نقطہ نظر

چھاج اور چھلنی

کلدیپ نائر
غیر ملکی حکمران ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی حکومت اپنی رعایا سے بہت شفقت کرتی ہے اور ان کی دامِ درمِ سخنِ مدد کرتی ہے۔ برطانیہ بھی کوئی استثنیٰ نہیں۔ وہ بھی اپنی حکمرانی کے بارے میں اسی قسم کی لاف زنی کرتا ہے۔ لیکن اس کے مظالم کا شمار کیا جائے تو رونگھٹے کھڑے کرنے والا ریکارڈ نظر آئے گا۔ برطانیہ نے ڈیڑھ سو سال تک برصغیر پر حکومت کی لیکن ان کو بدنام نہ کرنے کا سہرا بھارتی شہریوں کے سرباندھا جائے گا جنہوں نے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر دولت مشترکہ میں شمولیت اختیار کر لی اور ملکہ برطانیہ کو یک جہتی کی علامت کے طور پر تسلیم کر لیا لیکن اس کے باوجود برطانیہ نے بھارت کی وسیع القلبی کے بارے میں آج تک نہ تو کوئی اچھی بات کہی ہے اور نہ ہی لکھی ہے بلکہ وہ آج بھی برصغیر کی تحریک آزادی اور اس میں حصہ لینے والوں کی توہین کرتے ہیں۔ ایک اور زہر بجھا نیا تیر ایک برطانوی تاریخ دان نے بھگت سنگھ اور چندر شیکھر آزاد کو 146146دہشت گرد145145 قرار دیکر چلایا ہے۔ دونوں کو غیر ملکی حکمرانی کے خلاف بغاوت کے الزام میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ شاید برطانیہ والوں کو دہشتگرد اور انقلابی کے فرق کا علم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خود برطانیہ والے دہشت گردوں کی کیٹیگری میں شامل ہیں کیونکہ انھوں نے ان ہزاروں لوگوں کو قتل کر دیا جو 146146سیلف رول145145 کا مطالبہ کر رہے تھے جو کہ جمہوریت کا بنیادی جزو ہے جس کا برطانیہ والے بڑا چرچا کرتے ہیں۔
یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان نے اس گھر کو یاد گار میں تبدیل کرنے کے لیے رقم مختص کر دی ہے جس میں بھگت سنگھ کا بچپن گزرا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تقسیم سے پہلے برطانیہ کے ہاتھوں مصائب سہنے والے تمام لوگوں کو پاکستان بنگلہ دیش اور انڈیا یعنی ان تینوں ممالک میں ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ انھیں اپنی تمام قربانیوں سے اپنے اپنے عوام کو آگاہ کرنا چاہیے جو انھیں برطانوی حکومت کے خلاف احتجاج پر دینا پڑیں۔ اس طرح تینوں ملکوں کو یہ احساس ہو جائے گا کہ ان کی تاریخ اور ورثہ یکساں ہے اور برطانوی حکمرانوں کے ہاتھوں ان پر ہونے والا ظلم و تشدد بھی مشترکہ ہے۔ برطانوی بربریت کی ایک بھیانک مثال جلیانوالہ باغ کا المیہ (تیرہ اپریل 1919ء ) کی ہے جو کہ قوم پرستوں کے آزادی کی منزل کی طرف سفر کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ بریگیڈئیر جنرل رگینلڈ ڈائر، جس کو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر مائیکل او ڈوائیر نے امرتسر کا کنٹرول دیدیا تھا جہاں 13 اپریل کو بیساکھی کا میلہ لگنا تھا۔ اس موقع رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا پروگرام بھی بنایا گیا تھا۔ جس کا انتقام لینے کے لیے جنرل ڈائر نے مجمعے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی۔ رولٹ ایکٹ حکمرانوں کو کسی بھی فرد پر مقدمہ چلائے بغیر اس کی گرفتاری کا اختیار دیتا تھا۔ اس کے خلاف احتجاج کے لیے بیس ہزار کے لگ بھگ لوگ جلیانولہ باغ میں جمع ہو گئے۔
یہ دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) سے محض چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ ڈائر نے مسلح پولیس کو اس انداز سے تعینات کیا جیسے جانوروں کے شکار کے لیے صف بندی کی جاتی ہے۔ انھوں نے باغ کا اکلوتا دروازہ بند کر دیا تا کہ کوئی باہر نہ نکل سکے۔ اور اس نہتے مجمع پر مشین گن سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ عورتوں اور بچوں کو بھی نہ چھوڑا گیا۔ تاآنکہ پولیس کا سارا گولہ بارود ختم نہ ہو گیا۔ گولیوں کے ایک ہزار چھ سو پچاس راؤنڈ فائر کیے گئے۔ بے شمار لوگوں نے باغ میں واقع کنوئیں میں چھلانگیں لگا دیں۔ اس وحشیانہ کارروائی میں 400 سے زائد لوگ موقع پر ہلاک ہوئے جب کہ 1500 کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ اس واقعے سے لندن کی حکومت بھی دہشت زدہ ہو گئی۔ انھوں نے ڈائر کو فوری طور پر واپس بلا کر اسے تفتیشی کمیٹی کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا، جس کا کہنا تھا کہ اس نے تو فقط اپنا فرض منصبی ادا کیا تھا۔ اسے کوئی پشیمانی نہیں تھی، اور نہ ہی کوئی قلق تھا۔ برطانوی سیاسی حلقوں میں بعض نے تو ڈائر کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے پنجاب کو انارکی سے بچانے والے کا درجہ دیدیا۔ اس کے چند سال بعد برطانوی حکمرانوں نے یو پی اور بہار کی سرحد پر واقع بالیا نامی قصبے میں سیکڑوں افراد کو پھانسیاں دیدیں کیونکہ انھوں نے 9اگست 1942ء کو انگریزوں سے یوم آزادی منانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کی لاشیں کئی دنوں تک درختوں پر لٹکتی رہیں تا کہ آزادی کے لیے لڑنے والوں کو سبق مل سکے۔ مگر انقلاب کے لیے جدوجہد کرنیوالوں نے جدوجہد ترک نہ کی۔ اور وہ بھگت سنگھ کی پھانسی کی یاد مناتے رہے۔
