مضامین

کانگریس، نیشنل اور پی ڈی پی ریاستی عوام کے مجرم

کانگریس، نیشنل اور پی ڈی پی ریاستی عوام کے مجرم

گذشتہ دنوں ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو ریاستی عوام کا مجرم قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ ووٹنگ کے ذریعے اپنے ان تینوں مجرموں اور گنہگاروں کو سزا دے کر انہیں اپنی غلطیوں کا احساس دلائیں، مودی نے کانگریس کے بارے میں کہا کہ یہ موقعہ پرست پارٹی اقتدار کے لئے انتخابات کے دوران ریاست کی سیاسی جماعتوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپتی ہے۔ نیشنل کانفرنس ہو یا پی ڈی پی کانگریس ہر کسی کے ساتھ حکومت میں شامل ہو کر اقتدار کے مزے لوٹتی ہے اور جب الیکشن کا وقت آتا ہے تو انہی پارٹیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپتی ہے۔ انہوں نے کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے خاندانی راج کے بارے میں عوام سے سوالیہ انداز میں پوچھا۔ کیا ریاست کے لوگوں میں ہمت نہیں ہے۔ کیا یہاں باپ بیٹا اور باپ بیٹی ہی حکومت کر سکتی ہیں، کیا یہاں اس ریاست میں حکومت کرنے کے قابل کوئی اور نہیں ہے۔ خاندانی حکومت کبھی آپ کی آواز نہیں بن سکے گی۔ کانگریس نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی یہ تینوں مجرم اور گنہگار ہیں۔ ان کو ووٹ کے ذریعے سزا دینا آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کیوں اور کس لئے بار بار منتخب کرتے ہیں۔ ان کی ناقص کارکردگی ، لوٹ کھسوٹ دھاندلی دیکھ کر بھی آپ ان کو اعتماد اور ووٹ دے کر اپنے لئے مصیبت مول لیتے ہیں۔ آپ کو اب کی بار اپنے مجرموں اور گنہگاروں کو سزا دینی پڑے گی تاکہ انہیں ان کی غلطیوں کا احساس ہوجائے۔ جذبتی بلیک میلنگ رشوت ستانی اور لوٹ کھسوٹ ریاست کے سیاستدانوں کی عادت بن گئی ہے۔
عوام نے برسوں سے کانگریس کی خاندانی حکمرانی دیکھی ہے۔ ریاست میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کا خاندانی راج بھی دیکھا ہے۔ لہٰذا اب ان کو خیر باد کہہ کر بی جے پی کو آزمائیں۔ ہمیںجموں وکشمیر میںتعمیر و ترقی کو نئی اونچائیوں تک لیجانے اور کورپشن کا خاتمہ کرنے کیلئے ایک موقعہ دیجئے۔ انتخابت میں لوگوں سے بھاجپا کیلئے واضح منڈیٹ طلب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ صرف اسی صورت میں ریاست کو تعمیر و ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچایا  جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کی بھاری شرح پر اطمینان کا اظہار کیا اور لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لوگ جمہوری طور طریقوں سے اپنا مقدر بدلنا چاہتے ہیں اور انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ووٹ ہی بندوق سے زیادہ طاقتور ہے۔ انتخابات میں بھاری شرکت کر کے عوام نے اس بات کا واضح ثبوت فراہم کیا ہے انہیں طاقت کے بل پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے روکا نہیں جاسکتا۔ وزیراعظم نے جموں کشمیر کا بار بار دورہ کرنے کے بارے میں بتایا کہ وہ کسی بھی صورت میں ریاستی عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا’’ میں پہلی بار کچھ مانگنے کے لئے جموں کشمیر آیا ہوں، یہاں کے لوگوں نے مجھے جس قدر پیار دیا ہے، مجھے امید ہے کہ وہ مجھے مایوس نہیں کریں گے، میں یہ پیار سود سمیت لوٹا دوں گا۔ نریندر مودی نے کہا’’ مجھے ٹوٹا پھوٹا منڈیٹ نہیں چاہیے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں؟ آپ بی جے پی کو واضح منڈیٹ دیں گے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ریاست ایسی ترقی کرے گی جو گزشتہ دہائیوں میں بھی نہ ہوئی‘‘۔ آپ کے خواب میں پورے کرں گا، مایوس نہ ہوں، تم اقتدار میں آئے تو ریاست وسیع پیمانے پر ترقی کرے گی۔ میں ایک خادم کی حیثیت سے آیا ہوں، آپ کی پریشانی میری پریشانی ہے، آپ کا درد میرا دورد ہے، آپ کا مسئلہ میرا مسئلہ ہے، میں یہاں سے کچھ لینے کے لئے نہیں آیا ہوں۔‘‘
وزیراعظم نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہو گی ملک کی سالمیت اور خود مختاری کی طرف کسی کو آنکھ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریاست کا چپہ چپہ بھارت کا ہے اور یہاں کے لوگ جمہوری عمل سے اپنے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ امن و امان کو قائم رکھنا میری اولین ترجیح ہو گی کسی کو بھی امن و امان میں رخنہ ڈالنے، لوگوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ ہم عسکریت پسندوں کے منصوبوں کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ ملک دشمن سرگرمیوں کو روکنے کے لئے ملک کا عوام فوج کی پشت پر ہے ہم ایک ہیں اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ حدمتاکہ پر جنگ معاہدے کی خلاف ورزی کو بھارت کے لئے ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے وزیراعظم  نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ کئی برسوں سے بھارت کے خلاف درپردہ جنگ شروع کر دی گئی ہے اور میں ہمسایہ ملکوں کو یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ بھارت اتنا کمزور نہیں ہیں کہ وہ اس جنگ سے نمٹ نہ سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنی حفاظت کرناجانتے ہیں اور سرحدوں پر کسی بھی فوج یا جارحیت کے عزائم کو ناکام بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ہمسایہ ملک کو یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ بھارت مضبوط مستحکم ملک کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا ہے بہتر ہمسائیگی کے رشتوں کو بھی نبھانا چاہتے ہیں۔