔اس بلبوتے پر اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں نیشنل کانفرنس مضبوط پارٹی کے طور پر اُبھرنے میں ناکام ہو سکتی ہے ۔ کانگریس کا بھی کچھ زیادہ اثر نہیں ہے تاہم پی ڈی پی کی کچھ حد تک بہتری ضرور ہے مگر اب جبکہ بی جے پی بھی ریاست میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش میں ہے اور عندیہ ہے کہ بی جے پی بھی اپنی پوزیشن بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی ۔ بی جے پی لگاتار اس کوشش میں ہے کہ کم از کم ان کی پارٹی بھی اگلی حکومت کا حصہ بنے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی پی کے ساتھ بی جے پی حکومت کا حصہ بنے یا پی ڈی پی کے ساتھ کانگریس حکومت کا حصہ بنے ۔ عندیہ ہے کہ پی ڈی پی حکومت کا حصہ ہے۔
ایک طرف پی ڈی پی دعویٰ کر رہی ہے کہ اگلی حکومت پی ڈی پی کی ہی ہوگی دوسری طرف نیشنل کانفرنس بھی دعویٰ کر رہی ہے اور تو اور کانگریس بھی سرکار کا حصہ ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ مگر نتائج عوام کو دینا ہے اور عوام ہی پرکھنے نے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی مثال لوک سبھا چنائو میں دیکھنے کو ملا۔ اگرچہ ووٹوں کی شرح کم رہی تاہم جتنے بھی ووٹ پڑے ان میں وادی کشمیر میں ایک مخصوص پارٹی کو زیادہ ووٹ ڈالے گئے ۔اس کے برعکس عوام نے برسراقتدار جماعتوں یعنی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس سے ان دونوں پارٹیوں کو شاید یہ سمجھ آیا ہوگا کہ ہر بار عوام کو سبز باغ دکھانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ رہی بات ان پارٹیوں کی جن دو پارٹیوں نے ریاست میں میدان مار کر تین تین نشستیں حاصل کی ہے اگر چہ ان پارٹیوںنے عوام کو محض دھوکہ دیہی سے کام لیا تووہ بھی تیار رہیں کہ ان کا بھی آگے یہی حشر ہونے والا ہے۔ اس لئے ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عوام کی بہبود کے لئے سوچیں تاکہ آنے والے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ آئندہ بھی اقتدار میں آنے کی اُمید رہیں۔