سرورق مضمون

کارگزاروزیراعلیٰ کا استعفیٰ/ ریاست پر گورنر راج کا نفاذ

ڈیسک رپورٹ/
ریاست میں ایک بار پھر گورنر راج نافذ کیا گیا ۔ 9 جنوری کو اس وقت حالات میں بڑی تبدیلی آگئی جب ریاست کے کارگزار وزیراعلیٰ نے دہلی میں ریاستی گورنر این این ووہرا سے ملاقات کی اور انہیں وزارت چھوڑنے کے اپنے فیصلے سے مطلع کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ کے لئے یہ دلیل پیش کی کہ اسمبلی کی دوبڑی جماعتیں اقتدار بانٹنے میں لگی ہوئی ہیں اور عوام باہر سخت مشکلات سے دوچار ہیں ۔ ان کا کہناتھا کہ سرحد پر ہند وپاک فوجوں کے درمیان سخت لڑائی جاری ہے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ، اس موقعے پر ایک مضبوط انتظامیہ کی ضرورت ہے ۔ ریاست کو ایک بہتر انتظامیہ فراہم کرنے کے لئے انہوں نے استعفیٰ دے دیا ۔ گورنر نے کوئی وقت ضایع کئے بغیر اپنی سفارشات صدر مملکت کو پیش کیں۔ صدر نے گورنر راج نافذ کرنے کی سفارش مانتے ہوئے گورنر این این ووہرا کو نظم و نسق ہاتھ میں لینے کے لئے کہا ۔ اس طرح سے ریاست پر چھٹی بار گورنر راج کا نفاذ عمل میں آیا۔ این سی اور پی ڈی پی ایک دوسرے پر الزام لگارہے کہ انہوں نے ریاست پر گورنر راج نافذ کرانے میں اپنا رول ادا کیا۔ وجہ کچھ بھی ہو ایک بات ظاہر ہے کہ اس حوالے سے دونوں پارٹیاں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ پی ڈی پی موجودہ اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے روپ میں موجود ہے۔ اس جماعت کے پاس اٹھائیس ممبران کی حمایت حاصل ہے جبکہ بی جے پی کوپچیس ممبران کے ساتھ دوسری بڑی جماعت کی حیثیت حاصل ہے ۔ ادھر صورتحال یہ ہے کہ پی ڈی پی کو این سے اور کانگریس کی حمایت کے علاوہ کئی آزاد ممبران کا بھی سپورٹ حاصل ہے ۔ لیکن پارٹی نے یہ سپورٹ لے کر حکومت بنانے سے انکار کیا۔ پی ڈی پی اس پر بضد ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر ہی حکومت بنائے گی۔ دونوں پارٹیوں کے بھیچ زمین و آسمان کا فاصلہ پایا جاتا ہے ۔ ایک پارٹی کشمیر حمایتی ہے جبکہ دوسری کھل کر کشمیر مخالف ۔ پی ڈی پی اپنے سیکو لر نظریے کے باوجود مسلم ووٹوں پر انحصار رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کو ساری حمایت کشمیر سے ملی جبکہ بی جے پی کی تمام پچیس نشستیں جموں کے عوام سے ملی ہیں ۔ بی جے پی کو جموں میں ہند و ووٹ مل کر یہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں ۔ اس کے برعکس انہیں کشمیر اور لداخ سے ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ اس کے باوجود الیکشن کے بعد دونوں بڑی جماعتوں نے مل کر حکومت بنانے کے لئے مذاکرات شروع کئے جو کافی دن گذرنے کے بعد بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔ اس وجہ سے معلق اسمبلی کوئی حکومت دینے میں کامیاب نہ ہوئی اور گورنر راج کے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہ تھا ۔ اس کا فائدہ اٹھاکر مرکز نے ریاست پر اپنا کنٹرول حاصل کیا ۔
پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ ریاست میں لوگوں کی مشکلات کے پیش نظر مرکز کے تعاون کے بغیر حکومت چلانا ممکن نہیں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وادی میں ستمبر میں آئے سیلاب کی وجہ سے امداد کے لئے ایک بڑی رقم کی ضرورت ہے اور ریاست از خود اس رقم کا انتظام نہیں کرسکتی ہے ۔ اس سیلاب کا سب سے زیادہ اثر وادی کے ضلع سرینگر اور پلوامہ پر پڑا تھا جہاں سے پی ڈی پی کو بارہ میں سے نو سیٹیں ملی ہیں ۔ اپنے ووٹروں کو پارٹی کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اقتدار میں شریک بننے کے لئے پی ڈی پی نے دفعہ 370 اور افسپا کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔ ان دو مدعوں پر بی جے پی کے لئے کوئی سمجھوتہ کرنا مشکل ہے ۔ بی جے پی کو کشمیر سے زیادہ دہلی میں اقتدار حاصل کرنے کی فکر پڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کوشش ہے کہ اپنے ایجنڈا میں کوئی نرمی نہ لائے۔ پی ڈی پی کے ساتھ سمجھوتہ کرکے بی جے پی دہلی میں اپنی پوزیشن کمزور کرنا نہیں چاہتی ہے۔ اس وجہ سے بھی اس نے گورنرراج کو بہتر طریقہ مان لیا ۔ اب ریاست میں اسمبلی معطل رکھی گئی اور گورنرراج نافذ کیا گیا ہے۔ گورنر نے سب سے پہلے ریاست کے چیف سیکریٹری سے مل کر ان سے مشورہ کیا اور اقتدار پر براجمان ہونے کا اعلان کیا۔ اس طرح سے عوام میں حکومت کے حوالے سے جو مباحثے جاری تھے وہ سرد پڑ چکے ہیں اور سیاسی صورتحال پر چہ مے گوئیاں ختم ہوگئی ہیں۔