نقطہ نظر

ڈی ڈی سی انتخابات ،، نتائج غیر متوقع تو نہیں ؟

ڈی ڈی سی انتخابات ،، نتائج غیر متوقع تو نہیں ؟

ہماری تاریخ کا اس نوعیت کا پہلا انتخاب اپنے آخری مرحلے سے گذر چکا ہے اور نتائج کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے جو اگر غیر متوقع نہیں لیکن کئی لحاظ سے حیران کن ضرور ہیں ، بھاجپا نے ۷۶ سیٹوں پر قبضہ جمالیا ہے ، ان میں صرف تین سیٹیں وادی سے ہیں اور باقی سبھی جموں ڈویژن سے لی ہیںجہاں دس ضلعوں میں بی جے پی نے پانچ ضلعوں میں سویپ کی ہے اور یہ سب ہندو اکثر یتی والے اضلاع اودھم پور ،کٹھوعہ، سانبہ ،جموں ،ڈوڈہ،ہیں ، ریاسی میں سات سیٹیں انہیں کمانڈ کے مقام پر لاسکتی ہیں ، اس طرح پارٹی لحاظ سے بی جے پی بڑی سنگل پارٹی بن کے ابھری ہے ، لیکن انتخاب کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا احساس کہیں ضرور ہوتا ہے کہ بی جے پی نے جموں ڈویژن میں بھی اس حد تک کامیابی حاصل نہیں کی ہے جس کا انہیں دعویٰ یا توقع تھی ، اسمبلی اور پارلیمنٹ انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے بی جے پی اس تناسب سے کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے ، دوئم یہ بات اہم ہے کہ بی جے پی نے اس الیکشن کو ریفرنڈم سے تعبیر کیا تھا اور بار بار اس کے تمام کلیدی عہدے داروں نے واشگاف اعلان کیا تھاکہ ریاست میں ۵اگست کی تبدیلیوں کا جموں و کشمیر میں خیر مقدم ہوا ہے اور عوام کی ایک بڑی اکثریت اس فیصلے سے نہ صرف خوش ہے بلکہ بی جے پی کے ساتھ اتفاق کرتی ہے اور وہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن اب ایک گراںبار بوجھ اور تعمیر و ترقی کے راستے میں ایک پہاڑ تھا جس سے ڈھا دیا گیا ہے ،، اس نریٹو کو سامنے رکھا جائے تو جموں کے صرف ہندو اکثریتی علاقوں میں ہی وہ جیت درج کرسکی ہے ۔ دوسری طرف الائنس جو سات پارٹیوں کے اتحاد پر مشتمل ہے ، نے کشمیر کے چھ اضلاع پر اکثریت حاصل کی ہے ، ۵اگست کی اپنی نظر بندی اور قید سے رہائی کے بعد ان تمام مینسٹریم پارٹیوں نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان بھی کیا تھا اور واضح بھی کیا تھا کہ ان کے لئے خصوصی پوزیشن کی بحالی ہی حتمی اور آخری منزل ہے اور انتخابات کوئی معنی نہیں رکھتے ، لیکن یہ سمجھنا آسان ہی ہے کہ الائنس کی چھتر چھایا میں ان ڈی ڈی سی ،بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات میں اترنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا ،، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی ہوگی کہ بی جے پی کے لئے کھلا میدان نا چھوڑا جائے، دوسری بات یہ کہ اب اس لیول پر کم سے انتظامی امورات پر دسترس حاصل کی جائے اور تیسری اہم بات یہ کہ اپنی سیاسی دکانو ں کو مکمل تالہ بند نہ ہونے دیا جائے جن کے شٹر اگر پورے نہیں تو آدھے پہلے ہی بی جے پی نے گرادئے ہیں ، انتخابات کے فیصلے نے کم سے ان کشمیر نشین اور پرانی پارٹیوں کو پھر ایک بار زندہ رہنے کے لئے آکسیجن فراہم کی ہے ، سرینگر اور پونچھ میں آزاد امیدواروں کی بہار چھا گئی ہے جس کا تجزیہ دلچسپ ہوگا ، ،ووٹوں کے لحاظ سے بی جے پی نے میدان مارلیا ہے ،اور دوسو اسی سیٹوں پر ووٹنگ کے لحاظ سے ۴لاکھ ۸۷ ہزار ووٹ حاصل کئے ہیں جب کہ الا ئنس نے کل ملاکر چار لاکھ ۷۷ہزار وؤٹ لئے ہیں ،، اب نتائج کے بعد حسب معمول اور حسب روائت جوڈ توڈ اور خریدو فروخت کا بازار گرم ہوا ، اور کئی ایسے مقامات اور علاقے ہیں جہاں کلیدی عہدوںکے لئے یہ جوڑ توڑ حتمی اور اہم رول نبھانے کی پوزیشن میں ہے ، لیکن یہ باتیں جمہورت کے ساتھ لازم و ملزوم تصور کی جاتی ہیں ، اس لئے اخلاق ، اقدار اور عوام کے ووٹ کا احترام اب کوئی معنی نہیں رکھتا ، این سی نے ۶۷ ۔ پی ڈی پی نے ۲۷، کانگریس نے ۲۶ اور اپنی پارٹی نے بھی ۱۲ نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے انتخا بی میدان میں بلے بازی شروع کی ، ’’اپنی پارٹی ‘‘ کے لئے شاید اس سے بہتر شروعات سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ اکثر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش ہوئی ہے کہ یہ پارٹی بی جے پی کی ہی بی ٹیم ہے۔ اگر چہ اس بار این سی اور پی ڈی پی نے کوئی انتخابی مہم نہیں چلائی جس کے لئے انہوں نے بی جے پی سرکار پر الزام عائد کیا کہ ا ن کے باہر آنے پر پابندیاں لگائی گئی ، انہیں انتخابی ریلیاں کرنے سے روکا گیا ، جس کا سرکار نے بار بار انکار کیا لیکن اس کے باوجود جن لوگوں نے ووٹ میں حصہ لیا انہوں نے ازخود ہی اپنی سوچ و فکر کے مطابق پولنگ میں حصہ لیا ، کہا جاسکتا ہے کہ ستر برس کے دوران کئی بار کی گورنس میں این سی کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود انہیں ووٹ کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں لگنی چاہئے ، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ ، ۵اگست کے عمل سے ناراض ہیں ، ۔عوام خفا ہیں اور اس عمل کے پیچھے بی جے پی کے ساتھ ساتھ ان تمام مینسٹریم پارٹیوں کو بھی حصہ دار اور ذمہ دار سمجھتے ہیں ،لیکن پھر بھی ان کے حق میں ووٹ کرکے بالکل یہ بات واضح اور عیاں کی ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا ،اور آپشن موجود نہ ہونا ایک المیہ سے کسی طرح کم نہیں ، ان مینسٹریم پارٹیوں کے بارے میں ہمیں کوئی حسن ظن نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ ہر حال میں ہر حالت میں اقتدار کے سوا اور کوئی منزل سامنے نہیں رکھتیں ۔ جو ان کا ماضی ہے اور ماضی ہی حال اور مستقبل کا آئینہ ہوتا ہے ،، بہر حال وادی میں تین نشستوں پر بی جے پی کی کامیابی ، اس پارٹی کے لئے طمانیت اور راحت کا ساماں ضرور بنتی ہیں ، اور اگر بی جے پی اس سے بہت بڑی کامیابی تصور کرتی ہے تو اس کی اپنی وجوہات ہیں ۔ ایک یہ کہ بی جی پے نے کشمیر کی زمین میں زعفرانی پھول اگائے ہیں ، اور یاد رہے کہ یہ زمین کبھی کانگریس کے لئے بھی بنجر تھی ، جن سنگھ ‘‘کا نام لے کر کبھی مائیں اپنے بچوں کو ڈرایا کرتیں تھیں اور اب کی بی جے پی کا اس زمین سے کسی پودے کا پھوٹنا تصورات سے ماورا تھا اور اب حالات یہ کہ نا صرف اس پارٹی نے کشمیری افراد کے بل بوتے پر ریلیاں منعقد کیں بلکہ تین سیٹوں پر قبضہ بھی کیا اور یہ سب جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو کالعدم کرنے کے بعد ، آگے مستقبل اپنے دامن میں کیا چھپائے بیٹھا ہے ، اس کا صرف اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے ،۔ اور نوجوانوں کی ذہنی روَ کس انداز میں بہہ رہی ہے تفکر کی متقاضی ہے ۔۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان علاقوں کے لوگوں نے انہیں ووٹ دیا ہے کیونکہ کسی طرح کی کوئی دھاندلی یا شکایت میری نظروں سے کسی اخبار میں نہیں گذری ،، ووٹ کرنے والے بڑے بڑے قومی مقاصد سے نا آشنا ہی سہی لیکن ، بندوں کو گننے کے عمل میں ان کا پلڑا بھاری ہوا ہے ، اور اگر انہیں روکنا ہی مقصود رہا ہوتا تو عوام ان لوگوں ہی کی طرح ایک دوسرے نریٹو کے ساتھ وؤٹ دینے گھروں سے باہر نکل آتے ،،شاید اس بات کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ۵اگست کے بعد شاید عوام اس صدمے سے باہر نہیں آئے ہیں اور ابھی تک کسی بھی منطقی اور بہتر نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں ، یہ نفسیاتی اور ذہنی دباؤ بی جے پی کے بلند بانگ دعوؤں کی نہ صرف نفی کرتا ہے بلکہ ان کے تعمیر و ترقی کے نریٹو سے متصادم ہے ، کیونکہ ایک ان پڑھ اور گنوار آدمی بھی اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ ہماری خصوصی پوزیشن کا تعمیر و ترقی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ، بلکہ تعمیر و ترقی کی راہوں کو مسدود کرنے کے لئے صرف کرپشن اور صرف کرپشن ہی کافی اور واحد وجہ ہے کیونکہ کرپٹ سما ج میں کوئی بھی ترقیاتی، تعمیراتی سکیم درست لائنوں پر نہ بنتی ہے اور نہ صحیح لائنوں پر سفر کرتی ہے ۔دوسری وجہ یہ کہ ایک طویل عرصے تک’’دکھانا کچھ ۔ عمل کچھ اور‘‘ بھی ایک بہت بڑی ملی کرپشن رہی ہے جو ان پارٹیوں نے اپنے پورے ماضی میں روا رکھی ، جس کی وجہ سے یہ سرکاریں اس لحاظ سے بھی محاسبوں سے آزاد رہی ہیں، جس کی وجہ سے بے شمار فنڈز اور کثیر رقومات کوئی معنی نہیں رکھتے دوسرا جموں ڈویژن کے نتائج کسی بھی لحاظ سے حیران کن یا تعجب خیز نہیں ، یہاں کی مسلم اکژیتی آبادی والے اضلاع نے بھی این سی اور پی ڈی پی کے حق میں فیصلہ دے کران خطوط کی نشاندہی کی ہے جس پر جموں کے کئی اضلاع میں اکثریتی آبادی نے ووٹ کیا ہے ، ظاہر ہے کہ عوام نے اس پار اور اُس پار ،دونوں نے ترقی ،تعمیر، اور روز گار کے مسائل سے بہت حد تک صرف نظر کرکے آئیڈالوجی کو سامنے رکھ کر ان انتخابات میں حصہ لیا ہے، اس کے باوجود وؤٹ دینے کے عمل کو ایک بڑے حصے نے کسی بھی بڑے مسلے کا حصہ سمجھ لینے کے بجائے بنیادی ضرویات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان انتخابات میں حصہ لیا ہے ، وادی میں الائنس، جس میں سبھی مینسٹریم پارٹیاں اکامو ڈیٹ ہیں ، اور جس نریٹو اور بیانیہ کے پس منظر میں یہ انتخابات انہوں نے لڑا ہے۔ عوام نے اس نے اس اتحاد کو آخری اوپشن کے طور پر دیکھا ہے ،،اس کے پسِ منظر میں ۔میرے ذہن کے دریچوں پر بار بار یہ چھوٹی سی کہانی دستک دیتی رہی ہے، کہتے ہیں کہیں کسی جگہ ایک ہی مارکیٹ میں ساتھ ساتھ دودکاندار اپنے اپنے بنائے ہوئے برانڈ لفافوں میں چرس گانجا بیچا کرتے تھے ،دونوں کا سپلائر یعنی بیوپاری ایک ہی تھا اور مال میں بھی کوئی فرق نہیں تھا ، لیکن ایک دکاندار کا برانڈ لفافہ بڑا ہی دیدہ زیب اور خوشنما تھا اس لئے گاہک اسی سے اپنی ضرورت کا مال خریدا کرتے تھے جس کی وجہ سے دوسرا د کاندا ر مایوس بھی تھا اور کڑتا بھی تھا ،، آخر ایک روز اس کے سپلائر نے اس کے کان میں ایک منتر پھونکا اور ’’ ایک بابا ‘‘ سے ملنے کا سجھاؤ دیا ۔ دکان دار نے ’’ بابا ‘‘کی منت سماجت کرکے اپنی بیکاری کا رونا رویا ،’’ بابا ‘‘نے اپنے ہاتھ سے دکاندار کو ایک تعویز لکھ کے دیا اور تاکید کی کہ اس سے دکان کے اوپر دھاگے سے باندھ کر رکھا جائے ،اب اس کی دکانداری کافی تیزی سے چلنے لگی ، دوسرا دکاندار بہت پریشان ہوا ،اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ، آخر اس سے پتہ چلا کہ ماجرا یوں ہے ،اس لئے ایک روز اس نے موقعہ پاکر یہ تعویز اس کی دکان سے چرا کر کھول دیا ،، جس پر صرف اتنا لکھا تھا کہ ’’ اے لوگو چرس پینا گناہ ہے ،، لیکن اگر پینا ہی چاہتے ہو تو اسی دکان سے خر ید کر پیا کرو ‘‘ ظاہر ہے سبھی ان پارٹیوں کا مال ایک جیسا ہی ہے لیکن عوام نے یہی فیصلہ لیا کہ بہتر دکان ہماری گلیاروں کی ہی رہے گی ۔