برطانوی حکمران مہاتما گاندھی کو 146146فسادی145145 کہتے تھے لہٰذا انھوں نے آزادی کی جدوجہد کو کچلنے کی کارروائیاں جاری رکھیں۔ انقلابی نوجوان اپنے آپ کو شمع آزادی کے پروانوں سے تشبیہہ دیتے تھے جو کہ شمع کی روشنی پر جان نثار کر دیتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو وہ ہزاروں لوگ جن کو جیلوں میں ٹھوس دیا گیا یا جنہوں نے اپنی زندگیاں قربان کر دیں ان کی قربانیوں سے دیگر انقلابی تحریک حاصل کرتے تھے۔ بھگت سنگھ ایک بہت اچھا لکھنے والا بھی تھا۔ اس نے اپنی تحریروں میں وضاحت کی ہے کہ ہلاک ہونے سے وہ لوگ کیا مراد لیتے ہیں۔ ہم انسانی زندگی کو بہت مقدس خیال کرتے ہیں۔ لیکن ہم انسانیت کی خدمت کے لیے ہی اپنی جانیں قربان کر دیں گے۔ ہم کسی سے کوئی بدلہ نہیں لینا چاہتے اور نہ ہی کوئی انقلابی کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ ان ہلاکتوں کی ایک سیاسی اہمیت ہے جو کہ آزادی کی جدوجہد جاری رکھنے میں مہمیز کا کام کرتی ہیں۔ اور آزادی کے متوالے جان کے نذرانے پیش کرنے کا پختہ ارادہ بنا لیتے ہیں۔ مہاتما گاندھی جو انقلابیوں کے پْر تشدد طریقۂ کار کے خلاف تھے۔ اس کے باوجود وہ جان قربان کرنیوالوں کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی پھانسی پانے کے بعد شہیدوں کا درجہ اختیار کر گئے۔ ان کی موت بہت سے لوگوں کے لیے ذاتی نقصان کا باعث تھی۔ میں بھی ان کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ لیکن اس کے باوجود میں اپنے نوجوانوں کو انتباہ کرتا ہوں کہ وہ ان کا راستہ اختیار نہ کریں۔ ہمیں اپنی قوت کا درست استعمال کرنا چاہیے اور قربانی کے جذبے کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیے۔ اس ملک کو خون آشامی کے ذریعے آزادی نہیں ملے گی۔
مہاتما گاندھی تشدد کی ہر شکل کے خلاف تھے۔ 1920ء کے زمانے میں جب عدم تعاون کی تحریک شروع ہوئی اور 30,000 سے زیادہ لوگوں کو جیل میں ڈال دیا گیا تو اس کے ردعمل میں جو احتجاج شروع ہوا اس سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے برطانیہ کو شکست ہونے والی ہے لیکن پھر یہ احتجاج ختم کر دیا گیا۔ طلبہ نے اپنی پڑھائی چھوڑ دی۔ وکلاء نے پریکٹس بند کر دی۔ ڈاکٹروں نے اپنے کلینک چھوڑ دیے اور سرکاری ملازمین نے ملازمت سے منہ موڑ لیا۔ اور سب مہاتما گاندھی کی پیروی کرنے لگے۔ غیر ملکی اشیاء کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ لنکا شائر اور برمنگھم سے درآمد ہونیوالے کپڑے کے ڈھیروں کو آگے لگا دی گئی۔ گاندھی جی چاہتے تھے کہ برطانوی حکمران برصغیر کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی کا اعلان کریں نیز عدم تشدد کی بھی یقین دہانی کروائی جائے۔ یقیناً عدم تعاون کی تحریک عدم تشدد کی پالیسی کا بہت بڑا مظہر تھی جو برصغیر کے باشندوں نے برطانوی حکومت کے خلاف شروع کی لیکن گاندھی جی نے اچانک ہی یہ تحریک ختم کر دی کیونکہ یو پی میں گورکھ پور کے قریب چورا چوری نامی گاوں کے دیہاتیوں نے تشدد کی کارروائیاں شروع کر دی تھیں جنھیں مہاتما گاندھی جائز قرار نہیں دے سکتے تھے۔ بارہ فروری انیس سو اکیس کو انھوں نے ایک جلوس نکالا جو ایک مقامی پولیس اسٹیشن کے سامنے سے گزرا۔ یہ لوگ برطانوی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس موقع پر پولیس نے جلوس کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ گاندھی جی نے اسی موقع پر یہ تحریک ختم کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم انھوں نے پولیس کی مذمت میں ایک لفظ بھی نہ کہا۔
برطانیہ کو اب ہمارے زخموں پر نمک نہیں چھڑکنا چاہیے اور بھگت سنگھ اور چندر شیکھر آزاد جیسے ہمارے سورماؤں کی تضحیک نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ہماری تحریک آزادی کا ورثہ ہیں145 انگریزوں کے لیے یہ ایک کارآمد نصیحت ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)