سرورق مضمون

ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج ظاہر/ جموں میں بی جے پی اور کشمیر میں الائنس کو برتری

ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج ظاہر/ جموں میں بی جے پی اور کشمیر میں الائنس کو برتری

سرینگر ٹوڈےڈیسک
جموں کشمیر کو یونین ٹیریٹری بنائے جانے کے بعد جموں کشمیر میں پہلی بار ضلع ترقیاتی کونسلوں کے لئے انتخابات عمل میں لائے گئے ۔ 5 نومبر کو شروع کئے گئے انتخابی عمل 21دسمبر کو مکمل ہوا اور 22 نومبر کو ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ہوئی ۔ اسی روز دوپہر تک انتخابی نتائج منظر عام پر لائے گئے ۔ دو نشستوں کے لئے ووٹ شماری روک دی گئی ۔ باقی تمام نتائج سامنے لائے گئے ۔ ووٹ شماری کے حوالے سے کسی بھی حلقے کی طرف سے کوئی شکایت تاحال سامنے نہیں آئی ۔ اس سے لگتا ہے کہ تمام حلقے نتائج کے بارے میں پوری طرح سے مطمئن ہیں ۔ تاہم اپوزیشن خاص کر پیپلز الائنس نے الزام لگایا کہ انہیں الیکشن مہم چلانے سے روکا گیا ۔ ادھر الیکشن عمل کے فوری بعد جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے پریس کانفرنس میں تمام الزامات کو مسترد کیا اور دعویٰ کیا کہ تمام پارٹیوں اور امیدواروں کو آزادی سے الیکشن مہم چلانے میں مدد دی گئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات صاف وشفاف اور آزادانہ طریقے سے منعقد کئے گئے ۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ نے میڈیا نمائندوں کے سامنے بولتے ہوئے انتخابات کو مجموعی طور پر امن قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا اور انتخابات میں لوگوں نے کھل کر حصہ لیا ۔ فوج کا کہنا ہے کہ جنگجووں نے انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی ۔ تاہم سیکورٹی حلقوں کی مدد سے ان کوششوں کو ناکام بنایا گیا ۔ ادھر کئی حلقوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ علاحدگی پسندوں کی طرف سے الیکشن کے حوالے سے کوئی خاص بیان نہیں دیا گیا ۔ یاد رہے کہ پچھلے تیس سالوں کے دوران علاحدگی پسندوں کی کوشش رہی کہ الیکشن کو نہیں ہونے دیا جائے اور لوگوں کو انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر زور دیا گیا ۔ آج پہلی بار ایسا ہوا کہ الیکشن روکنے کے لئے کوئی خاص مہم نہیں چلائی گئی۔ اب جبکہ انتخابی نتائج سامنے آئے ہیں ان پر مختلف حلقے اپنے طور سے تجزیہ پیش کررہے ہیں ۔ انتظامیہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ انتخابی عمل کو پر امن طریقے سے اختتام کو پہنچایا گیا ۔
ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے لئے کشمیر میں 50 فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔ یہاں کئی علاقوں میں لوگوں نے پولنگ بوتھوں پر آنے سے احتراز کیا ۔ جنوبی کشمیر کے کئی دیہات میں ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا ۔ پلوامہ میں سب سے کم ووٹ ڈالے گئے اور ایک دو جگہوں پر نامعلوم نوجوانوں نے ووٹنگ کو روکنے کی کوشش کی ۔ پلوامہ میں پہلے مرحلے پر دس فیصد سے کم ووٹ ڈالے گئے ۔ یہ عمل آگے بڑھنے کے ساتھ ووٹ ڈالنے کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی ۔ تاہم پلوامہ اور شوپیان میں باقی علاقوں کی نسبت بہت ہی کم ووٹ ڈالے گئے ۔ اس کو وہاں کی انتظامیہ کی نااہلی قرار دیا جارہاہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ان علاقوں میں بہت سے علاقوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح بہت کم رہی ۔ تاہم مجموعی طور پچاس فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔ اس پر انتظامیہ کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ ادھر ووٹ شماری کے بعد سرکاری طور کامیاب ہونے والوں کی جو فہرست سامنے لائی گئی ۔ اس کے مطابق دو حلقوں کو چھوڑ کر جن کے نتائج روک دئے گئے ہیں بی جے پی واحد بڑی پارٹی کے طور ابھر کر سامنے آئی ہے ۔ اس پارٹی نے کشمیر سے پہلی بار تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس سے پہلے کسی بھی انتخابی حلقے پر بی جے پی کا کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا ۔ تین حلقوں پر ملی کامیابی پر بی جے پی کے لیڈر خوشی کا اظہار کررہے ہیں ۔ بی جے پی نے جموں کے بہتر حلقوں پر کامیابی حاصل کرکے اس پارٹی کے کل ملاکر 75 امیدوار کامیاب ہوئے ۔ اس کے برعکس کشمیر میں پیپلز الائنس فار گپکار اعلانیہ نے 110 نشستوں پر جیت درج کی ۔ یاد رہے کہ یہ اتحاد پچھلے سال 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کئے جانے کے بعد وجود میں لایا گیا ۔ اس میں بی جے پی کو چھوڑ کے لگ بھگ تمام مین اسٹریم جماعتیں شامل ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ اس کے صدر اور پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی نائب صدر کے طور کام کررہی ہے ۔ پیپلز کانفرنس کے سجاد لون الائنس کے ترجمان بنائے گئے ہیں ۔ الائنس کا کہنا ہے کہ اس کے امیدواروں کو ملے ووٹ مرکز کی پالیسیوں کے خلاف دیا گیا ووٹ ہے ۔ اس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ لوگ مرکز کی طرف سے لئے گئے فیصلوں کو پسند نہیں کرتے ۔ اس وجہ سے انہوں نے الائنس کو حمایت سے نوازا ۔ ادھر آٹھ مہینے پہلے بنائی گئی اپنی پارٹی نے ان انتخابات میں 12 حلقوں پر جیت درج کی۔ اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ۔ ان پارٹیوں کے علاوہ آزاد امیدواروں نے 50 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کس ضلع میں کس پارٹی کو برتری مل کر کونسلر بنانے میں کامیابی ہوگی ۔ اندازہ ہے کہ بی جے پی کم از کم 6 ضلعوں میں اپنی برتری دکھائے گی جبکہ باقی اضلاع میں الائنس کو بالادستی ملنے کی امید ہے۔ اس حوالے سے این سی کے عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانے کی سخت کوشش کررہی ہے ۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ ان آزاد امیدواروں کو کئی طرح کے لالچ دے کر خریدا جارہاہے ۔ مرکزی وزیرداخلہ نے ضلعی کونسل انتخابات پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے یہاں کے سیکورٹی اداروں اور انتظامی اہلکاروں کو مبارکباد دی ۔ ان کا کہنا ہے کہ جیت اور ہار کی کوئی اہمیت نہیں ۔ انہوں نے انتخابات میں لوگوں کی شرکت کو جمہوریت کی جیت قرار دیا ۔ اس کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی سرکار نے الیکشن مہم کے دوران انتخابات کو ایک ریفرنڈم بنایا ۔ اب لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ۔ عمرعبداللہ کے مطابق لوگوں نے مرکزی سرکار کی پالیسیوں کو پوری طرح سے مسترد کیا ۔ اس لئے مرکزی سرکار کو لوگوں کی رائے سمجھ کر پچھلے سال لئے گئے فیصلوں کو واپس لینا چاہئے ۔ ان انتخابات کے حوالے سے ابھی تک بیان بازی جاری ہے ۔ ایک دوسرے کو ناکام اور اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلع ترقیاتی کونسلوں کے یہ انتخابات کہاں تک ماحول بدلنے کا باعث بنتے ہیں ۔